اٹلی کی امیگریشن یا دکھوں کی گرد

mehmood-asghar-chaudhry

                                ”کیااطالوی حکومت واقعی مزیدغیر ملکی شہریوں کو اٹلی کی امیگریشن دینے  والی ہے؟ “ٹیلیفون پر اس کی آوازمیں غم وغصہ کی آمیزش تھی میں نے جواب دیا کہ ہاں اٹلی کی موسمی امیگریشن کااعلان ہوگیا ہے اور مورخہ 28مارچ سے آن لائین درخواست بھی بھیجی جا سکے گی وہ فوراکہنے لگا آپ اس کے لئے کچھ کرتے کیوں نہیں؟ آپ اطالوی حکام کو بتاتے کیوں نہیں کہ اس موسمی امیگریشن کے فراڈ کے نام پر کتنے ہی پاکستانی اپنی زندگی کی کل پونجی لٹا بیٹھے ہیں؟ تو میں نے اسے سمجھانے کے غرض سے کہا کہ موسمی کام کی امیگریشن اٹلی میں فروٹ پکنے کے موسم میں کھلتی ہے تاکہ اطالوی زمینداراپنے کھیتوں میں کام کے لیے مزدور بلا لیں یا پھر سیاحی مقام پر موجود ریستورانوں کے مالکان موسم گرما میں اپنے ہوٹل چلا سکیں اس نے میرے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ وہ جانتا ہے موسمی امیگریشن کیا ہوتی ہے مگر اس امیگریشن کے جھانسے میں میں ایجنٹ طبقہ بھولے بھالے پاکستانیوں کو لوٹتا ہے ۔اٹلی آنے کے بعد ان کے ڈاکومنٹس کی تجدید نہیں ہوتی اور نہ وہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے ۔۔“

                 اٹلی کے جنوب میں نیپلز اور کازیرتا اٹلی کے وہ علاقہ جات ہیں جن کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں سے موسمی کام کے ویزے زیادہ نکلتے ہیں کیونکہ ایسے علاقوں میں رہنے والے اطالوی چھوٹے زمینداروں کو خریدنا آسان ہوتا ہے ۔ پاکستانی ایجنٹ ایسے اطالوی زمینداروں سے گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں اورہزار یادو ہزار یورو فی کس(ایک یا دو لاکھ روپے پاکستانی) کے حساب سے ویزہ نکلوالیتے ہیں اور پاکستان میں یہی ویزہ دس دس بارہ بارہ لاکھ روپے میں بکتے ہیں ایسے جعلی معاہدوں میں اطالوی زمیندار سے یہ بات طے کر لی جاتی ہے کہ متعلقہ پاکستانی مزدور کو صرف اٹلی پہنچانا ہے اور اس کے کاغذات نہیں بنوائے جائیں گے ۔ اٹلی آنے کے بعد ان کی رجسٹریشن کسی بھی محکمے میں نہیں کرائی جاتی اور نہ ہی انہیں کسی قسم کے کاغذات بنوا کر ان کی حیثیت لیگل کروائی جاتی ہے اور اس طرح بارہ لاکھ خرچ کرکے اٹلی پہنچنے والے کو بے یارومددگار اٹلی کے ساحلوں پر گشت کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

                اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ موسمی امیگریشن کا اعلان ہونے سے پہلے یہی پاکستانی ایجنٹ طبقہ اٹلی کے نائٹ کلبوں کی فلمیں بناتے ہیں اور پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں جا کر پاکستانی نوجوانوں کو یورپی مادر پدر آزاد کلچر کا نظارہ کراکے اٹلی آنے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ پاکستان میں لوگ اپنے پلاٹ بھیجتے ہیں ، زمینیں بھیجتے ہیں اپنی بہنوں کا زیور بیچتے ہیں اور زندگی کا جوا کھیلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یورپ آنے والے پاکستانیوں کی اکثریت نے اس طرح کا جو ا ءکھیلا ہے مگر کبھی یورپ میں ایسا دورتھا کہ اس طرح کا جو اءکھیل کربھی کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا ۔کیونکہ کام کے مواقع اتنے زیادہ تھے کہ ڈاکومنٹس کے بغیر بھی لوگ اچھی خاصی آمدن حاصل کر سکتے تھے لیکن 2007ءسے جاری معاشی کساد بازاری نے اٹلی و یورپ کے حالات اتنے خراب کر دئے ہیں کہ اٹلی میں مستقل رہائش پذیر شہری بھی کام کی غرض سے یورپ کے دوسرے ممالک میں منتقل ہورہے ہیں ایسے میں عارضی ویزہ پر یا بغیر قانونی دستاویزات کے کام ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔

                 بعض ورکر تو اپنے ڈاکومنٹس کی تجدید کے لئے مزید قرض اٹھاتے ہیں مجھے اس پاکستانی کے دل کے اندر اپنے ہم وطنوں کے لئے محبت کا اتنا سچا جذبہ دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی کہ آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ہونے والے دھوکہ پر کڑھتے ہیں اس کا کہنا تھاکہ اسی موسمی امیگریشن پر آنیوالے پاکستانیوں کو جب حقیقت حال کا علم ہوتا ہے تو وہ فرسٹریشن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان کی فلائٹ اڑتے ہی انکے گھر والے ان سے امیدیںوابستہ کر لیتے ہیںکہ وہ جاتے ہی درختوں سے یورو اکھاڑ کر بھیجیں گے مگریہاں عالم یہ ہے کہ کوئی ان کے ساتھ جاکر ان کی دستاویزات بھی جمع نہیںکرواتا۔

                                                                جہاں سے ساتھ زمانے کو لے کے چلنا تھا

                                                                                وہیںپہ چھوڑ گئی گردش زمانہ ہمیں

 وہ اس ڈر سے اپنے ملک پاکستان واپس نہیں جاتے کہ محلہ والوں کواور برادری کو کیا منہ دکھائیں گے اور ان میں بہت سے پاکستانی تو بئیر پی کر اپنا غم غلط کرتے ہیں اور اپنا ماضی بھولنا چاہتے ہیںوہ اپنے کان بند کرکے اپنی بہنوں اورماﺅں کی صدائیں سننا نہیں چاہتے ۔ ان کے پاس اس بئیرکے پیسے بھی نہیںہوتے اور بعض تو اس شراب کے لئے بھیک مانگنے سے بھی نہیں شرماتے ۔اس کا کہنا تھا کہ اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں لٹنے والوں کی شکایت کس سے کریں ۔کوئی تو ہو جو اطالوی حکام تک اس بات کو پہنچائے کہ ایجنٹ طبقہ کس طرح ان چھوٹی مچھلیوں کا شکار کر رہا ہے۔ ایسانہیں ہے کہ حکومت اٹلی ایسے ایجنٹ طبقہ سے بے خبر ہے وہ بارہا ایسے گروہوں کو پکڑتی بھی رہتی ہے لیکن کیا کریں کہ سخت سے سخت قانون بھی چالاک لوگوں کے لئے موم کی گڑیا کی ناک کی طرح ہوتے ہیں جنہیں جب چاہیں وہ موڑ لیتے ہیں اس سال بھی تیس ہزار آٹھ سو پچاس افراد کے لئے موسمی امیگریشن کی خبر سنتے ہی ایجنٹ طبقہ متحرک ہوگیا ہے چھریاںچاقو تیز کئے جا چکے ہیں اور” لیلوں“ کی تلاش شروع ہوچکی ہے ،ساﺅتھ اٹلی کے چھوٹے زمینداروں ، سیاحی علاقوں کے چھوٹے ریستورانوں کے مالکان اوراپنے ہی پاکستانی بھائیوں کو لوٹنے والے ایجنٹ طبقہ نے گٹھ جو ڑ کرنا شروع کردیا ہے

                حکومت پاکستان نے اٹلی کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام میں تعاون کی بنا پر اٹلی پاکستان سے بھی ہر سال ایک ہزار شہری اس امیگریشن میں لے گا ۔چونکہ موسمی کام کے ختم ہوتے ہی مزدور کو اپنے ملک واپس لوٹ کے جانا ہوتا۔ اس لئے پاکستانی اس امیگریشن سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ جتنی کمائی موسمی کام کی صورت میں ہوتی ہے اس سے تو جہاز کی آنے جانے کی ٹکٹ ہی خریدی جا سکتی ہے ۔اس امیگریشن کے نام پرہزاروں پاکستانیوں کے ساتھ فراڈہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر پاکستانیوں کو لوٹا جاتا ہے ۔

                 حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اٹلی کے ساتھ ایسے کسی بھی سیزنل کام کے معاہدے سائن نہ کرے بلکہ پروفیشنل ورک اور مستقل بنیادوں کے کام کے معاہد ہ جات کرے۔ اٹلی میں موجودکمیونٹی ویلفیئر اتاشی صاحب کو چاہئے کہ وہ اٹلی کی وزارت داخلہ کے ساتھ ایسا معاہدہ کرے جس میں ایسے انسٹیٹیوٹ قائم کئے جائیں جہاں سے ٹریننگ کے بعد پاکستانی ورکر اٹلی آسکیں ۔ یاد رہے کہ بہت سے ممالک میں ایسے سکول چل رہے ہیں جو ان ممالک میں اطالوی ایمیبیسی کے تحت کورسز کراتے ہیں ۔اور ایسے ورکروںکے لئے ہر سال علیحدہ کوٹہ ہوتا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ کا پردہ فاش کرے۔ ان لوگوں کی حالت زار پر دستاویزی فلمیں بنائے اور پاکستانیوں کو دکھائے کہ انکے ہم وطنوں پر کیا بیت رہی ہے۔ پاکستان ایف آئی اے کاادارہ ایسے ایجنٹ طبقہ کو بے نقاب کرے جو اپنے ہی پاکستانی بھائیوںکا خون چوس رہے ہیں ۔ پاکستانی حکومت ایسی پالیسز مرتب کرے جس کے تحت ملک سے نکلنے والی لاکھوں کی دولت ملک میں استعمال ہوسکے اور ہم میں سے ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ کسی کو مجبوریاں خریدنے کی کوشش نہ کرے اور جعل سازوں کے ہاتھو ں شکار ہونے والے کو بھی چاہیے کہ وہ مکمل معلومات کے بغیر رخت سفر نہ باندھ لیں

نشانی کوئی تو اب کے سفر کی گھر لانا

تکان پاﺅں کی اور تتلیوں کے پر لانا

سفر کے شوق میں چل تو پڑے ہو تم گھر سے

دکھوں کی گر د سے دامن نہ اپنا بھر لانا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *