اچھی چیز لےلو،بُری چھوڑدو‎

muhammad asif
انسان کو اس دنیا میں رہتے ہوئے کتنی ہی صدیاں ہوگئی ہیں، ارتقاء کی موجودہ منزل تک پہنچنےمیں کئی مراحل آئے ہیں۔ اس گزرے دور نے کئی اخلاقی تمدن پیدا کئے، فلسفوں کی بنیاد رکھی گئی، کئی علوم وجود میں آئے انبیاء مبعوث ہوئے اور بندوں کو خدا تعالی کے پیغامات ملے۔ الغرض اب تک اتنے تمدنی اخلاقی ، فلسفی اور دینی نظرئئے وجود میں آچکےکہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔کیوں کہ ہر دور ایک نیا فکر لے کر آیا،ہر دور نے اپنے تمدن کو بہترگردانا،اُنا ولا غیری( میرےسوا کوئی نہیں) کی صدائیں ہمیں ہر دور اور ہر تاریخ میں ملی ہیں۔ بحرحال اس سےانکار نہیں کہ جس طرح تمام انسان وقتی،مکانی، عارضی اور ظاہری اختلاف کے باوجود اصل میں ایک ہیں۔ خواہ کوئی دس ہزار سال پہلے کا کوئی غیر متمدن انسان ہویا اس زمانے کا کوئی افریقہ کے جنگلوں میں بسنےوالا حبشی یا آج کا ترقی یافتہ یورپین، جس طرح ان سب میں انسانیت کا ایک جامع نقطہ مشترک ہے اور گو لاکھوں برس کے ارتقاء نے ان کو کچھ سے کچھ بنا دیا ہے لیکن جہاں انسانیت کاتعلق ہے وہ اس میں اب بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں بعینہ اسی طرح ان گوناگوں اخلاقی نظریوں تمدنی اصولوں اور اکار و ادیان میں بھی ایک گونا وحدت ہےاور ان سب میں چند بنیادی باتیں ایسی ہیں جو سب میں مشترک نظر آئیں گی۔ ظاہر بینوں پر یہ حقیقت ہمیشہ مخفی رہی او وہ کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی محدود دنیا اور طبقاتی فکر کوہی سب سے جُدا اور الگ سمجھتے رہے، یہ سوچ اُس ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند تھی جس میں سڑانڈ پیداہوجاتی ہے۔
جس طرح کائنات کی کثرت انسانی ذہن کو کو پریشان کر دیتی ہے اور وہ اس فضائے بسیط میں اپنا مقام ڈھونڈنے اور اپنی وحدت کا پتہ لگانے پر مجبورہوجاتا ہےاسی طرح صاحبِ نظر حکیم مشترک حقائق میں ان رنگا رنگیوں میں جنھیں ہم تمدن، کلچر اور فکر کا نام دیتےہیں اُن حقائق کی تلاش کرتا ہےتاکہ وہ عالمگیر انسانیت میں چھپی ہوئی حقیقت پاکر اپنے تمدن کی بنیاد ان اصولوں پر رکھے جو ساری انسانیت پر جامع ہوں، تاکہ قوم کا فکر اصل سرچشمہِ حیات سے بےتعلق نہ ہو۔
اسلام نےبھی اپنی ابتدا اسی نہج پر کی تھی۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُس زمانے میں بھی مختلف مذاہب اور تمدن باہم گتھم گتھا ہورہےتھے اور ہم مکتبہِ فکر اپنی زات میں اکملیت کی سوچ لیے خود کو کافی بالذات اور دوسروں سےبےنیاز سمجھ رہی تھی۔ حالت یہ تھی جیسے چھوٹے چھوٹےگڑھوں میں پانی رُک گیا ہو اور ہر گڑھا خود کو سمندر سمجھےہوئےتھا۔ عربوں کی نئی قوم ایک سیلاب کی مانند نازل ہوئی اور تمام گڑھوں کو ایک زخار سمندر کی مانند کردیا جس میں تمام قوموں کے فکری دھارے گِرنےلگےاور مجموعی انسانیت کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ انھوں نے سب تمدنوں کو کھنگالا اور(اچھی چیز لے بُری کو چھوڑدو)پر عمل پیرکرتےہوئےسب تمدنوں کے اچھے اوصاف لے لئے۔ انھوں نے سب علوم کو سرآنکھوں پربٹھایا۔ عیسائیت، مجوسیت، یہودیت اور صابیت سب کو ایک آنکھ سے دیکھا اور برملاکہا کہ انسان خواہ کوئی بھی ہو جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کومان لے وہ اچھا انسان ہے۔ نام، رنگ نسل اور گروہوں کے امتیاز سب باطل ہیں
دوسرےمعنوں میں عربوں نے انسانیت کو جوٹکڑوں میں بٹ چکی تھی۔ اس کا شیرازہ پھر ازسرنو باندھ دیا۔یہی اسلام کاعالمگیر انقلاب تھا۔
آج مسلمان دنیا میں جس تنہائی کا شکار ہے اس کی وجہ یہی ہےکہ ہم اپنے تئیں یہ سمجھ کر بیٹھےہیں کہ ہم سے بہتر کوئی نہیں، پرانے علم کو سینوں سے لگائے اور جدید علوم سے پہلو تہی کرتے ہوئے ہم اسلام کے عالمگیر اقتدار کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ جب تک ہمارے اندر وسعتِ نظر بصیرت اور اپنے سے باہر دیکھنے کی لگن پیدا نہیں ہوگی، اپنے چھوٹے چھوٹے بِلوں سے باہر آکر کائنات میں پھیلی چار سُو روشنی کو اپنے اندر اتاریں گے نہیں، مذہب کی حقیقی روح اور بندہِ مومن کی فراست سے کوسوں دُوررہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *