انویسٹمنٹ بینک کی خریداری، بحریہ ٹاؤن کی بولی روک دی گئی

کراچی: کیپٹل مارکیٹس کی نگرانی کرنے والے ریگولیٹری ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)bahria town نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو رواں ماہ 7 فروری کو جاری کیا گیا پبلک نوٹس 'فوری طور پر منسوخ' کرنے کی ہدایت کردی، جس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے نان بینکنگ فنانس کمپنی ایسکورٹس انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اے کے ڈی سیکیورٹیز نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو درخواست بھیجی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ 71.16 فیصد شیئرز کی خریداری کے ساتھ بحریہ ٹاؤن مذکورہ بینک کا انتظامی کنٹرول بھی سنبھالنے کی خواہش رکھتا ہے۔

تاہم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے کہا ہے کہ 'ای آئی بی یا اس کے اسپانسرز کی جانب سے مممکنہ سرمایہ کاری کے حوالے سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی'۔

واضح رہے کہ نان بینکنگ فنانس کمپنی کی خریداری کے امیدواروں کو این بی ایف سی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

ایس ای سی پی نے اپنے بیان میں کہا، 'یہی وجہ ہے کہ اے کے ڈی سیکیورٹیز کی جانب سے ای آئی بی بینک کے 71.16 فیصد شیئرز کی ممکنہ خریداری یا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے جاری کیا گیا عوامی نوٹس نہ تو موثر ہے اور نہ ہی مناسب'۔

ایس ای سی پی نے اے کے ڈی سیکیورٹیز کو یہ ہدایات بھی دیں کہ وہ انویسٹمنٹ بینک کی خریداری کے حوالے سے بحریہ ٹاؤن کی اظہار دلچسپی کے نوٹس اخبارات میں شائع نہ کروائے.

ساتھ ہی ایس ای سی پی نے ای آئی بی اور اس کے اسپانسرز سے کہا کہ وہ ریگولیٹری ادارے سے پیشگی اجازت کے بغیر بحریہ ٹاؤن کو 'حصص کی فروخت کے حوالے سے کسی قسم کے مذاکرات یا انتظامات کو آگے نہ بڑھائے'۔

واضح رہے کہ کمرشل بینکوں کے برعکس، جن کا ریگولیٹری ادارہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ہے، انویسٹمنٹ بینک سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے زیر انتظام آتے ہیں۔

گزشتہ برس بحریہ ٹاؤن نے برج بینک کے حصص خریدنے اور اس کا انتظام سنبھالنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس کی درخواست مسترد کردی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *