ذات پات کی لعنت

Irfan Hussainعرفان حسین

حال ہی میں ہندو انتہا پسندجماعت ، آر ایس ایس نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ اس نے تین سو پچاس کے قریب مسلمان خاندانوں کو ہندو بنا لیا ۔ اس عمل کو ’’ گھر واپسی‘‘ قرار دیا گیا کیونکہ ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ خاندان پہلے ہندو تھے لیکن پھر اُنہیں مسلمان بنایا گیا۔ اب یہ پھر اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ آرایس ایس کرسمس پر چار ہزارعیسائیوں کو ہندو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان افراد کو ہندو بنانے کے لیے سرکاری مکانات اور دیگر فوائد کا لالچ دیا جارہا ہے۔
آرایس ایس اور ہندووتا(Hindutva) جیسی تنظیموں کادعویٰ ہے ان خاندانوں کو چند صدیاں پہلے جبری طور پر مسلمان یا عیسائی بنایا گیا تھا، اس لیے ان کی دوبارہ ہندوازم کی طرف واپسی دراصل اُس روحانی سفر کا آغاز ہے جو بوجوہ ادھورا رہ گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج برِ صغیر کے تمام غیر ہندو افراد شروع میں ہندو ہی تھے ۔ اس خطے کے وہ مسلمان جو اپنا تعلق عرب، ترک، افغان اور دیگر قوموں سے بتاتے ہیں ، دراصل وہ ان ہندووں کی اولاد میں سے ہیں جو نچلا طبقہ قرار دیے جانے کی ذلت سے بچنے کے لیے غیر ملکی بن گئے ۔ ہندوازم چھوڑ کر دیگر مذاہب قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بطور نچلی ذات ، اپنے پاؤں میں پڑی ہوئی بیڑیاں توڑنے کی کوشش میں تھے۔ حال ہی میں ’’دی پراسپکٹ‘‘ میں شائع ہونے والے سلگتے ہوئے مضمون ’’The Cruelty of Caste‘‘میں ارون دھاتی رائے بھارتی معاشرے میں اچھوتوں کی زندگی کے بھیانک حقائق سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں...’’نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ایک اچھوت کے خلاف ایک غیر اچھوت شہری ہر سولا منٹوں کے بعد کسی نہ کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے، معزز شہری چار سے زیادہ اچھوت عورتوں کی آبروریز ی کرتے ہیں، ہر ہفتے تیرہ اچھوت قتل اور چھے اغوا ہوجاتے ہیں...اچھوتوں کے خلاف روارکھے جانے والے جرائم ، خاص طور پر آبروریزی، میں سے صرف دس فیصد رپورٹ ہوتے ہیں اور وہی نیشنل کرائم ریکارڈ بیور و کے پاس آتے ہیں۔ یاد درہے کہ اچھوت لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانا اور اُنہیں زبردستی گندگی کھانے پر مجبور کرنا ، ان کی زمینوں پر قبضہ کرلینا ، انہیں سماجی طور پر الگ رکھنا اور عوامی ذرائع سے پانی بھی نہ لینے دینا اس کے علاوہ جرائم ہیں لیکن ان کی نہ رپورٹ کی جاتی ہے اور نہ ہی ہندو معاشرہ انہیں جرائم سمجھتا ہے۔ ‘‘
یہ اُس بھارت کا تاریک پہلو ہے جو ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے نعرے لگارہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ہندو ان تاریک اور تلخ حقائق کی تردید کرتے ہیں۔ کئی عشروں سے انڈیا نے عالمی بساط پر انسانی حقوق کی وکالت کی ہے۔ درحقیقت بھارتی آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جبکہ یکے بعد دیگرے مختلف حکومتوں نے تمام قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوٹے مقررکیے ۔ تاہم یہ اقدامات کروڑوں اچھوتوں اور نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی میں کوئی بہتری لانے میں ناکام ثابت ہوئے ۔ ان کی زندگی انتہا ئی کسمپرسی کا شکار رہی ، جبکہ ان کے گرد خوف اور دھشت کے سائے رقص کناں رہے۔ ان کاخون ارزاں رہا اور ان کی عزت پامال ہوتی رہی۔
تاہم اس سے پہلے کہ ہم پاکستانی فخر سے پھول جائیں کہ ہمارے ہاں تو ذات پات کی ایسی لعنت موجود نہیں، ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے ہاں معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یہاں ہندووں ، احمدیوں، عیسائیوں وغیرہ کو بے رحمی سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انتہا پسند گروہ اہل تشیع ، خاص طور پر ہزارہ برادری کوسفاکی سے قتل کرتے ہیں جبکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر عورتوں، خاص طور پر بچیوں، کے لیے انتہا ئی خطرناک ہوچکا ہے۔ ہمارا آئین بھی تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ جب اقلیتوں پر ظلم کا معاملہ ہو تو پولیس کیس درج کرنے کی بھی جسارت نہیں کرتی ۔ اگر کیس درج ہوبھی جائے تو سنجیدگی سے تحقیقات نہیں ہوتیں۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، کسی مسلمان کو غیر مسلموں کے خلاف سنگین سے سنگین جرائم کی پاداش میں بھی کبھی سزا نہیں ملی، حالانکہ ہرسال ایسے سینکڑوں جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔
ان دونوں ممالک ، پاکستان اور ہندوستان، میں اصل مسلۂ یہ ہے کہ معاشرہ اور سیاسی اسٹبلشمنٹ نچلی ذات والے شخص کے خلاف کسی جرم کو جرم تسلیم نہیں کرتی۔اُنہیں اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ ان پر وقت اوروسائل صرف کیے جائیں۔ اس کے علاوہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے سے نچلے طبقوں کو جوتے کی ٹھوکر پر رکھنا چاہتا ہے۔ ہندومعاشرے میں ظلم پر مبنی ذات پات کا نظام قانونی درجہ پاچکا ۔ارون دھاتی رائے ایک اچھوت دانشور بی آر امبدکار(B.R. Ambedkar)، جنھوں نے اچھوتوں کو حقوق دلانے کے لیے انتھک محنت کی، کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں...’’اگر معاشرہ بنیادی قوانین کے خلاف ہو تو کوئی قانون، کوئی پارلیمنٹ، کوئی عدلیہ بھی ان کی ضمانت نہیں دے سکتی۔‘‘
پاکستانی اور بھارتی معاشرے میں یہ بات سماجی روایت کا درجہ رکھتی ہے کہ اُونچے طبقوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نچلے طبقوں کو ان کی اوقات پر رکھنا ضروری ہے۔ جب اس طبقاتی امتیاز میں مذہب بھی شامل ہوجائے تو کس کی مجال ہے کہ دم مارے۔ نام نہاد مذہبی پنڈت اس نظام سے خوش رہتے ہیں۔ اگرچہ ذات پات کا نظام ہندومعاشرے کی جڑوں میں شامل ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ جنوبی ایشیا کے تمام غیر اسلامی معاشروں کو متاثر کرتا ہے۔ اگرچہ شادی بیاہ کی رنگ برنگی رسومات کو اپنانے کا کوئی نقصان نہیں لیکن رنگ و نسل، فرقے اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز پاکستان جیسے ملک میں اپنی خطرناک حد کو چھورہا ہے۔ اس کی بنیاد پر خون بہانے کا جواز گھڑلیا جاتا ہے اور پھر ہم وہی قیامت رقص کناں دیکھتے ہیں جس کا ہمارے ہاں ایک دن بھی گزرتا دکھائی نہیں دیتا۔
ارون دھاتی رائے وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں بھارت میں چار ہزار کے قریب ذاتیں ہیں۔ ان میں سے چار بنیادی ذاتیں لیں... برہمن(بچاری)، کھشتری( جنگجو) ، ویش(تاجر) اور شورد(غلام)۔ ان شودروں کی مزید درجہ بندی کی جاتی ہے... ان میں سے کوئی اچھوت ہے تو کسی کے چہرے پر نگاہ ڈالنا بھی گناہ ہوتا ہے، کسی کے سائے سے بھی اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے اونچی ذات والے ہندو پلید ہوجاتے ہیں... لڑکیوں کی آبروریز ی کو استثنا حاصل ہے۔
ذات پات کا یہ منحوس نظام ہزاروں سالوں سے کیوں جاری ہے؟اسے معاشرے میں کیوں چیلنج نہیں کیا جاسکا؟ان کے خلا ف نچلے طبقوں سے تعلق رکھنے والے ہندووں نے صدائے احتجاج کیوں بلند نہیں کی؟بعض اوقات مقامی سطح پر کچھ احتجاج کیا جاتا ہے لیکن اُسے دبادیا جاتا ہے۔ کچھ تحریکوں نے طویل جنگ ، جیسا کہ Naxalite، کی شکل اختیار کرلی، تاہم نچلی ذات کے ہندووں کو یہ کہہ کر تسلی دی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی قسمت کو چپ چاپ برداشت کرلیں تو ان کے پاس دوسرے جنم میں کسی اونچی ذات میں جنم لینے کا موقع ہوگا۔ چند سال پہلے میں نے ارون دھاتی رائے کے حوالے سے کچھ لکھا تھا ۔ اس پر بہت سے بھارتی قارئین نے مس رائے کو گالیاں دیں اور غدار قراردیا۔ تاہم وہ بہت بہادری سے انڈین معاشرے کے تاریک گوشے بے نقاب کرتی ہیں۔ بھارتی شہری ان برائیوں کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انسانی ضمیر ان کے سامنے سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *