میں اور میرا حجاب

شائستہ عزیزme n hijab

آکسفورڈ انگلینڈ، بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں جو سب سے بڑا مسئلہ زیر بحث رہا ہے وہ عوام کی شناخت کا ہے۔ برطانوی ہونے یا برطانوی دکھائی دینے کا مطلب کیا ہے؟ میں یہاں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہوں۔ میں یہاں رہتی ہوں۔ میرا برطانوی نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مجھے یہ بتایا جاتا ہے کہ جب میں بولتی ہوں تو ہیری پوٹر کی طرح دکھائی دیتی ہوں۔

 اس کی وجہ یہ ہے کہ میں گرفنڈور کی طرح  بہت نڈر ہوں۔ لیکن میں پاکستانی مہاجرین کی بیٹی ہوں۔ میں ایک مسلم لڑکی ہوں  اور میں حجاب پہننا پسند کرتی ہوں اور اس کی وجہ اسلام سے میرا روحانی تعلق ہے۔ جب لوگ مجھے دیکھتے ہیں تو انہیں نظر آتا ہے  کہ میں ایک مہاجر ہوں۔ بہت سے تھیٹر اور ریسٹورینٹ میں لوگ مجھ سے بات کرنے کی بجائے میرے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ویٹر اور ٹکٹ ٹیکر حضرات مجھ سے نظر ملانا نہیں چاہتے اور مجھے نظر انداز کرتے ہیں ۔

 جب میں بولتی ہوں تو پھر میں اس کنفیوژن میں کھو جاتی ہوں کہ میں اصل میں ہوں کون۔ لوگ صرف تبھی ایک حجاب والی لڑکی کو نظر انداز نہیں کرتے جب وہ اس سے نفرت کرتے ہوں یا اس پر شک کرتے ہوں کہ وہ دہشت گرد ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں مجھے بہت سے لوگوں نے نسلی تعصب کا نشانہ بنایا  اور کچھ اجنبی لوگوں نے مجھے جسمانی نقصان کی دھمکی دی تو میں نے پولیس کی مدد طلب کی۔

جب میں برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرتی ہوں تو مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کہاں سے ہو؟  میں بتاتی ہوں کہ میں برطانیہ سے ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ تم مسلمان ہو؟ میں کہتی ہوں جی ہاں۔ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لوگ اکثر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں کون ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اپنے آپ پر کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں۔ حجاب پہننے کی عادت نے مجھے اور بھی پر اعتماد بنا دیا ہے۔

اس ہفتے یورپی یونین کی سب سے بڑی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اداروں کے سربراہان اپنے ملازمین پر حجاب  اور دوسرے مذہبی اہمیت کے لباس  پہننے  پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ بریگزیٹ کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمیں اس پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جب اس فیصلے کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے خواتین کے حقوق ان کو دلوانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ عورتوں کو اپنی مرضی سے پہننے کا حق دینے کی حمایت کرتی ہیں۔

 برطانیہ اور یورپ کے بیچ فرق معلوم کرنے کی کوشش کرتے وقت میں یہ مانتی ہوں کہ یورپ کا گراف نیچے چلا گیا ہے اور مسلمان خواتین کی شناخت پر سیاست کی جانے لگی ہے اور ان کے لباس تک کی آزادی چھینی جا رہی ہے۔ دو سال قبل جب میں فرانس میں بی بی سی ٹی وی ڈاکومنٹری پر کام کرتی تھی جو اس موضوع پر تھی کہ جوان ہونے کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے  اور فرانس میں چارلی ہبڈو اٹیک کے بعد مسلمانوں کی حالت  کے بارے میں تھی تب میں فرانسیسی پارلیمنٹ کے ریسیپشن ایریا میں میریان ماریشل لی پین سے انٹرویو لینے گئی ۔

 یہ خاتون وہاں کی پارلیمنٹ کی ممبر تھیں اور فرنچ لیڈر  میرین لی پین کی بھانجی  تھی جو فرانس کی صدر بننے والی تھی۔ جب ریسیپشنسٹ کو معلوم ہوا کہ میں برطانوی صحافی ہوں تو وہ جیسے ڈر سی گئی ۔ اس نے میرے حجاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہن کر تم اندر نہیں جا سکتیں۔ یہاں حجاب کی اجازت نہیں ہے۔ وہ ایک فرانسیسی قانون کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس کے مطابق پبلک بلڈنگ میں داخل ہوتے وقت ایسے لباس کی ممانعت ہے جس کا مذہب سے تعلق ہو۔ میں نے کہا کہ میں تو فرانس سے تعلق نہیں رکھتی اور میں برطانوی شہری ہوں۔ تھوڑی دیر رک کر اس نے کہا ٹھیک ہے تم جا سکتی ہو۔

اس دن میں جہاں بھی جاتی مجھے سے ہر آدمی چاہے وہ ٹیکسی ڈرائیور ہو یا دکاندار یہی پوچھتا تھا کہ میں کہا ں سے ہوں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ برطانوی لہجے کی وجہ سے میں ان کو یقین دلا پائی کہ میں برطانوی ہوں۔ ایک فرانسیسی مسلمان لڑکی نے مجھے بتایا کہ کیا چیز مجھ میں مختلف دکھائی دیتی تھی۔ میں نے پوچھا کیا صاف نظر آتا ہے کہ میں فرانسیسی نہیں ہوں؟ اس نے کہا جی ہاں، سب کو نظر آتا ہے کہ آپ فرانس سے نہیں ہو۔ تم حجاب پہنتی ہو اور تم پر اعتماد ہو۔ تم ہمیشہ بہت یقین اور اعتماد میں نظر آتی ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *