آپریشن رد ا لفساد ۔ خدشات اور امکانات

ammar-masood

شاید بہت سے لوگوں کو یاد ہو کہ اس ملک میں سن دو ہزار سات میں سوات میں ٓپریشن راہ حق کا آغاز ہوا۔ دو ہزار آٹھ میں باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے آپریشن کو آپریشن شیر دل کے نام سے پکا را گیا۔جبکہ سوات پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد دو ہزار نو میں آپریشن راہ راست کا آغاز کیا گیا،خیبر ایجنسی میں ہونے والے آپریشنز کو خیبر ون، ٹو اور تھری کا نام دیا گیا، جنوبی وزیر ستان میں ہونے والے آپریشن کو آپریشن راہ نجات سے کہاگیا۔دو ہزار چودہ میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا اور اب دو ہزار سترہ میں آپریشن ردالفساد پورے جوش اور جذبے سے شروع ہو چکا ہے۔اگر چہ ہر آپریشن کے مقاصد اور علاقے مختلف تھے مگر بحیثیت مجموعی ان تمام آپریشنز کا مقصد ملک سے دہشت گردی کو ختم کرنا اورشدت پسندی سے اس دھرتی کو نجات دلانا تھا۔آپریشن ردالفساد کا بنیادی مقصد ملک بھر کو اسلحے سے پاک رکھنا ، بارودی مواد کو قبضے میں لینا،سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا طے ہوا ہے۔اس آپریشن میں فضائیہ ، بحریہ،سول آرمڈ فورسز اور دیگر سیکورٹی ادارے شریک ہوں گے۔پنجاب میں اس آپریشن کے لئے رینجرز کی مدد لی جائے گی۔ اس آپریشن میں سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے اور اس کو بھرپور عوامی تائید بھی حاصل ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم اب تک دہشت گردی کی جنگ میں اپنے پچاس ہزار جوانوں کی قربانی دے چکے ہیںاوردہشت گردی کے واقعات میں شہید اور زخمی ہونے والوں والوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ، افواج پاکستان نے بہت سے محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں، بہت سے دہشت گردوں کے گروہوں کو نیست و نابود کر دیا، دہشت گردوں کے سرغنوں کو ہلاک کر دیا، جدید ہتھیار استعمال کئے گئے، ڈرون ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا گیا۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی حرکت میں رہے مگر دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں بم دھماکوں سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہ پہنچی ہو۔ لاشوں کے ٹکڑے ، خون آلود کپڑے، روتے ہوئے یتیم بچے، بین کرتی مائیں اور کراہتے زخمی ہماری روزمرہ زندگی کا منظر ہو گئے ہیں۔ ہر ذی ہوش ان پر تنقید کرتا ہے، لعنت ملامت ہوتی ہے، کارروائی بھی ہوتی ہے مگر دہشت گرد ہم سے ختم نہیں ہو رہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جنگ میں ہماری گرفت میں مسئلے کا سرا ہی نہیں آ رہا۔ افواج پاکستان کے حوصلے ، ہمت اور شجاعت پر بات کرنا مقصود نہیں ہے ۔ کچھ سماجی اور معاشرتی غلطیوں کی نشاندہی کی خواہش ہے جن کو سمجھے بغیر اس مسئلے کا تدارک ممکن نہیں ہے۔
ہم سماجی طور پر سچ کہنے کے عادی نہیں رہے نہ سچ سننا ہمارے بس کی بات رہی ہے۔ دلیل، مکالمہ اور گفتگو اب مسئلے کا حل نہیں سمجھے جاتے۔لیکن حل یہی ہیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جائے تو اسی کو آدھا علاج تصور کیا جاتا ہے۔ ہم ابھی تک تشخیص نہیں کر سکے۔ اپنے آپ سے سچ نہیں بول سکے۔
ہمیں ہمیشہ یہ بتا یا گیا کہ کوئی مسلمان ایسی گھنائونی حرکت نہیں کر سکتا ۔ یہ قبیح عمل کافروں کی کارستانی ہے۔ یہ سچ نہیں ہے۔ جتنے لوگ پکڑے گئے ہیں اور جن کے اعضا دہشت گرد کے طور پر ملے ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہی نکلے ہیں۔ اگر کوئی غیر ملکی بھی مارے گئے تو وہ بھی مسلمان ریاستوں کے فرد نکلے۔ یہ بھی ہوا دہشت گردی کرنے والے نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اس کو روکنے والے کی زبان سے بھی یہ نعرہ بلند ہوا۔
ہر معاملے کو امریکہ اور بھارت پر ڈال دینے سے معاملہ حل ہونا ہوتا تو اب سے دہائیوں پہلے ہو چکا ہوتا۔ان معاملات میںملوث پائے جانے والے زیادہ تر ہمارے اپنے لوگ ہیں ۔ابھی تک کوئی ہندو یا بھارتی یا امریکی باشندہ دہشت گردی کرتا مارا نہیں گیا۔اگر ان واقعات میں بیرونی ہاتھ ہے بھی تو بھی ان میں ہمارے لوگ ہی استعمال کئے گئے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل جنگ ہے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو اتنا بڑا کر کے پیش کرنا جیسے دشمن زیر ہو گیا ہماری کمزوریوں کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ ہمیں ان کی تعداد کا اندازہ ہے ااور نہ انکی شدت کو ہم جانتے ہیں۔ بس شکریے کے دو لفظ سننے کے لئے ہم بے وجہ فتح کا جشن منا سکتے ہیں۔خود کو ہی گمراہ کر سکتے ہیں۔دشمن کی کمر توڑ دینے کے بلاوجہ دعوے کرنا ہم کو زیب نہیں دیتا۔
یک دم افغانستان پر چڑھائی کر دینا اور افغانیوں کو فساد کی جڑ قرار دینے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ابھی اس ملک میںتیس لاکھ افغانی موجود ہیں۔ جن میں سے کئی کے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی بن چکے ہیں۔تیس لاکھ بہت بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ ان تیس لاکھ لوگوں کو بے عزت کر کے کیا ہم اپنے لئے اور مصیبت تو مول نہیں لے رہے؟
سب سے پہلے ہمیں تسلیم کرنا ہے کہ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں ۔ ان کی یہ سوچ ہم نے ہی بنائی ہے۔ ان کو شدت کا سبق ہم نے ہی دیا ہے۔ ان کو ہر وقت جہاد پر ہم نے ہی آمادہ کیا ہے۔ ان کے ہاتھ میں بندوق ہم نے ہی تھمائی ہے۔ ایک زمانے میں ان کو فنڈنگ کی سہولتیں ہم نے ہی فراہم کی ہیں۔ ہم نے ایسا کیوں کیا؟ یہ ایک طویل بحث ہے اس پر اس موقع پر بات کرنا مناسب نہیں۔
ہم میں سے بہت سے نظریاتی طور پر ان شدت پسندوں کی کسی نہ کسی طرح طرف داری ضرور کرتے ہیں۔ میڈیا میں بھی ایسے لوگوں کی جڑیں موجود ہیں۔ فنڈنگ کی بھی ان کے پاس کوئی کمی نہیں ہے۔وزیر اعظم کے فلیٹس کی منی ٹریل تک تو ہم دنوں میں پہنچ جاتے ہیں مگر ان دینی مراکز کو ملنے والے پیسوں کے ذرائع تک پہنچنے میں ہمیں دہائیاں لگ گئی ہیں۔ اس فنڈنگ کی روک تھام کئے بغیر آپریشن ردالفساد کی کامیابی ممکن نہیں۔
اب ہمیں اس فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ ایک نظریاتی جنگ بھی کرنا ہوگی۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اپنے بیانیے کو بدلنا پڑے گا۔ چند اقدامات جو فوری طور پر درکار ہیں ان میں ایک تو مدارس میں جدید تعلیم کو بہم پہنچانا ازحد ضروری ہے۔ہمیں اپنے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں درکار ہیں۔ اپنے دین کی درست تعلیم لوگوں تک پہنچانا درکار ہے۔اپنی مسجدوں کو فرقہ واریت سے پاک کرنا ضروری ہے۔ اپنی مذہبی جماعتوں سے مکالمہ ضروری ہے۔ اپنے فنون اور فنکاروں کا احترام یقینی بنانا ضروری ہے۔اپنے نظام میں انصاف ضروری ہے۔ غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا ورنہ بھوکے شخص کو چند سکے یا روٹی کے چند لقمے ورغلانے کے لئے بہت کافی ہوتے ہیں۔ میڈیا کو ان کالی بھیڑیوں سے پاک کرنا ضروری ہے۔شدت پسندی کے خاتمے کے لئے نظام کا تسلسل ازحد اہم ہے۔ جمہوریت کی بقا ہی اس مسئلے کا ایک حل ہے۔ہم بیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کا ملک ہیں چند ہزار بھٹکے ہوئے لوگ ہمیں یر غمال نہیں بنا سکتے۔ عوام کی سوچ میں تبدیلی ہو تو اس مسئلے کا جلد حل ممکن ہے۔ لیکن اس کے لئے آواز ہمیں خود اٹھانا ہو گی۔
آپریشن رد الفساد کی کامیابی کے لئے از حد ضروری ہے کہ ہم نظریاتی اور فکری جنگ کا بھی آغاز کریں۔ پہلے اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں ، ان سے سبق یا عبرت حاصل کریں اور پھر ان کی درستگی کی جانب پیش قدمی کریں۔ ہمارا سماج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اب ہم کسی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *