خودکش حملوں کا خطرہ، جرمنی کا بڑا شاپنگ مال بند!

برلن -جرمن شہر ایسن میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر  ملک کے ایک بڑے شاپنگ مال کو بند کر دیا گیا ہے ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا شاپنگ مال کو مکمل سیل کر کے تلاشی ،سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار وں نے شہر میں ایک سے زیادہ خود کش حملہ آوروں کی اطلاع پر  کئی  مقامات پر چھاپے اور مشکوک افراد سے پوچھ گچھ ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی کے شہر ایسن کے معروف اور وسیع شاپنگ مال  کے اپارٹمنٹ میں ایک سے زائد خود کش حملہ آوروں کی  موجودگی کی اطلاع پر  سیکیورٹی اداروں نے شاپنگ مال کو گھیرے میں لے کر خالی کرا لیا اور اس کی مکمل تلاشی لینے کے بعد بند کر دیا گیا ۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے شاپنگ مال میں دہشت گردی کی ٹھوس اور مصدقہ اطلاعات پر اسے بند کیا گیا ۔دوسری طرف پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے ایسن شہر کے میٹرو سٹیشن کے قریب  خود کش حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا اور مالک مکان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ۔دوسری طرف ایک انٹر نیٹ کیفے میں بھی چھاپہ مار کر ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا تھا تاہم اس کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ  زیر حراست شخص کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق ہے ۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس شاپنگ مال میں دہشت گردانہ حملے کے منصوبے کے بارے میں مستند اطلاعات موجود تھیں۔ پولیس ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کی جانوں کے تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ جرمنی میں بڑے شاپنگ سینٹرز میں ہفتے کے روز خریداروں کا رش خاص طور پر زیادہ ہوتا ہے۔دوسری طرف جرمن  انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایس کے وہ دہشت گرد جو شام میں لڑنے کے بعد خفیہ طریقوں سے جرمنی واپس پہنچے ہیں نے ملک میں قتل و غارت کا پلان بنایا ہے لیکن سیکیورٹی ادارے کسی بھی دہشت گرد کو ان کے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔واضح رہے کہ گذشتہ روز جرمنی ہی  کے شہر ڈسلڈورف کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر دو مشکوک افراد نے اچانک کلہاڑی سے لوگوں پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ حملے کے فوری بعد  سیکیورٹی اداروں  نے  ایک 36سالہ مشتبہ شخص کو حراست میں لیا  جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں لگتا تھا ،تاہم پولیس نے مزید تفتیش کے لئے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *