بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر 27

 بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارکsita white

اسی دوران، جوہن ارسِک کے وکیل، وکی رابرٹس نے یہ بتانے کیلئے نکسن کو فون کیا کہ اگر سیکس بیز سے سیتا کے پیسے لینے کی کوششیں کامیاب ہو گئیں تو نصف حصہ اس کے مؤکل کا ہو گا۔ نکسن کو یہ سن کر شدید مایوسی ہوئی۔اس نے اسے بتایا کہ سیتا کہتی تھی، ’’یہ ٹیرن کا حصہ ہے۔ یہ سب اس کی ملکیت ہے۔‘‘ یوں دونوں جوانب سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر دیا گیا اوردونوں کا اختلاف لڑائی کے آغاز کا سبب ثابت ہوا۔
سیتا کی آخری رسومات کے روز،نکسن کیمی لری کہتا ہے کہ اس نے وکٹوریہ کو فون کیا، اس سے سیتا کے آخری لمحات کے متعلق پوچھنے کیلئے اور یہ پوچھنے کیلئے کہ کیا وہ سیتا کی آخری رسومات میں یہاں شریک ہو گی یا کیرولینا کی جانب سے منعقد کردہ رات کی سروس میں شریک ہو گی۔وکٹوریہ نے اسے کہا کہ وہ اتنی مصروف ہے کہ اس سے بات بھی نہیں کر سکتی اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کو لے کر ایک لمبی سیر پر جا رہی ہے لہٰذا وہ ان میں سے کسی بھی تقریب میں شریک نہیں ہو گی۔ اس نے بعد ازاں ’’وینیٹی فیئر‘‘ کو بتایا کہ وہ ان تمام کالز کے سبب بہت زیادہ حواس باختہ ہو گئی تھی جو اس نے ان لوگوں کی جانب سے وصول کی تھیں، جنہیں وہ نہیں جانتی تھی۔ اس نے سیکس بیز کے ساتھ اپنے کسی قسم کے تعلق اور ستا کی موت کے دن اپنے کسی بھی قسم کے کردار کو بالکل مسترد کر دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *