حبیب جالب اور ریاض شاہد پاکستان میں سوشلسٹ فلم انڈسٹری کا ایک روشن عہد

کیسے حبیب جالب اور ریاض شاہد نے پاکستان میں سوشلسٹ سینما کی بنیاد jalibرکھی یہ سب کچھ ان دونوں شخصیات کا پان کے پتوں سے باہمی محبت کا شاخصانہ تھا۔ فلم ساز ریاض شا ہد  اور مشہور شاعر حبیب جالب اسی پان شاپ کے پراکثر ملتے تھے جوکہ لاہور کےعلاقہ ایورنیو سٹوڈیو کے قریب واقع ہے ۔ جب کبھی بھی وہ ایک دوسرے  سے ملتے تو آئیڈیالوجی، سیاست اور فلم کو موضوع باعث بناتے۔اور اسی پان شاپ پر لالی ووڈ کی بہترین جوڑی کی بنیاد رکھی گئ۔ان دنوں میں شاہد ابھی تک صرف سکرین رائیٹر تھا اور وہ بائیں بازو کی مشہور شخصیت حبیب جالب کا بڑا فین تھا اور اکثر سوشلسٹ نظریات کے حامیوں کے لاہور میں جلسے جلوسوں میں شرکت کرتا تھا۔اس کی کشمیر، الجیریا اور فلسطین سے محبت اسی سوشلسٹ نظریہ کی عکاس تھی۔ یہ وہ عہد تھا جب ترقی پسند شاعر اور لکھاری سامراجی طاقتوں کے خلاف لڑنے والےمسلم جنگجووں کے لیے نیک تمنایئں رکھتے تھے۔ بد قسمتی سے اس زمانے کا کوئی بھی ڈاریکٹر یا لکھاری اس قابل نئیں تھا کہ وہ ترقی پسندانہ ورثے کو لے کر چلتا۔ اس زمانے میں حبیب جالب بالا شبہ ایک مشہور شخصیت بن چکے تھے اوروہ مشاہروں کی رونق سمجھے جاتے تھے  جہاں اس کے الفاظ کی معنویت کی چمک سب پر عیاں ہوتی جب جالب نے کہا کہ اس ظلمت کے دور میں ہمارے عظم کو ضیا کے اوچھے ہتکنڈے مزید تقویت دیں گے۔ جالب کے پاس معنویت کی صنف پر کمال کا عبور تھا ۔ اور پھر وہاں مشہورفلمز "اس شہر کی خرابی" اور "شوق آوارگی" کے گیتوں نے بہت دھوم پائی۔کیونکہ یہ گیت پہلے ہی ادبی مشاہروں میں میں بہت ہٹ ہو چکے تھے اور جالب کی بہترین ادبی تخلیق بن چکے تھے۔ شاہد ریاض اور جالب کے درمیان دوستی کا راز ایک دوسرے کے فن کا ادب و احترام تھا اور بہت جلد یہ رشتہ لازوال محبت اور پروفیشنل ہم اہنگی میں تبدیل ہو گیا۔
riaz shahid

شاہد کی فلمی ڈائیلاگز میں وہی شعلے عیاں تھے جو کہ جالب کی شاعری میں پنہاں تھے ۔شاہد ریاض کیوں کہ جالب کی شاعری سی متاثر تھے اس لیے انہوں نے جالب صاحب کی جعفر بخاری سے ملاقات کروائی اور اسکی انےوالی فلم "بھروسہ " کے لیے جالب کو متعارف کروایا ۔جس کےلیے ۔شاہد ریاض سکریں پلے لکھ رہا تھا۔۔بخاری  صا حب فوری طور پر راضی ہو گئے اور وہ بھی میوزک ڈائریکٹر اے حمید کی پہلی فلم کو دیکھ رہا تھا جو بعد میں خلیل قیصر اور ریاض شاہد کے لیے بھی پسندیدہ بنا۔ اس طرح  یہ گروپ نظریاتی طور پر ایک پیج پر نظر آیا ۔شاہد فلسطینی گریلا جنگجو لیلا خالدـ( جوکہ فلسطین کی پاپولر لبریرشن ٖفرنٹ کی رکن تھی ) سےبہت متاثر تھا ۔ اس نے مسرت نذ یر کو خلیل قیصر کی فلم "شہید" میں یہی کردار دیا اور اس طرح فلسطین کے مسلہ کو ایک نیا موڑ دیا اگرچہ لیلہ خالد تو کبھی نیں مرا لیکن اس فلم میں مسرت کی موت واقع ہو گی اور اس طرح فلم میں اور فلسطین کی مہم میں بہت مشابہت پائی گئ۔

اس طرح جالب اور شاہد میں پروفیشنل تعلق پیدا ہوا  اور دونوں نے قیصر خلیل کی فملوں میں اور بعد میں ریاض کی فلموں میں اکٹھا کام کیا ان فلموں میں "خاموش رہو"، "ذرقہ"۔، "یہ امن" اور "بہشت" سمیت کئی دیگر فلمیں شامل ہیں۔قیصر نے ایک گروپ تشکیل دیا جس نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا ۔قیصر، شاہد اور جالب کے علاوہ علاوالدین اور تالش جو کہ موسیقی ڈاریکٹر اور موسیقار تھے یہ سب لوگوں کی راۓ کا احترام  کرتے تھے۔۔۔شاہد اور جالب کی مشترکہ کاوش فن کا اعلی نمونہ تھی اور انکی مشتکہ کاوش "خاموش رہو" انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گئ۔یہ فلم جمیل اختر نے ڈارئیکٹ کی اور فلم کی موسیقی خلیل احمد نے ترتیب دی ۔اس کے فنکاروں میں اداکارہ دیبا، یوسف خان، محمد علی اور مینا شوری شامل تھے۔ یہ فلم اداکار محمد علی کیلے لالی ووڈ میں انٹری کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔ یہ فلم ایک قحبہ خانہ کے مالک کے مکروہ دھندے کے گرد گھومتی ہے اور اس فلم میں کئی پہلو تھے جس میں جسم فروشی اور ارینج میرج کے درمیاں  مشابہت کو نمایاں کیا گیا۔لیکن فلم کی کہانی انے والی جنگ کے اثرات کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ ٰیہ فلم جولائی 17 ،1964 کو منظر عام پر آئی جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کا کوئی اثار نہں تھا ۔۔۔سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو علم تھا کہ صدر ایوب خان نے جبرالٹر نامی اپریشن مقبوضہ کشمیر میں شروع  کررکھا تھا۔ فلم "خاموش" کی موسیقی جالب نے ترتیب دی ۔مالا کا سپر ہٹ گانا جس کے بول تھے "میں نے تو پریت نبھائی سانوریا" جوکہ ہمارے فوجیوں کا عزم بڑہانے کےلیے تھا جو بارڈر کی نگرانی کر رہے تھے

۔۔ظاہری طور یہ گانا ایک منگیتر کا اپنے فوجی مینگیتر کیلے ایک درد بھرا گیت تھا جو بعد میں پوری قوم کی آواز بنا اور قوم کو عنقریب جنگ سے اگاہ کیا۔

 گیت کے بول  تھے "آنے کو ہئ لوگ بڑے اور سپاہی لوٹ کے آ جانا"

سولین لوگ یہ کہتے تھے کہ "میں نے تو پریت نبھائی سانوریا نکلا تو ھرجائی"۔ اس طرح جالب کے گیتوں نے بیرونی لوگوں کی آمد کی نوید سنائی اور ستمبر1965 میں انڈیا نے جنگ شروع کر دی۔۔صرف یہ ہی نیں کہ جالب اور شاہد نے تباہی کی نوید سنائی بلکہ فلم "خاموش رہو" خود ایک وارننگ تھی

 جالب کی مشہور نظم "دستور" جو انہوں نے لیاقت باغ میں ایوب خان کے  خلاف پڑہی اور جس پر انہں جیل میں ڈال دیا گیا لیکن بعد میں اس نظم کو فلم میں شامل کیا گیا۔۔تا ہم اس کے پہلے مصرے میں تبدیلی کی گئ " ایسے دستور کو صبح بے نور کو" فلم میں احمد رشدی نے یہ لائین گایں  "تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہں مانتا "  تاکہ سنسر بودڈ سے اجازت مل سکے لیکن

 میں نیں مانتا کی لایئنوں نے مارشل لا ایڈمنسٹریشن کی بنیادییں کھوکھلی کر دی۔اس طرح شاہد نے موجودہ حالات جو میڈیا میں رپوٹ ہوۓ کو بھی اپنے کرداروں میں اور ڈائیلاگ میں سمویا۔ کوٹھے والی میڈم جس کا کردار عقیل اختر رانی جو کہ جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئی وہ با قاعدگی کے ساتھ معاشرے کی ایلیٹ کلاس کو لڑکیاں مہیا کرتی تھی اس وقت جنرل یحی خان نے اقتدار سنبھالا تھا۔۔فلم میں کو ٹھے کی مالکن مینا شوری اداکار محمد علی کو استعمال کرتی کہ وہ دیہاتوں کی لڑکیوں کو اٹھا کر لاۓ اور پھر یہ لڑکیاں بڑے  بڑے جاگیرداروں اور جنرلز کو پیش کی جاتیں۔۔ آخر کار محمد علی کا ضمیرجاگ جاتا ہے اور وہ  قحبہ خانے میں مظلوم لڑکیوں کے حقوق کے لیے لڑتا ہے ۔اور جب آرمی کا جوان جو کہ اصل ہیرو ہوتا ہے قحبہ خانے پہنچتا ہے تا کہ اس برائی کو ختم کرے تو محمد علی اس سے کہتا ہے اپ کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اندر ہم سنبھال لیں گے اس طرح شاہد نے موجودہ سول اور عسکری کچھاو کی عکاسی کی۔

اس طرح دوسری کلاسک فلم جو اس سوشلسٹ جوڑے کی وجہ شہرت بنی وہ تھی فلم " ذرقا"جو کہ مسلہ فلسطین کے موضوع تھی۔ یہ فلم 17 اکتوبر 1969 کو ریلز ہوئی۔جب جنرل ایوب نے اقتدار یحی خان کو حوالے کیا۔  ذرقہ جو کہ فلسطینی لڑکی تھی اس کے اوپر  اسرائیلی جنرل کا دباو تھا کا کہ کیونکہ وہ یاسر عرافات کے الفتح گروپ کی رکن تھیں اس لیے وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی  کے افسروں کے لیے ڈانس کرے اور ساتھ میں بہت کچھ اوربھی ۔۔ ابھی یہ فلم کی کہاانی نامکمل تھی کہ اس میں اصل زندگی کا واقع منظرعام ہوا کہ اداکارہ نیلو ۔۔جو کہ فلم ذرقہ کی ہیروئین۔ تھی۔ کو حکومت نے بلایا کہ وہ شاہ ایران جو حکومتی دورے پرآے ہوۓ تھے اسکوڈانس پارٹی میں انٹرٹین کرے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاہ ایران نواب آف کالا باغ کے مہمان تھے اور انہوں نے نیلو کو بلایا۔تا ہم ڈانس کے دوران نیلو بے ہوش ہو گئں خوف اور پریشانی کی وجہ سے اور کچھ کہتے ہیں کہ نیلو نے خود کشی کی کو شش بھی کی

۔ کیونکہ نیلو ریاض شاہد کے قریب تھی  اور فلم کی ہیروئین تھی چنانچہ سوشلسٹ ونگ نے بڑی بہادری سے فیصلہ کیا کہ اس سین کو فلم میں شامل کیا جاۓ گا۔ چنانچہ فلم کے ڈانس سین میں ایک یہودی جنرل جس کا کردار اداکار تالش نے ادا کیا نے فلسظینی لڑکی کو ڈانس کرنے پر مجبور کیا جس  وجہ سے اس لڑکی کے فلسطینی ساتھی شرم سے ڈوب گے اور زلت کو برداشت کیا  اور جنرل نے لڑکی کو سگریٹ کے شعلووں جسم پر لگا کر چیخنے پر مجبور کیا  اور اسکو ازیت دی۔ اس معنویت نے فلم ذرقا  کے اس سین کو بہت شہرت دی۔ اس سین کے زریعے ریاض شاہد اور جالب نے فلسطینی مسائل اور نیلو کی بے عزتی دونوں کو فلم بند کر لیا۔ جالب نے اس موقع پر نظم لکھی اور شاہد نے اس نظم کو فلم میں ایڈجیسٹ کیا۔ یہ گیت وجاہت عطرے نے کمپوز کیا  اور الزام بادشاہت سے آرمی جنرل کو منتقل کیا۔ نظم کا عنوان نیلو تھا جس میں جالب نے لکھا کہ

؎ تو ں تو ناواقف اداب شہنشاہی تھی

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

البتہ شاہد نے فلم میں لفظوں کو تبدیل کر دیا

تو کی ناواقف اداب غلامی ہے ابھی

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جا تا ہے

یہ سین کوئی پیشن گوئی نیں تھی نیلو کا واقع پہلے ہی مشہور ہو چکا تھا اور یہ کوئی پرانا واقعہ نہ تھا  اور جنرل یحی خان کے دور میں فلمی اداکاروں کو ڈانس کیلے اکثر صدر ہاوس بلایا جاتا تھا یہ کہا جاتا ہے کہ ترانا نامی لڑکی اور اداکارہ جس کا تعلق ایران سے تھا صدر یحی کے پاس صدرکے گھر میں اکثر اتی جاتی تھی۔

جالب اور شاہد ریاض صرف 1972 تک  اکٹھے کام کر سکے اور اسی سال اکتوبر میں شاہد ریاض فوت ہو گے۔ شاہد کی آخری فلم تھی "یہ امن" جو کہ مسلہ کشمیر پر بنی جالب نے اس فلم کے نغمے بھی لکھے جس میں مشہور اور سپر ہٹ گانا تھا "ظلم رہے اور امن بھی ہو" جسکو میڈم نور جہاں اور مہدی حسن نے گایا

یہ ستم ظریفی تھی کہ یہ فلم یحی خان کے دور میں بنی لیکن زوالفقار بھٹو کے دور میں ریلز ہوئی۔لیکن سنسر بورڈ نے اس فلم کا حلیہ بگارڈ دیا ۔ شاہد ریاض کی آخری فلم اس کی زندگی میں ریلز ہوئی۔

حبیب جالب نے شاہد کی وفات کے بعد بھی فلموں کے لیے لکھنا جاری رکھا جس میں مشہور فلمیں "ذخمی" "محبت" اور "ناگ منی" لیکن جالب کا ردہم ٹوٹ گیا۔اس وقت سے لیکر اج تک کسی ڈائریکٹراورسکرپٹ رائیٹر نے معاشرے کے سیاسی حالات کی سہی عکاسی نیں کی جو شاہد ریاض اور جالب نے کی۔ حتی کہ مشہور رائیٹر حسن طارق بھی ان مسائلز پر فلمز بنا نہ سکا جو کام ریاض شاہد اور خلیل قیصرنے کیا۔ شاہد کی وفات کے ساتھ ہی بالی ووڈ میں سوشلسٹس  طبقے کا اثروروسوخ ختم ہو گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *