23 مارچ 1940 سے 23 مارچ 2017 تک کی تصویری کہانی

ندیم ایف پراچہ

— تصویر آرکائیوز 150

پہلا عہد: آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں پارٹی کارکنان سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں اے آئی ایم ایل نے برٹش انڈیا میں مسلم اکثیریتی علاقوں کی خودمختاری کو علیحدہ خودمختار ریاستیں بنانے کی قرارداد منظور کی تھی۔

— تصویر دی کوئنٹ

ایک نیا عہد: 1947 میں جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بن گئے۔ یہاں انہیں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے پہلا خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک جدید، مسلم اکثیریتی ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو سہولیات اور آزادی حاصل ہوگی کیوں کہ ان کے اپنے الفاظ میں "ریاست کا کسی کے مذہبی عقائد سے کوئی لینا دینا نہیں۔"

— تصویر دی کوئنٹ
— تصویر دی کوئنٹ

مسلم اکثریتی ملک کو تمام مذاہب کے لیے ایک محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کے لیے جناح نے حکومت کے ایک ہندو وزیر جوگندر ناتھ منڈل سے دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کے لیے کہا۔

—تصویر:پاکستان کرنسی ڈاٹ کام

اگست 1947 سے ستمبر 1948 تک پاکستان اور ہندوستان کے ایک ہی کرنسی نوٹس تھے۔ کیوں کہ پاکستان اب بھی تاجِ برطانیہ کے ماتحت دولتِ مشترکہ میں شامل تھا، اس لیے ہمارے نوٹوں پر جارج ششم کی تصویر موجود تھی۔

—تصویر: ہسٹری پی کے

ایک اور عہد: پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان 1949 میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ وہ جناح کے انتقال کے چند ماہ بعد تیار کی گئی قراردادِ مقاصد پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان مستقبل میں ایک جمہوریہ ہوگا اور اس کا آئین اسلامی ہوگا۔ غیر مسلم حکومتی ارکان نے وزیرِ اعظم پر قائدِ اعظم کے عہد سے ہٹنے کا الزام عائد کیا مگر انہوں نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان میں ہر کسی کو مکمل حقوق حاصل ہوں گے۔

—تصویر: عادل نجم

پاکستان ریلویز کا 1949 میں شائع ہونے والا پوسٹر۔ اس وقت حکومتِ پاکستان لوگوں کو یہ احساس دلاتی تھی کہ ریاستِ پاکستان کے پاس وسائل محدود ہیں۔

—تصویر: آئی خرم

1950 سے 1952 کے درمیان پاکستان کی معیشت میں اس کی زرعی پیداوار کی طلب میں اضافے کے سبب زبردست تیزی آئی۔ طلب میں اضافے کی وجہ امریکا کی کوریائی جنگ تھی۔ 1952 میں نیشنل جیوگرافک میں شائع ہونے والے اس مضمون کے مطابق کراچی تیزی سے پھیلتا ہوا شہر تھا کیوں کہ اس شہر سے برآمدات میں اضافہ ہو رہا تھا۔

—تصویر: ڈاکٹر جی این قاضی

معاشی تیزی کی وجہ سے پاکستان میں پہلا فائیو اسٹار ہوٹل 1951 میں کراچی میں تعمیر ہوا جسے ہوٹل میٹروپول کا نام دیا گیا۔

—تصویر: بی بی سی آرکائیوز

حکومت کی جانب سے قراردارِ مقاصد کے 'اسلامی' پہلوؤں پر عملدرآمد میں سستی کی وجہ سے جماعتِ اسلامی اور مجلسِ احرار نے پنجاب میں معاشی بحران کا استعمال کرتے ہوئے ایک پرتشدد احمدی مخالف تحریک شروع کر دی۔ پنجاب کے متنازع وزیرِ اعلیٰ ممتاز دولتانہ پر اس ہلچل کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

—تصویر: سٹیزن آف دی ورلڈ

حکومت اور فوج کی جانب سے تقسیم کیا گیا ایک پمفلٹ جو عالمِ دین خلیفہ عبدالحکیم نے تحریر کیا تھا۔ اس پمفلٹ میں اقبال کی شاعری کا سہارا لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مذہبی جماعتوں کے نظریات اقبال اور جناح کے نظریات سے متصادم ہیں۔

اس دوران بنگالی اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان میں اردو کے بحیثیت واحد قومی زبان نفاذ کے خلاف تحریک شروع ہوگئی۔ 1954 میں مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں بری طرح ہاری، اور بنگلہ کو ملک کی دوسری قومی زبان قرار دیا گیا۔ ڈان اخبار نے مشرقی پاکستان میں متحدہ محاذ کے ہاتھوں مسلم لیگ کی شکست پر صفحہءِ اول پر خبر چلائی۔

— تصویر: فائل

ایک آئینی عہد: 1956 میں دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کا پہلا آئین منظور کیا۔ اس آئین نے پاکستان کو جمہوریہ قرار دیا، اور ایک پارلیمانی اور اسلامی جمہوری ملک میں تبدیل کرنے کا عہد کیا۔ اسی آئین میں 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تصویر میں اعتدال پسند مسلم لیگ، سیکولر اور نیم دائیں بازو کی جماعت ری پبلیکن پارٹی، بائیں بازو کی نیشنل عوامی پارٹی اور دائیں بازو کی جماعتِ اسلامی کے بالواسطہ منتخب امیدواروں کو آئین پر بحث کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

—تصویر: پاکستان ٹائمز

پاکستان ٹائمز کے ایک کارٹون میں ان اسمبلی ممبران کا مضحکہ اڑایا گیا ہے جنہوں نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے پر اتفاق کیا تھا۔

— تصویر ڈاکٹر کے بی قاضی

23 مارچ 1956 میں کراچی میں ہونے والی پہلی یومِ پاکستان کی پریڈ۔

— تصویر ڈاکٹر کے بی قاضی

عہد کا توڑا جانا: ری پبلیکن پارٹی کے صدر اسکندر مرزا 1958 میں پاکستان کے پہلے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ۔ اس وقت معیشت تیزی سے زوال پذیر تھی، اور جرائم و بدعنوانی اور سیاسی رسہ کشی میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

اسکندر مرزا اور جنرل ایوب، جنہوں نے اس مارشل لاء کا پلان تیار کیا تھا، نے 1956 کے آئین کو معطل کرتے ہوئے اسے سیاستدانوں کی جانب سے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے اسلام کا نام استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ملک کا نام اسلامی جمہوریہ سے تبدیل کر کے پہلے کی طرح جمہوریہءِ پاکستان کر دیا گیا۔

— تصویر ڈاکٹر کے بی قاضی

ایوب کا عہد: اسکندر مرزا کو ہٹانے کے بعد ایوب خان 1959 میں صدر اور فیلڈ مارشل بن گئے۔ انہوں نے پاکستان کو 'جناح کے وژن کے مطابق' چلانے کا عہد کیا۔ ان کے نزدیک یہ وژن صنعتی ترقی، پاکستان کے سیاسی حقائق سے قریب تر سیاسی نظام، جس پر فوج کی نظر رہے، مسلم ماڈرن ازم، تعلیم کا فروض، اور آزاد معیشت پر مبنی تھی۔

— تصویر لائف

ایوب دور کے ابتدائی چھے سالوں میں معاشی شرحِ نمو 6 فیصد اور پیداواری شرحِ نمو 8.51 فیصد ہوگئی۔ اس وقت یہ پیداواری شرح ایشیاء میں سب سے زیادہ تھی۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور کھادیں زرعی شعبے میں 'سبز انقلاب' لے آئیں۔

—تصویر: آئی خرم

1962 میں لاہور کے ایک کالج میں طالبات اپنی لیکچرر کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔ معاشی ترقی کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں تیزی آئی جبکہ ان میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔

—تصویر: اسٹیمپ ورلڈ

1963 میں شائع ہونے والا ڈاک ٹکٹ جس میں ایوب کے مارشل لاء کو معاشی انقلاب قرار دیا گیا ہے۔

—تصویر:سٹیزین آرکائیوز آف پاکستان

1960 کی دہائی کے اوائل میں لاہور میں اس جگہ مینارِ پاکستان تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں 1940 میں قرار داد منظور کی گئی تھی۔

—تصویر: اے ایس صدیق

1966 میں پی آئی اے کی ایک فلائٹ میں شیمپین پیش کی جا رہی ہے۔ 1955 میں شروع ہونے والی یہ ایئر لائن 1960 کی دہائی کے وسط تک دنیا کی صفِ اول کی ایئرلائنز میں شمار ہونے لگی تھی۔ اسے یہ مقام 1980 کی دہائی کے اوائل تک حاصل رہا۔

—تصویر فائل

کراچی ملک کا تفریحی مرکز بن گیا۔

—تصویر:سٹیزین آرکائیوز آف پاکستان

1965 کی پاک و ہند جنگ کے دوران پاک فضائی کے ہوابازوں کا ایک گروہ۔ ان دنوں پاک فضائیہ دنیا کی بہترین فضائیہ کی فہرست میں شامل تھی اور اس نے کئی عرب ممالک کے ہوابازوں کو تربیت دی۔

—تصویر: نیشنل جیوگرافک

1967 میں لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے داخلی دروازے کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے۔

—تصویر: نیشنل جیوگرافک

1967 میں ملک کا نیا دارالحکومت وجود میں آیا۔ شروعات میں اسے جناح پور کہا جانا تھا، مگر پھر حکومت نے اسے اسلام آباد قرار دیا۔

—تصویر: روزنامہ جنگ

اختتام: 1965 کی جنگ نے معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 1960 کی دہائی کے اواخر میں ایوب حکومت کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد تحریک شروع ہوگئی جو ان کے 'اقربا پرور سرمایہ دارانہ نظام' کی ناقد تھی۔

دائیں بازو کی جماعتیں ایوب کی 'سیکیولر حکومت' کا خاتمہ جبکہ بائیں بازو کی جماعتیں ایک سوشلسٹ حکومت کا قیام چاہتی تھیں۔ مارچ 1969 میں ایوب نے استعفیٰ دے دیا اور اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔

—تصویر: این ایف او نیوز

یحییٰ کا عہد، 1969: جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کو ایک پارلیمانی جمہوریت بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے 1962 کے آئین کو معطل کرتے ہوئے اپوزیشن کی جماعتوں سے نئے آئین پر کام شروع کرنے کے لیے کہا۔ اس کے لیے انہوں نے بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا۔

—تصویر: روزنامہ جنگ

1970 میں یحییٰ خان نے اپنا عہد پورا کیا۔ بالغ حقِ رائے کی بنیاد پر ملک میں پہلے پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔ بنگالی قوم پرست جماعت عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان اور ذوالفقار علی بھٹو کی عوامیت پسند جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان کے سب سے بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں کامیابی حاصل کی۔ نیشنل عوامی پارٹی نے صوبہءِ سرحد اور بلوچستان میں اکثریت حاصل کی۔ جماعتِ اسلامی کے علاوہ باقی مذہبی جماعتوں کو بدترین شکست ہوئی۔

1970 میں رونا لیلیٰ پاکستان کی پہلی ماڈرن پاپ اسٹار بنیں۔

—تصویر: لائف

دسمبر 1971 میں بھٹو یحییٰ خان سے اقتدار لینے کے آ رہے ہیں۔ انتخابات نے پارلیمانی جمہوریت کے لیے سازگار حالات تو پیدا کیے، مگر مشرقی پاکستان کے بنگالی قوم پرستوں اور مغربی پاکستان کی 'اسٹیبلشمنٹ' کے درمیان تناؤ اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی اور پھر ہندوستان کے ساتھ مسلح تنازع کے بعد بالآخر مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ یحییٰ خان نے استعفیٰ دے دیا اور بھٹو کو اقتدار سونپ دیا کیوں کہ ان کی جماعت نے ہی مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی تھی۔

—تصویر: پی ٹی وی

بھٹو کا عہد: قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بھٹو نے "بکھرے ہوئے ٹکڑے جمع کرنے" اور "ترقی پسند نیا پاکستان" تعمیر کرنے کا عہد کیا۔ وہ یہ مقصد زرعی اصلاحات، ملٹری اصلاحات، بیوروکریٹک اصلاحات اور معیشت کو عوام دوست بنانے کے لیے سوشلسٹ پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

—تصویر فائل

بھٹو کے سوشلسٹ جناح: بھٹو نے بڑی صنعتوں کو قومیاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت جناح کے خیالات پر عملدرآمد کر رہی تھی، جیسا کہ اس اخباری اشتہار میں دعویٰ کیا گیا ہے۔

—تصویر: روزنامہ جنگ

نئے آئین کی تشکیل: 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نئے آئین کے نکات پر قومی اسمبلی میں موجود اپنی حکمران جماعت اور حزب اختلاف جماعتوں کے درمیان باہمی رضامندی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ آئین کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ اور ایک پارلیمانی جمہوری ریاست کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ تصویر میں بھٹو ایک ریلی میں آئین کی منظوری کا اعلان کر رہے ہیں۔

—تصویر: ہرالڈ

1974 میں ایک آرٹ کی نمائش میں پاکستانی فلمی اداکار وحید مراد، ایک نامعلوم مہمان اور ٹی وی ادکارہ سائرہ کاظمی ساتھ کھڑے ہیں۔ بھٹو حکومت کے دوران پاکستانی فلمی صنعت اور ٹی وی اپنے سنہرے دور میں داخل ہوئے تھے۔

—تصویر: فائل

1974 میں ’احمدیہ معاملہ’ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا. بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ میں مذہبی بحث و مباحثوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مگر جماعت اسلامی نے یہ کہتے ہوئے رد عمل دیا کہ گنجائش ہے کیونکہ آئین کے مطابق پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ریاست ہے۔

جب فسادات نے شدت اختیار کر لی اور پنجاب اسمبلی کے چند پی پی پی ممبران نے بھی مطالبے کی حمایت کرنے لگے تو بھٹو نے پارلیمنٹ میں احمدیہ مخالف بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ آئین میں ترمیم کی گئی اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

—تصویر: ڈاکٹر قاضی

بھٹو نے سوویت یونین اور امریکا کے غلبے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ’تیسرا بلاک’ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ بلاک مسلم ممالک کے درمیان اتحاد سے قائم کرنا تھا۔ بھٹو نے 1974 میں شہر لاہور میں ایک کانفرنس منعقد کروائی جس میں تمام مسلم ممالک کے ریاستی اور حکومتی سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔

—تصویر: آرکائیوز 150

1975 میں سیاح راولپنڈی میں ایک ہوٹل کے باہر تانگے کی سواری کر رہے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں پاکستان میں شعبہ سیاحت نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بے زبرست اقدامات کیے۔

—تصویر: معظم علی

1976 میں پی آئی اے کے طیارے کراچی ایئر پورٹ پر کھڑے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں کراچی ایئر پورٹ سب سے مصروف ترین ایئر پورٹس میں سے ایک بن چکا تھا اور ’درہ ایشیاء’ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔

—تصویر: عمران کاظمی

1976 میں کراچی کا ایک ہوٹل نئے سال کے جشن کے موقعے پر برقی قمقموں سے جگمگا رہا ہے۔

—تصویر: آرکائیوز 150

ایک اور انجام: بھٹو اپنے پارٹی ممبران اور اپنے نئے فوجی سربراہ ضیاء الحق (بائیں جانب سے تیسرے نمبر پر) کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ عالمی تیل کے بحران کے باعث اور بھٹو کی پریشان کن معاشی پالیسیز کی وجہ سے ملک میں بحران پروان چڑھ رہا تھا، جس سے خاص طور پر متوسط اور نچلا طبقہ متاثر ہو رہا تھا۔

بھٹو کے تحکمانہ رویے کی وجہ سے ان کے بائیں بازو کے اتحادیوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ مارچ 1977 میں مذہبی جماعتوں نے ایک حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا۔ تحریک نے شرعی قوانین نافذ کرنے اور حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ بھٹو نے نائٹ کلبز بند کر دیے، شراب کی فروخت پر پابندی عائد کردی (صرف مسلمانون کے لیے) اور ’سوشلسٹ پالیسیز’ پر عمل کرنے وعدہ کیا۔ مگر جولائی، 19 جولائی 1977 میں ضیاء نے فوجی بغاوت کے تحت ان کی حکومت گرا دی۔

ضیا کا عہد: جولائی، 1977 میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں جنرل ضیاء نے پاکستان کو ’اسلامی ریاست’ بنانے اور ’اسلامی’ قوانین متعارف کروانے کا عہد کیا۔

—تصویر: ٹائم میگزین

معمولی مجرموں، ’تکلیف دہ’ صحافیوں اور بنیاد پرست طلبہ کو باقاعدگی کے ساتھ عوامی مجمعے کے سامنے کوڑے مارے جاتے تھے۔

—تصویر: نیشنل جیوگرافک

1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر فوجی حملہ کیا تو امریکا اور سعودی عرب نے پاکستان کے شمالی علاقوں سے سوویت کے خلاف جنگ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضیاء حکومت کو بے پناہ اسلحے اور روپوں کی صورت میں امداد شروع کر دی۔

—تصویر: آرکائیوز 150

1981: امریکا اور سعودی عرب سے ملنے والی بے تحاشا امداد اور ضیاء حکومت کی تجارت دوست پالیسیاں پاکستان میں 1980 کی دہائی کے اوائل میں زبردست اقتصادی ترقی کا باعث بنیں۔

—تصویر: اخبارِ وطن

1982 میں جب پاکستان نے عالمی ہاکی کپ حاصل کیا تب پاکستان دنیائے ہاکی کے افق پر جگمگا رہا تھا۔ پاکستان نے تیسری بار عالمی خطاب حاصل کیا تھا۔ ہاکی میں ڈرامائی زوال سے پہلے ایک بار اور بھی عالمی خطاب اپنے نام کیا۔

—تصویر: ڈان

1985 میں طالبات اپنی ساتھی طالبہ کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں جو کراچی میں ایک روڈ حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ اس واقعے سے شہر میں وحشتناک نسلی فسادات پھوٹ پڑے۔ نسلی تناؤ، بڑھتے شرح جرم اور منشیات اور اسلحہ مافیا کی وجہ سے کراچی کے حالات بد سے بدتر ہونا شروع ہوگئے۔

—تصویر: روزنامہ جنگ

جب ضیا حکومت نے افغان جنگ کو تقویت پہنچانے کے لیے شدت پسندوں کو مضبوط کیا تب پرتشدد فرقہ وارانہ تنظیمیں نمودار ہونا شروع ہو گئیں۔ 1980 کی دہائی تک پورے پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد پھیل گیا تھا۔

—تصویر: ڈان

1988 میں ضیاء کا طیارہ ایک مبینہ بم حملے سے تباہ ہونے بعد پاکستان میں جمہوریت دوبارہ لوٹ آئی۔ 1988 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔

ضیاء کی موت کے بعد مقامی پاپ موسیقی کو کافی فروغ ملا اور یہ سلسلہ 1990 کی دہائی تک جاری رہا۔

—تصویر: اکیولا

بے نظیر کا عہد: بے نظیر بھٹو 1988 میں حلف اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو دوبارہ ایک جمہوری ریاست بنانے اور ضیاء کی ’رجعت پسندانہ پالیسیوں’ کو ختم کرنے کا عزم کیا۔ مگر سوویت کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکی امداد کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا، اس لیے وہ 1980 کی دہائی جیسی اقتصادی ترقی تو ان کے حصے میں نہ آئی مگر ان کے حصے میں ضیا کی دیگر باقیات جیسے ادارتی بدعنوانی، منشیات مافیا، اور فرقہ وارانہ اور نسلی تشدد ضرور آیا۔

اپنی حکومت کی زبردست نااہلی کے ساتھ ان کا پہلا دور حکومت تباہ کن ثابت ہوا۔ 1993 میں دوبارہ منتخب ہونی تھیں اور ایک بار پھر 1996 میں ان کی حکومت ختم ہونی تھی۔

—تصویر: ڈاکٹر جی بی قاضی

نواز کا عہد: 1990 میں نواز شریف حلف اٹھا رہے ہیں۔ ان کی پاکستان مسلم لیگ 1990 کے اتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئی۔ انہوں نے "ضیاء کے مشن کو جاری رکھنے" اور پیپلز پارٹی کو "ضیاء کی اسلامائزیشن کو پٹری سے نہ اتارنے دینے" کا عہد کیا۔ انہوں نے کاروبار دوست پالیسیاں لانے کا بھی وعدہ کیا۔ مگر معیشت پر قابو کرنے میں ناکامی اور ہاتھ سے نکلتے ہوئے سیاسی حالات کی وجہ سے ان کی حکومت کا اختتام ہوگیا۔ 1997 میں وہ دوبارہ منتخب ہوئے، مگر 1999 میں ان کی حکومت پھر ختم کر دی گئی۔

—تصویر: کرکٹ آسٹریلیا

مگر اسی دوران جب ملک فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات، بدعنوانی، اور کمزور معیشت جھیل رہا تھا، اس کی کرکٹ ٹیم نے 1992 کا ورلڈ کپ جیت لیا۔

—تصویر: بی بی سی

ایک اور اختتام: پاک فوج کے سپاہی 1999 میں پی ٹی وی کے گیٹ پھلانگ رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے دوسری نواز حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

مشرف کا عہد: مشرف نے بھی پاکستان کو جناح کے وژن کے مطابق چلانے کا عہد کیا۔ اس کے لیے انہوں نے کہا کہ وہ "روشن خیال اعتدال پسندی" کا سہارا لیں گے۔ درحقیقت یہ نظریہ ایوب کے مسلم ماڈرن ازم کی ایک نئی شکل تھی جس میں آزاد معیشت اور فوج کے زیرِ اثر ایک کنٹرولڈ جمہوریت شامل تھی۔

مشرف نے کئی انتہاپسند اور فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی عائد کر دی، ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے، نواز اور بینظیر کو جلاوطن کر دیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے اتحادی بن گئے۔

ابتدائی چھے سالوں میں مشرف حکومت کافی مقبول رہی۔ جرائم، اور فرقہ وارانہ و لسانی قتل و غارت میں کمی آئی، معیشت بحال ہوئی اور شہری مڈل کلاس پھیلنے لگی۔ شہروں میں معاشی ترقی کے اثرات دکھائی دینے لگے اور پاکستانی سنیما بھی ایک بار پھر اپنے قدم جمانے لگا۔

—تصویر فائل

بلبلے کا پھٹنا: 2007 میں مشرف حکومت کے خلاف ملک گیر وکلاء تحریک شروع ہوگئی۔ معیشت میں زوال آنا شروع ہو گیا تھا اور القاعدہ نے پاکستانی سرزمین پر حملے شروع کر دیے تھے۔ کمزور ہوتی ہوئی حکومت کے آدھے ادھورے اقدامات معاشرے سے انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے۔ اسی سال انتہاپسندوں نے بینظیر بھٹو کو قتل کر دیا اور مشرف کا ملک پر کنٹرول مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ 2008 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے انتخابات جیتنے کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔

مزید افراتفری: نئی پیپلز پارٹی حکومت کے دوران انتہاپسندوں کے حملوں اور ذہنیت نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نئی حکومت کے سامنے نااہلی، بدعنوانی، قاتلانہ حملے، سیاسی رسہ کشی، اور سیاستدانوں کے ساتھ کھیل کھیل رہی فوجی اسٹیبلشمنٹ جیسے چیلنجز موجود تھے۔ 2013 تک ملک شکست خوردہ اور الگ تھلگ ہوچکا تھا۔

ایک نیا عہد: جب نواز شریف نے تیسری دفعہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے حلف اٹھایا، تو ان کی حکومت ملک کے مسائل میں گھرے ہونے کی وجہ سے مفلوج نظر آ رہی تھی۔ پھر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملکے نے حکومت کو متحرک کیا، اور نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گذشتہ کئی سالوں کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کو بدلنا شروع کیا۔

حکومت، فوج اور اپوزیشن جماعتیں ساتھ مل بیٹھیں اور ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے انتہاپسند اور فرقہ وارانہ عناصر کے خلاف عسکری آپریشن کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کی بھی منظوری دی گئی جو ایسی اصلاحات کا مجموعہ تھا جن کا مقصد معاشرے سے انتہاپسند ذہنیت کا خاتمہ تھا۔

2016 تک ملک میں جرائم اور دہشتگرد حملوں کی شرح قابلِ تعریف حد تک کم ہو چکی تھی۔ جناح کے پاکستان کی تعمیر کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *