ٹیکس کا نیا نظام بنانے کی ضرورت

ڈاکٹر اکرام الحقikram

پاکستان کو تمام ٹیکس انتظامیہ کو تبدیل کرتے ہوئے ٹیکس کے نئے نظام کی ضرورت ہے۔ اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر زیادہ وسائل مہیا کرنے کی صلاحیت کی حامل نیشنل ٹیکس ایجنسی ( این ٹی اے) کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جمہوری عمل اور اتفاقِ رائے سے پارلیمنٹ کے تمام اراکان ایک آزاد اور خود مختار نیشل ٹیکس ایجنسی قائم کرنے کے لیے قانون سازی کررہی ہیں۔ ٹیکس ماہرین پرمشتمل یہ ایجنسی ٹیکس دہندگان کو قومی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر مختلف ٹیکسز سے بچاتے ہوئے ٹیکس کے مربوط نظام میں لے آئے گی۔ اس سے عوام کو بھی سہولت ہوگی اور ٹیکس افسران کی لوٹ مار کاسلسلہ بھی بند ہوجائے گا۔ این ٹی اے کے مندرجات کو ’’کونسل آف کامن انٹرسٹ‘‘(آرٹیکل 153)کے تحت زیرِ بحث لایااور اس کو ’’نیشنل اکنامک کونسل‘‘ (آرٹیکل 156)کے کنٹرول میں دیا جاسکتا ہے۔
ٹیکس کا نظام کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی پالیسیوں پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن اس پر پاکستان میں واجب توجہ نہیں دی گئی۔ نیشنل ٹیکس پالیسی اُن افراد کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، بلکہ اُنہیں سزا دیتی ہے، جو ایسے اثاثے رکھتے ہیں جو معاشی طو رپر غیر پیداواری ہوتے ہیں۔ ایسے اثاثوں پر بھاری ٹیکس عائد کرکے ان کو جمع نہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ سوشل جمہوریت میں ٹیکسز کا سب سے اہم مقصد معاشی انصاف کی فراہمی ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد ٹیکس کے بوجھ کو تقسیم کرنے اور عوامی سطح پر خرچ کی جانے والی رقم کے فوائد سب شہریوں تک پہنچانے پر استوار ہوتی ہے۔ اس کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے کہ اشرافیہ طبقوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرکے کم آمدنی والے اور غریب افراد پر زیادہ رقم خرچ کی جائے۔ یہی ترتیب جمہوریت کی روحِ رواں ہے۔اس معاشی انصاف میں دولت کی مساوی تقسیم کے علاوہ معاشرے کے نسبتاً کمزور طبقوں، جیسا کہ عورتوں، بچوں ، اقلیتیوں ،معذوروں اور بے روز گاروں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تاہم ، ہماری ٹیکس کی پالیسی میں یہ تمام عوامل دکھائی نہیں دیتے، اس کے باوجود ہم جمہوریت کا راگ آلاپتے رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں مختلف حکومتیں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا فوجی، عوام سے حاصل کیے گئے ٹیکسزکو اپنے آرام و آسائش پر خرچ کرتی ہیں۔ جابرانہ ٹیکس کے نظام کے ذریعے امیر افراد کو امیر تر اور غریب افراد کو غریب تر بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری سے سماجی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ہمارے ہاں معاشیات کے ماہرین ایک عجیب تضاد کا شکار ہیں... ایک طرف ٹیکسز کے نظام کو بہتر بناتے ہوئے مالی خسارہ کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف وہ ٹیکسز کی چھوٹ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چھوٹ عام آدمی کو نہیں بلکہ دولت مند اور طاقت ورا فراد کو حاصل ہے۔ وہ ٹیکس کے نظام میں موجود خامیاں اور لیکیج دور کرنے کی کوئی پالیسی یا خواہش نہیں رکھتے۔
ٹیکس کے موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے پاکستان معاشی ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کرسکتا ۔یہ بات عجیب دکھائی دیتی ہے کہ حکمرانوں کو جب اس یک نکاتی حل کا علم ہے تو وہ اس طرف قدم کیوں نہیں بڑھاتے؟اس کی تفہیم کوئی بہت دقیق راکٹ سائنس نہیں۔ ایک موثر این ٹی اے اس نظام میں بہتری لاتے ٹیکس انٹیلی جنس سسٹم کے ذریعے ٹیکس چوری اور لیکیج کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ تاہم اصل مسلۂ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان انکم ، سرمائے اور خرچ کے توازن کی تفہیم نہیں رکھتے ہیں۔ وہ سرکاری افسران کی رائے پر انحصار کرتے ہیں جو انہیں ناقص قسم کے سماجی بہبود کے پروگرامز ، جن کا مقصد ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے، بنادیتے اور اُن کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ ملک کو ان وقتی اقدامات، جن کا محرک صرف اور صرف انتخابی کامیابی ہوتی ہے، کی بجائے انسانی وسائل بڑھانے میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو تعلیم ، تربیت اور صحت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ تاہم ان معاملات میں راتوں رات نتائج برآمد نہیں ہوتے ، اس لیے ووٹر ہنگامی بنیادوں پر متاثر نہیں ہوتا۔ جب تک ہماری معاشی پالیسیاں انتخابات جیتنے کی علت سے جان نہیں چھڑاتیں ، ہم بہتری کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔
غیر جانبدار ماہرین کی طرف سے مہیا کردہ اعدادوشمارظاہر کرتے ہیں کہ عام آدمی سے وصل کردہ ٹیکس پر دولت مند اور طاقت ور افراد کس طرح پلتے ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق 2013-14 میں ایف بی آر نے 2257 بلین روپے وصول کیے جبکہ 2266 بلین روپے ظاہر کیے۔ ان محصولات میں ستر فیصد جبری ٹیکسز تھے۔ اس طرح کے ٹیکسز افراد اور کاروباری اداروں کو معاشی مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے قابل نہیں بناتے۔ دولت مندٹیکس دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان افراد کا بھی بوجھ اٹھائیں جو جن کے وسائل کی سکت کم ہے، نہ کہ وہ ان کی رگوں سے نچوڑی گئی رقم پر عیاشی کریں۔ ایف بی آر ان معاملات سے نہیں نمٹ سکتا ہے، اس لیے ایک آزاد اور فعال این ٹی اے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں غریب افراد بھاری ٹیکسز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ سول، ملٹری، عدلیہ اور سیاسی خاندانوں پر مشتمل اشرافیہ طبقہ ان سے حاصل کردہ دولت کو اپنا مال سمجھ کر خرچ کرتا ہے۔ یہ افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں، یا بہت کم اداکرتے ہیں۔ اس طرح یہ قومی مجرم قرار دیے جاسکتے ہیں۔ مہذب ممالک میں اس سے زیادہ سنگین کوئی جرم نہیں۔ اس وقت ملک کا معاشی بچاؤ صرف آئی ایم ایف سے حاصل کردہ مالی امداد اور قرضہ جات کے مرہونِ منت ہے۔ ہمارے معاشی ماہرین دولت کی پیداوار یا ٹیکس کی وصولی نہیں بلکہ قرضے حاصل کرنے کو اپنی واحد کامیابی گردانتے ہیں۔ حکومتیں بھی ان کی کارکردگی سے خوش رہتی ہیں۔ ٹیکس کی چھوٹ ملنے سے دولت مند افراد بھی حکومت کی حمایت سے دست کش نہیں ہوتے... مل کر سب کا کام چلتا ہے ، سوائے ملک اور اس کے غریب عوام کا۔
ناقص نظام کی وجہ سے 1977 سے لے کر اب کئی ٹریلین روپے کے محصولات کا نقصان کیا جاچکا ہے۔ اس دوران ملک کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبادیا گیا۔ ہمارے ملک میں یہ زرعی ٹیکس لگ سکتا ہے، نہ مہنگے تحائف پر ٹیکس وصو ل کیے جاتے ہیں، نہ بھاری اثاثے رکھنے والے ریاست کے سامنے جواب دہ ہیں۔ یہ ملک کس طرح چلے گا؟ کون سے جمہوریت اس کی مدد کو آئے گی؟ کون سا نظام اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا؟یا پھر کسی کسی ایسے مسیحاکا انتظار ہے جو دوا دینے کی بجائے جراحت کرے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *