بندر کا تماشا

inspecter

ٹی وی پر جب پچھلے سالوں میں اچانک کثیر تعداد میں نیوز چینل نمودار ہوئے تو عام لوگوں کے ذہن و ضمیر نے جیسے قبول کر لیا تھا کہ اب بے لاگ تبصرے ہوں گے اور بلا جھجھک تجزیے ہوں گے ۔ ظاہر ہے تبصرے اور تجزیے ٹی وی پر دیکھے بھی جائیں گے اور سنیں بھی جائیں گے اور ہمیں ان لوگوں تک شناسائی بھی ہو جائے گی جنہیں ملک کا تھنک ٹینک کہا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کسی موضوع پر تجزیہ اور تبصرہ کوئی ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جسے نہ صرف اس موضوع پر پوری دسترس ہو بلکہ اس کو ہر زاویے سے دیکھنے کا ملکہ بھی حاصل ہو۔ جب ملک میں صرف ایک ہی ٹی وی سٹیشن ہوا کرتا تھا تو لوگ صرف ایک ہی زاویے ہر کسی موضوع کو سن سکتے تھے اور وہ زاویہ نگاہ تھا جو حکومت کا زاویہ نگاہ تھا۔ بڑے دنوں لوگوں نے تھنک ٹینک نظروں سے دیکھنے کے لئے ان چینلز پر اتنے غور سے نگاہیں گاڑیں کہ بہتوں کی نگاہیں ایسی ہو گئیں کہ اگر وہ اب آپ کی طرف بھی دیکھ رہے ہوں تو یوں لگتا ہے کہ وہ دائیں طرف پڑے ٹی وی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور کئی دفعہ تو ایسے لوگوں سے بات کرتے وقت انہیں جھنجھوڑ کر دیکھنا پڑتا ہے کہ کیا وہ واقعی آپ ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ جب تھنک ٹینک دیکھنے کے شوق میں آدھی سے زیادہ دنیا "ٹیری" ہو گئی تو پھر ان کو ایک اور بھی احساس ہوا کہ یہ تو انکی قوت سماعت کمزور ہو گئی ہے یا پھر واقعی اس ملک کے تھنک ٹینک نے چورن بیچنا شروع کر دیا ہے۔ جلد ہی یہ نیوز چینل انٹرٹینمنٹ چینل کا رتبہ اختیار کر گئے اور ایسے تجزیہ نگاروں کو "لائسنس ٹو ٹھرل" مل گیا کہ وہ بندر کا تماشا دکھاتے دکھاتے اچانک "ٹیری" خلقت کو کوئی ایسی تھرل دیں جن سے ان کے کلیجے ہل ول جائیں۔ یہ بندر کا تماشا دکھانے والے صاحب جو اور بھی بہت سے تماشے پہلے کر چکے ہیں ایک بات کو اتنی بار دہرا کر کرتے ہیں کہ بے اختیار بچپن کے سکول کے دن یاد آ جاتے ہیں جب گھر سے مطالعہ پاکستان کا پرچہ دینے جاتے تھے تو مصمم ارادہ کرکے کہ سوال کا جواب آتا ہو یا نہیں ہم نے شیٹیں زیادہ لگا کر آنی ہیں اور شیٹیں تب ہی زیادہ لگ سکتی تھیں جب موضوع کے بارے میں معلومات کم ہوں اور ہم صرف اناپ شناپ لکھیں اور بار بار لکھتے رہیں اور پھر لکھتے رہیں ۔ میں جب بھی ہاتھ میں ریموٹ لے کر ان چینلز کی سرفنگ کے لئے نکلتا ہوں اور درمیان میں یہ بندر کا تماشہ لگائے صاحب آتے ہیں تو بے اختیار مجھے مطالعہ پاکستان کے پیپر میں لگائی گئی شیٹس یاد آتی ہیں۔ پھر مجھے آج کی دکانیں لگائے ان نام نہاد تجزیہ نگاروں کے تجزیوں سے گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں رہنے والی دو قسم کی مائیاں بھی یاد آتی ہیں۔ مائیوں کی ایک قسم ایسی ہوتی تھی جو ایک جگہ پر اپنی جیسی مائیوں کو جمع کرکے بیٹھی ہوتی تھی اور اپنی عمر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی غلط باتیں بڑے مدلل انداز میں پیش کیا کرتی تھی اور دوسری قسم کی مائیوں کی قسم وہ تھی جو لوگوں کے گھروں میں چل پھر کر بے لاگ تجزیے پیش کیا کرتی تھی۔ تجزیے ایک سے ہوتے تھے ایک گھر کا تجزیہ دوسرے گھر میں اور اس گھر کا تجزیہ پچھلے گھر میں کیا کرتی تھی۔

یہ تجزیے عام طور پر اپنی گھروں کی بہو بیٹیوں اور بگڑے ہوئے بیٹوں کے بارے میں ہوتے تھے ان تجزیہ نگار مائیوں کو عرف عام میں "بی جمالو" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بی جمالو مائیوں کے ہاتھ میں ہتھیار کے طور پر ماچس کی تیلی اور سرخ مرچوں کی پوٹلی ہوتی تھی۔ یہ کبھی ماچس کی تیلی سے آگ لگایا کرتی تھیں اور کبھی حاسدوں کے زخموں پر سرخ مرچیں چھڑک کر داد وصول کیا کرتی تھیں۔ آج کے تجزیہ نگاروں میں بھی مجھے کچھ پہلے قسم کی مائیوں کی جھلک نظر آتی ہے وہ پروگرام شروع کرنے سے پہلے اللہ محمدﷺ کا نام لے کر گویا پروگرام کے سچے تجزیہ نگار ہونے کا اعلان کرتے ہیں پرانی مائیاں یہی کرتی تھیں اور بندر کے تماشے والے صاحب مجھے دوسری قسم کی مائی لگتی ہے جس کے ہاتھ میں دیا سلائی ہوتی تھی۔ یہ صاحب بھی ہتھیار کے طور پر دیا سلائی ہاتھ میں رکھ سکتے تھے اگر محاورۃ بندر کے ہاتھ میں دیا سلائی دی جا سکتی تو۔ فیصل آباد میں ایک سینئر پروفیسر ڈاکٹر سلیمہ قیصرہ ہوتی تھیں ان کے پاس میڈیکل ریپ جاتے تو وہ ان کی دوائی جو وہ پروموٹ کر رہے ہوتے تھے کے بارے میں کوئی سوال کرتیں اور خدانخواستہ وہ میڈیکل ریپ جواب نہ دے سکتا تو وہ ڈاکٹر ایسے میڈٰکل ریپ کے منہ پر "کھرونڈے" مار دیا کرتی تھیں کہ تم نے میرا وقت کیوں ضائع کیا اب شائد حفضان صحت کے اصولوں کے مطابق ہم ناخن اتنی جلدی کاٹ لیتے ہیں کہ "کھرونڈے" مارنے کے قابل نہیں رہے یا پھر اس طرح کے تماشے ہمیں صرف ٹی وی سکرین پر نظر آتے ہیں یہ بندر کا تماشہ انہوں نے کسی گلی محلے میں لگایا ہوتا تو اب تک ہماری کئی معزز خواتین اور بابے کھرونڈوں سے اس کا منہ نوچ چکے ہوتے ۔ کیونکہ ان کے بچوں کا جو وقت ضائع کرے اور ان کے دماغوں کو خراب کرے وہ اس کا منہ ہی نوچیں گے اور کیا کریں گے۔

کئی پرانی اور حقیقی سیانی مائیوں کے تجزیے بڑے مدلل اور حقیقت پسندانہ بھی ہوتے تھے۔ محلہ پر ان مائیوں کی کمزور نظر بادی النظر میں عقاب کی نظر ہوتی تھی وہ دو دن پہلے ہی پشین گوئیکر دیتی تھیں کہ "چھیماں" نے "نثار" کے ساتھ کب فرار ہونا ہے ۔ بلکہ وہ توٹرین کا بھی بتاتی تھیں کہ کونسے پلیٹ فارم پر رکے گی اور چھیماں نے کس رنگ کی "پھلاں والی کڑتی" پہنی ہوگی۔ تو عرض کرنے کا مطلب ہے کہ اگر اردگرد کے مشاہدے سے اتنی معلومات حاصل ہو سکتی ہوں تو تجزیہ نگاری کے لئے بندر کا تماشہ لگانے کی کیا ضرورت ہے ماچس کی تیلی ہاتھ میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ اتنی مہنگی اور خوبصورت نظر کی عینکیں افورڈ کرتے ہیں تو ذرا اردگرد پر ہی نظر رکھ لیا کریں جو سودا آپ بیچ رہے ہیں اس سے مزیدار تو وہ "سرتاج کی آلو چھولے والی چاٹ" ہے جو ہر محلے میں بکتی ہے ۔ اگر زعم ہے کہ لوگ آپ کی تجزیہ نگاری کو سراہتی ہے تو اپنا منجن کسی گلی محلے میں بیچئے تو جتنے لوگ آپ اکٹھا کر سکے اس سے آٹے دال کے بھاؤ کا علم ہو جائے گا۔ جس طرح عقل کہتی ہے کہ امام مسجد جو خطبہ دیتے ہیں ان کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے صرف مولوی کا بیٹا ہونا ضروری نہیں۔ جس طرح سب کہتے ہیں کہ دوسروں کی طرح چنگ چی رکشے والوں کے بھی ڈرائیونگ لائسنس ہونا ضروری ہیں کیونکہ وہ بہت بے ضرر لگتے ہیں اگر ہم انہیں رکشے کے علاوہ ملیں لیکن جب یہی ان پڑھ بے ضرر نوجوان چنگ چی رکشوں پر چڑھتے ہیں تو ان کے دانت اور ناخن نکل آتے ہیں اور یہ اقبال کے مصرعے "تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں ۔۔۔۔۔۔" کے مصداق اڑنے لگتے ہیں۔ تو میری پاکستان کے عام شہری اور ٹی وی کے عام قاری ہونے کے ناطے درخواست ہے کہ ایسے اینکر یا تجزیہ نگار جو صرف بندر کا تماشہ لگاتے ہیں موضوع پر ان کی دسترس نہیں ہوتی۔ وہ صرف قیمتی عینکیں لگا کر عالم فاضل بنے ہوئے ہیں سے ہماری جان چھڑوائیں اور بے شک ان کی جگہ ان مائیوں کو بٹھا دیں جن کے پاس قیمتی عینکیں نہیں ہوتی تھیں لیکن ان کے "گویڑ" بڑے زبردست ہوتے تھے ان بے چاروں کو تو اتنی عقل بھی نہیں کہ "گویڑ" ہی اچھا لگا سکیں۔ ویسے بھی قوم کے وسیع مفاد کے لئے ضروری ہے کہ نیوز چینل نیوز چینل ہی رہیں ۔ انٹرٹینمنٹ ۔۔ انٹرٹینمنٹ اور سرف انٹرٹینمنٹ ۔۔۔۔ چینل نہ بنیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *