دھانی ،سرمئی ،سبز گلابی آنچل

mehmood-asghar-chaudhry

آٹھ مارچ کے حوالے سے پروگرام کا موضوع تھا’ اسلام میں عورت کا مقام ‘اورمیرے مخاطب سارے ہی یورپی اور غیرمسلم تھے جنہوں نے تندو تیز اور چبھتے ہوئے سوالات کی مکمل تیار ی کی ہوئی تھی ان میں یونیورسٹی کے طلبا و طالبات تھے جنہیں اپنا تھیسس مکمل کرنا تھا اطالوی خواتین کی این جی او زکی ممبران تھیں اور سکولوں کی اساتذہ تھی پہلا سوال ایک اطالوی طالبہ کی جانب سے تھاکہ کیا اسلام میں عورت کو علم حاصل کرنے کی اجازت ہے ؟ میرا جواب تھا اجازت نہیں بلکہ فرمان مصطفو ی ﷺکے مطابق علم حاصل کرنا اسلام میں عورتوں پر فرض ہے قرآن مجید کی پہلی وحی اقراء سے شروع ہوتی ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے دوسرا سوال ایک نوجوان طالبعلم کی جانب سے تھا کیااسلام کی رو سے مرد اور عورت برابر ہیں؟میرا جواب تھا۔ نہیں ۔اگراسلامی تعلیمات کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب حقوق کی بات آتی ہے تو اسلام میں عورتوں کومردوں سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے مثلاًماں کا حق ایک حدیث کی روشنی میں باپ سے تین گنا زیادہ ہے ، بیٹی کے آجانے پر ہمارے نبی مکرم ﷺ اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ احترام اور عزت دینے کے معاملے میں ان کی مردوں سے کوئی برابری نہیں ہے بلکہ عورت زیادہ احترام کی حقدار ہے
ہائی سکول کی ایک استانی مجھے ٹوکتے ہوئے کہنے لگی کہ قرآن میں مردوں کو عورتوں کا’ قوامون ‘کہا گیاہے تو اس طرح عورت پر مرد کی حکمرانی کا مسلط ہونا ثابت ہوتا ہے ۔میں نے جوابی سوال کیاکہ کیا اطالوی قانون کے تحت کام دینے والے کو ’آقا ‘کہا جا سکتا ہے جواب میں سب کہنے لگے نہیں یہ تو جرم ہے یورپی قانون کے مطابق کام دینے والا آقااور کام کرنے والا غلام نہیں بلکہ دونوں برابر ہوتے ہیں میں نے دوسرا سوال کیاتوکیا یورپی قانون کے تحت ’ باس‘ دیگر ملازمین کا حاکم ہوتا جواب ملا نہیں ۔میں نے پوچھا تو پھر دفتر میں با س کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ اس لیے کہ دفتر کا نظم و نسق چلانا ہوتا ہے اور اس کی حیثیت نگران کی ہوتی ہے میں نے کہا قوامون کا مطلب بھی نگران ہی ہوتا ہے اسلام ایک نظام زندگی کا نام ہے جو گھر کو ایک یونٹ قرار دیتے ہوئے مرد کو نگران مقررکرتا ہے یہ وہ باس ہے جسے گھر کا نظم و نسق چلانا ہوتا ہے اگر آپ غور کریں تو نگران کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں وہ گھر کا کفیل بھی ہے اور اس کے ذمہ گھروالوں کی نگہبانی بھی لگائی گئی ہے جبکہ عورت کے ذمہ گھر کے صرف اندرونی معاملات ہیں بچوں کی کفالت کی کوئی ذمہ داری اس پر لاگو نہیں کی گئی اسلام کی رو سے اگروہ ملازمت کرتی ہے تو یورپی خواتین کی طرح اس کے ذمے گھریلو اخراجات میں خاوند کی مدد کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی کمائی اس کی ذاتی ہے
وویمن این جی او کی صدر کہنے لگی ہر مذہب میں عورت کو مذہبی معاملات میں نچلا درجہ دیا گیا ہے عیسائیوں میں کوئی عورت پوپ نہیں بن سکتی اور تمہارے ہاں کوئی عورت امام نہیں بن سکتی تو پھر برابری کی مثالیں دینا خالی ڈپلومیٹک جوابات ہیں۔ہال میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔مجھے اندازہ ہوگیا کہ ان کی تیاری خطرناک حد تک تھی ۔میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ کو کس نے کہا کہ عورت امامت نہیں کرا سکتی ؟ ’’رسول اللہ ﷺنے ایک صحابیہ ام ورقہ ؓ جو کہ حافظہ تھیں کو حکم دیاہوا تھا کہ وہ اپنے خاندا ن والوں کی امامت کیا کریں اور ان کے لئے باقاعدہ ایک عمر رسیدہ شخص موذن بھی مقرر فرمایا تھا(ابوداؤد)اب آتے ہیں اس سوال کی جانب کی اسلامی فقہاء یعنی قانون دانوں نے عورت کی امامت کومسجد میں کیوں ضروری نہیں سمجھا۔ میں نے پھر سوال کیا کہ کیا کوئی یورپی کمپنی اپنے دفتر کے لئے ایسا باس منتخب کر سکتی ہے جو مہینے میں سات دن کام پرہی نہیں آسکتا ہو سب نے نہ میں سر ہلا دیا میں نے کہا کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسلام میں ہر مہینے عورتو ں کو پانچ سے سات دن کی عبادت کے لیے چھٹیاں ہوتی ہیں تو کیا کسی مسجد میں ایسا امام نامزد کیا جا سکتا جو سات دن تک مسجد آئے ہی نہیں سب نے کہا نہیں میں نے جواب دیابس یہی حکمت پوشیدہ ہے اس فیصلہ میں۔
ایک یورپی نوجوان کہنے لگی کہ امامت کو تو چھوڑو آپ کی مساجد میں تو عورت عبادت کے لیے بھی نہیں جاتیں ۔میں نے کہا آپ کی معلومات یہاں بھی غلط ہیں ۔اسلام کی رو سے عورتوں کے مسجد جانے میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اچھا میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔یورپ کے ورک لاء کے مطابق کسی عورت سے مزدوری لیتے ہوئے پچیس کلو سے زیادہ وزن نہیں اٹھوایا جا سکتا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عورت کے ساتھ امتیازی سلوک ہے ؟سب خواتین کہنے لگی کہ نہیں نہیں یہ توعورت کو سہولت دی گئی ہے میں نے کہا اسی طرح اسلام میں بھی خواتین کو عبادت کے لئے سہولت دی گئی ہے کہ وہ گھر میں رہ کر ہی عبادت کر سکتی ہیں انہیں مسجد جانے کی پابندی نہیں ہے تو پھر آپ سب کو یہ امتیازی سلوک کیوں لگتا ہے ۔میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ
’’اگر آپ اسلام میں عورت کا مقام سمجھنا چاہتے ہیں تو دین اسلام میں نبوت محمدی ﷺ کی سب سے پہلی گواہی ایک پچپن سالہ خاتون ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی ہی ہے اس کے بعدام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کا کردار یہ ہے کہ آپ سے آٹھ ہزار صحابہ نے تعلیم حاصل کی آپؓ سے 2ہزار دو سو دس احادیث مروی ہیں ہمارے نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ دین کا آدھا علم تو عائشہؓ کے پاس ہے ۔ بہت سے ایسے حقوق ہیں جو یورپ میں خواتین نے طویل محنت اور جدو جہد کے بعد حاصل کئے ہیں لیکن پیغمبر اسلام ﷺنے آج سے چودہ سو سال پہلے وہ حقوق عورت کو دے دیئے تھے جن میں سر فہرست وراثت کا حق ہے، حقوق رائے دہی کا حق، مقننہ کا حق ، سیاسی و قانونی مشاور ت کا حق ، انتظامی ذمہ داریوں پر تقرری کا حق، ملکی دفاعی معاملات میں حصہ لینے کا حق اور گھریلو زندگی میں نا پسندیدہ جیون ساتھی سے خلع لینے کا حق جو کہ دنیا کی دیگر تہذیبوں میں ہمیں صرف حالیہ دور میں نظر آتے ہیں‘‘
ایک طالبہ بڑے جوش سے اٹھی اور غصہ سے کہنے لگی کہ’’ آپ کی بیان کی گئی باتوں اور مسلمان ممالک میں عورت کی حالت زار میں زمین آسمان کا فرق ہے حقیقت یہ ہے جناب کہ افغانستان میں عورتیں شٹل کاک برقعہ پہن کرہی باہر نکل سکتی ہیں ان کے سکولوں کو بمبوں سے اڑا دیا جاتا ہے ، سعودی عرب میں عورت گاڑی نہیں چلا سکتی ، ایران میں رنگوں سے محبت کرنے والی عورت کو سیاہ لباس پہننا پڑتا ہے ، افریقہ میں پیدائش سے شادی تک خاتون کو کنواری رکھنے کی رسم کی ادائیگی کیلئے جسم کے مخصوص حصہ کی سلائی کے دوران سینکڑوں بچیاں مر جاتی ہیں بنگلہ دیش میں ان کے منہ پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے اور تو اور آپ کے اپنے ملک پاکستان میں غیرت کے نام پر ہر سال 5000عورتیں قتل کر دی جاتی ہیں اور بچیوں کی جبری شادی کر دی جاتی ہے۔۔طلبہ کے حق میں سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔ میں نے اس کی ساری باتیں تحمل سے سنیں اور اسے مخاطب ہوا
’’ آپ نے جتنی بھی مثالیں دی ہیں وہ ان علاقوں کا کلچر ہیں اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے پاکستان اور بنگلہ دیش کا کلچر ہندو تہذیب سے ماخوذ ہے اسلام جو آج سے چودہ سو سال پہلے خلع کی اجازت دے رہاہے وہ جبری شادی کو قبول کیسے کر سکتا ہے ہمارے نبی مکرم ﷺ کی اپنی شادی کا پیغام ایک عورت یعنی حضرت خدیجہؓ کی طرف سے بھجوایا گیاتھا ، افریقہ کی جس رسم کا آپ نے تذکرہ کیا وہ مسلمان ممالک کی بجائے ایسے ممالک میں ہوتی ہے جہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے حالانکہ عیسائیت کا بھی اس رسم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے بھی میرے لئے آئیڈیل امہات المومنین ہیں جو اونٹوں کی بہترین سوا ر تھیں نا کہ کسی ملک کے روایات ۔ہمارے نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ قریش میں بہترین خواتین وہ ہیں جو اونٹوں کی سواری کر لیتی ہیں اسی طرح پردہ کے احکامات بھی میرے لیے وہی ہیں جو قرآن مجید میں بیان کئے گئے نا کہ وہ جو کسی علاقہ میں اپنائے گئے ہیں اسلامی ثقافت اور مسلمان ممالک کی ثقافت میں فرق کرنا بہت ضروری ہے،کسی مسلمان ملک کی ثقافت پر اس علاقہ کے رسم و رواج یا ماضی کی روایات کی چھاپ ہوسکتی ہے لیکن اسلامی ثقافت کا تعین اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جاتا ہے اسلام میں عورت کا مقام سمجھنے کے لئے حجت قرآن و سنت کی تعلیمات ہیں نا کہ کسی مسلمان ملک یا علاقہ میں جاری کچھ رسوم جو کہ بعض دفعہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف بھی ہوسکتی ہیں ۔
پروگرام کے اختتام پر ایک طالبہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اسلام کے بارے ہماری تمام معلومات محض غلط پراپیگنڈہ پر مبنی تھیں پوچھنے لگی کہ آپ کے نام’ محمود‘ کامطلب کیا ہے؟ میں نے کہا ’’قابل ستائش یا سراہا گیا‘‘پوچھنے لگی یہ نام آپ کی پیدائش کے فوراًبعد دے دیا گیا تھا یاآپکے والدین نے آپکوکئی سال بعد دیا ۔میں نے حیرت سے کہا مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کہنا کیا چاہتی ہیں ؟کہنے لگی کی ہمارے ایک دانشور ’’مایورسیو کوستانسو ‘‘کی تحقیق کے مطابق کچھ علاقوں میں بچوں کے نام ان کی صلاحیتوں کو جانچنے کے بعد دیا جاتا ہے تو میں سمجھی شاید آپ کو بھی یہ نام آپ کی صلاحیتوں کوپرکھنے کے بعد دیا گیا ہو ۔میں نے کہا کہ میری زندگی میں اتنا پیارا کمپلیمنٹ مجھے آج تک کسی نے نہیں دیا لیکن مجھے خوشی ہے کہ یہ تعریفی کلمات مجھے اسلام میں عورت کے مقام پر با ت کرتے ہوئے ایک یورپی خاتون کی جانب سے ملے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *