اُس نے مجھ پر چاقو کےتئیس وار کیے،مگر آج بھی آزاد ہے

khadija siddiqخدیجہ صدیقی

10 ماہ قبل 3 مئی 2016 کو میں نے ایک ایسے حادثے کا سامنا کیا جس نے میری زندگی بدل دی۔ جب بھی میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو کانپ جاتی ہوں۔ یہ کوئی انسانی مخلوق کاکام نہیں تھا۔ وہ لمحہ میرے دماغ میں ایک برے خواب کی طرح پیوست ہے جس سے میں کسی صورت جان نہیں چھڑا پا رہی۔ جیسے ہی فون بجا، سامنے والے شخص کی بات سن کرفون سننے والے کی  چیخ نکل گئی۔ فون کرنے والے شخص نے کہا کہ آپ کی بیٹی پر چاقو سے حملہ ہوا ہے۔ فورا سروسز ہسپتال آجائیے۔ جیسے ہی میرے والد کو یہ کال موصول ہوئی وہ بہت پریشان ہو گئے۔

میں سوچ بھی نہیں سکتی ان پر کیا گزری ہو گی اور میری ماں نے کیسے اپنے آپ کو مضبوط دکھانے کی کوشش کی ہو گی۔ میں نہیں بھول پاتی جب میری ماں میری دوستوں مریم اور ماریا کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اس خبر نے میرے پورے خاندان میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ میں ہر شخص کے لیے دعا گو ہوں جس نے میری مدد کی اور میری ہمت بڑھائی۔ جو حملہ میرے اوپر ہوا وہ میں کسی دشمن سے بھی توقع نہیں کر سکتی تھی۔ اس حملے نے مجھے اور میرے خاندان کو جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بہت بری طرح متاثر کیا تھا۔ شکر ہے خدا کا کہ اس سے نفسیاتی اثرات کسی کو لے نہیں ڈوبے۔

میں اس دن اپنی بہن صوفیہ کو سکول سے لینے گئی تھی۔ میں ایمبیسیڈر ہوٹل کے باہر اپنی گاڑی کے پاس کھڑی تھی جہاں سے سکول چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ جیسے ہی میری بہن کار میں داخل ہوئی ہیلمٹ پہنے ایک شخص پیچھے سے بھاگتا ہوا ٓیا، مجھے کار کے اندر دھکیلا اور مجھ پر چاقو کے 23 وار کیے۔ اس نے ہر وار میں اپنی پوری قوت صرف کی۔ جب صوفیہ نے مجھے بچانے کی کوشش کی تو حملہ آور نے اس پر بھی چاقو سے حملہ کیا۔ ڈرائیور نے بھی حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی۔ جب جھگڑے کے دوران اس کا ہیلمٹ اترا تو وہ چاقو لہراتا ہوا اور دھکمیاں دیتا ہوا بھاگ گیا۔ صوفیہ جو بہت گھبرا گئی تھی نے پوچھا، دیج، آپ ٹھیک ہو؟

مجھے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ مجھے لگا میری زندگی کچھ ہی لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ میں کلمہ کا ورد کرنے لگی۔ میں نے صوفیہ کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن ایک لفظ بھی نہ بول پائی۔ میں صرف کاروں کی آواز سن پا رہی تھی۔ وہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے لیکن ایک بھی میری مدد کو نہیں آیا۔ وہاں ٹریفک وارڈن ، ڈولفن فورس اور دوسرے قانون کے اداروں کے افراد موجود تھے لیکن کوئی میری مدد کو نہیں آیا۔ میری کار بھی ایمبیسیڈر ہوٹل کے پاس کھڑی تھی جہاں اتنے لوگ موجود ہوتے ہیں۔

اس دن میرے کپڑے بھی بدن کو چھوتے تو تکلیف سے جان نکل جاتی۔ اگر وہ مجھے گیسولائن ڈال کر آگ لگا دیتا تو شاید تکلیف کم ہوتی۔ میرے جسم سے 10بوتلیں خوب بہا۔ میری گردن، بازو اور دوسرے جسمانی حصوں پر 200 ٹانکے لگے۔ کئی جگہوں پر سرجری کروانا پڑی اور 5 دن تک میں بے ہوش رہی۔ میری جان بھی معجزانہ طریقے سے بچی کیونکہ چاقو میری آنتوں سے کچھ فاصلے سے گزر گیا۔ اس دوران تکلیف اور پھر ٹانکوں کا درد اور یہ سب میں اپنے الفاظ میں پوری طرح بیان نہیں کر سکتی۔

میں بیڈ پر لیٹی سوچ رہی تھی کہ میں نے اس کے ساتھ کیا برا کیا ہے؟ وہ تو میرا کلاس فیلو طالب علم تھا اور ہم 2 سال سے ایک ہی ادارے میں پڑھ رہے تھے۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ جرم کوئی بھی اجنبی نہیں کر سکتا تھا۔ یونیورسٹی کے پہلے سال کے اختتام تک وہ میرا دوست تھا یا شاید مجھے ایسا لگتا تھا۔ بعد میں اس کے بدلتے ہوئے رویے اور دھمکیوں سے  خوفزدہ ہو کر میں نے اس سے بولنا چھوڑ دیا۔ لیکن ہمارے درمیاں کوئی دشمنی نہیں تھی  اور دوسرے سال کے دوران ہم صلح  جوئی کے ساتھ وقت گزارا ۔ جب آخری امتحان کے تین دن بچے تھے تب اس نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔

یہ باتیں میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں بتا رہی بلکہ  اس ملک کے قانون کے نفاذ کی کوتاہی  اور عدالتی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرنے کے لیے بتا رہی ہوں۔ ہمارا عدالتی نظام خونخوار درندوں کو اس وقت تک کھلی چھٹی دیے رکھتا ہے جب تک وہ شخص قتل نہ کر ڈالے اور ایسے بڑے جرائم کے بعد بھی مجرموں کو کوئی سزا نہیں دی جاتی۔ میرا مقصد انصاف کے لیے لڑنا اور اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ اسے کس نے حق دیا کہ میری قسمت کا فیصلہ کرے؟ اسے کون یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی عزت نفس کے لیے میری زندگی کے تقدس کو پامال کرے؟ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس چیز نے اسے یہ حق دیا کہ ہم ہر وقت خوف کی حالت میں رہیں اور وہ کھلے عام گھومتا رہے؟

 

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بااثر خاندان سے ہے اور سیاسی بیک گراونڈ رکھتا ہے؟ یا پھر اس کا باپ ایک سینر وکیل ہے جس کا نہ صرف پولیس بلکہ عدالت پر بھی اثر و رسوخ ہے؟  ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سینیارٹی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بڑھ جاتا ہے  لیکن اس معاملے میں تو الٹا حساب ہے۔ یہاں تو وکلا اور ان کے دوست اور سیاستدان مافیا ہیں جو اپنے بچوں کو سزا سے بچاتے ہیں ۔ کیا صرف وہ حملہ کافی نہیں تھا جو اب اس کا خاندان ہمیں کیس واپس لینے کی دھمکیاں دے رہا ہے؟ میں تھک چکی ہوں۔ پہلے میں نے زندگی کے لیے موت سے جنگ لڑی اور اب انصاف کے لیے لڑ رہی ہوں۔

میری بہن اور ڈرائیور نے اس کی شناخت کی اور کار سے جو ثبوت ملے اس سے اس شخص کا جرم ثابت ہو تا ہے لیکن پھر بھی مجھے ابھی تک انصاف نہیں مل رہا ہے۔ جب کوئی مجرم عدالت میں حاضر نہیں ہوتا تو ا سکے خلاف ایکشن ہونے چاہیے لیکن یہاں لوگ مختلف بہانوں سے کیس کی تاریخ بڑھاتے رہتے ہیں۔ میرے مجرم کے پاس بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کا عدالت سے غیر حاضر رہنے کا رویہ اس کے جرم کی مزید تصدیق کرتا ہے۔ ان کے لیے ججوں پر اپنی دھاک بٹھانا، گالیاں دینا اور رشوت دینا عام سی بات ہے۔

جب کوئی جج گناہ گار کے گناہ سے واقف ہونے کے باوجود اسے ضمانت دیتا ہے تو وہ انصاف کا خون کرتا ہے۔ اسے بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ اگر یہاں ان کے خلاف انصاف نہ بھی ملا تو اگلے جہاں میں ضرور ملے گا۔ سورہ المائدہ کی آیت 45 کے مطابق مجھے اختیار ہے کہ میں اسے 23 بار چاقو سے زخمی کروں  اور اپنا بدلہ لوں۔ لیکن میں ایسا نہیں کروں گی۔ میں اس کی طرح گروں گی نہیں۔ میرے اندر ہمت باقی ہے اور میں لڑتی رہوں گی جب تک میرے مجرم کو سزا نہیں مل جاتی۔

میں اس مردوں کے زیر اثر اور سیاسی طاقت کے مائنڈ سیٹ والے معاشرے کے ظلم کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گی۔ انصاف کی جنگ تبھی شروع ہوتی ہے جب ایک عورت اپنی حقوق کے لیےمضبوطی سے لڑتی ہے۔ مجھے اپنے جسم پر لگے زخموں کی درد نہیں بلکہ یہ چیز پریشان کرتی ہے کہ مجرم کھلے عام دندناتا پھر رہا ہے ۔ ایسے مجرموں کو کھلی چھوٹ دینے کا مطلب مزید لوگوں کو ایسے جرائم پر اکسانا ہے۔ پاکستان ، تم مجھ سے وعدہ کرو کہ سچ کی جیت ہو گی اور جھوٹ مٹ جائے گا۔

 میرا کیس جسٹس یاور علی کے ہاتھ میں ہے میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ انصاف کریں اور انصاف میں دیر نہ کریں۔ اس کے لیے تمام ثبوت اور گواہوں کے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے مجرم کو سزا دیں۔ میں انصاف اور اپنے جائز حقوق کے لیے لڑ رہی ہوں۔، کیا ہماری عدلیہ سے انصاف مانگنا بھی گناہ ہے؟ کیا میرا حق نہیں ہے کہ میں یہ سن کر سکون کے ساتھ سو سکوں کو اب میں خطرے سے باہر ہوں اور میرے مجرم کو قانون کے مطابق سزا مل گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *