آپ اپنے بچے کی تخلیقی صلاحیت کو کس طرح ماررہے ہیں۔۔۔

بچے پیدائشی ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، تیسری یا چوتھی جماعت میں پہنچنے کے وقت تک، ان کی تخلیقی صلاحیت غارت ہو چکیchild ducation ہوتی ہے۔ ذہانت کے ساتھ ساتھ ایک عامل اور بھی بچوں کی فطرت میں موجود ہوتا ہے جو فلن افیکٹ کہلاتا ہے۔ ہر نسل میں یہ عنصر پہلی نسل کی نسبت 10پوائنٹس زیادہ ہوتا ہے۔کیونکہ زرخیز تر ماحول بچوں کو تیز تر کر دیتا ہے۔ان کی تخلیقی صلاحیت میں ایک خاص ٹرینڈ کی نشاندہی ہوئی ہے ۔۔۔ وہ یہ کہ 1990ء سے اب تک فلن افیکٹ مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ ہم سے کیا غلطی ہو رہی ہے۔۔۔؟
تخلیقی صلاحیت کی موت کی اہم وجوہات حسب ذیل ہیں:
1۔ سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ انعامات بچوں کی جستجو اور غوروفکر کی صلاحیت کو روک دیتے ہیں۔
2۔ ہمیشہ بچوں کے پاس بیٹھے رہنا اور ان کے پراجیکٹس میں مدد دیتے رہنا، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کیلئے زہر قاتل ہوتا ہے۔
3۔ ہم عموماًاپنے بچوں کو ایسے نظام تعلیم اوراورایسی کھیلوں کی تربیت دیتے ہیں جن میں صرف ایک جواب درست ہوتا ہے یا جو محض ایک حل کو درست قرار دیتے ہیں۔ زیادہ تر کھلونوں کے ساتھ بھی ہدایات دی گئی ہوتی ہیں اورمحض ایک ہی نتیجے کو درست یا فتح کا ٹارگٹ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم بچے بہت سارے حل کھنگالنا چاہتے ہوتے ہیں۔تحقیقی سوچ بھی اسی طرز عمل کی محتاج ہوتی ہے۔تخلیقی صلاحیت کے حامل بچے، ممکنہ انتخابات کو آزمانے کی آزادی کو پسند کرتے ہیں۔
منظم سرگرمیوں، ورکشاپس اور سماجی تقریبات وغیرہ میں بچے زیادہ مصروف رہتے ہیں اور کام میں کم۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *