قطر کی ایک جھلک

Amir bin ali

اسلا می فنو نِ لطیفہ کے شا ہکا ر پو ری دنیا میں بکھرے پڑے ہیں ۔ چو دہ سو سا ل میں ارتقا ء پا نے والے ان فنو ن کی ایک جھلک اگر آپ ایک ہی دن میں دیکھنا چا ہیں ، تو پھر اس کے لیے دنیا میں بس ایک ہی جگہ ہے ، اور وہ جگہ ہے دوحہ ، قطر میں واقع اسلا می آرٹ میو زیم ۔ عجا ئب گھر کی پا نچ منزلہ بے ستو ن عما رت جو کئی ایکڑ پر پھیلی ہو ئی ہے ، بذات خو د فن تعمیر کا ایک عظیم شا ہکا ر ہے۔ بلا مبا لغہ یہ مشر ق وسطیٰ کا سب سے بڑا اور معیا ری عجا ئب گھر ہے۔ اگر چہ ایرا ن ، مصر اور عرا ق میں بڑے اچھے اچھے میو زیم مو جو د ہیں ، مگر جس مذہبی نقطہ نظر کے تحت یہ میو زیم قا ئم کیا گیا ہے ، اس کی اسلا می دنیا میں کو ئی مثا ل نہیں ملتی ہے ۔ ڈیڑھ ہزار سا ل کی اسلا می تا ریخ کے دو ران تشکیل پا نے والے تما م فنو ن کا خلا صہ ایک چھت کے نیچے قا ئم کر لینا یقیناًایک بڑا مشکل ، مہنگا اور قا بل ستا ئش کا م ہے ۔ اس میو زیم کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خوا ہش پیدا ہو ئی کہ مکہ اور مدینہ میں بھی اس طرح کا اگر میو زیم بنا دیا جا ئے تو یہ بڑی نیکی اور بھلا ئی کا کا م ہو گا ۔
یہ جا ن کر شا ید آپ بھی حیران ہو نگے کہ تا زہ ترین مردم شما ری کے مطا بق قطر کی کل 26 لا کھ آبا دی میں سے قطر کی شہر یت کے حا مل افراد کی تعداد محض تینلا کھ تیرہ ہزار ہے ۔ اتنی مختصر سی آبا دی ، جو کہ میری آبا ئی تحصیل کی آبا دی سے بھی نصف ہے ، اس کے با وجو د دو حہ عالمی معیا ر کا ایک بڑا اور اہم شہر بن چکا ہے ۔ اس کے علا وہ سا حلی پٹی کے سا تھ سا تھ قا ئم شہرو ں میں واکرہ مجھے بہت پسند آیا ۔ قطر کی سرکا ری اور نیم سر کا ری عما رات کو دیکھ کر احسا س ہو تا ہے کہ یہا ں کے شا ہی خا ندان کو آرٹ کے شعبے سے خا ص لگا ؤ ہے ، ورنہ فنو نِ لطیفہ سے دلچسپی کے بغیر ملک میں اس طر ح کا فنکا ر انہ ما حول پیدا ہو ہی نہیں سکتا ۔ متحدہ عرب اما رات ، سعو دی عرب یا بحرین میں آپ کو دولت کی ریل پیل اور اما رت کے جا بجا مظا ہر تو نظر آتے ہیں، مگر فنو ن لطیفہ کا کو ئی پہلو مشکل سے ہی وہا ں ملتا ہے ۔ مجھے اس پہلو سے قطر گلفکا رپو ریشن کے با قی پا نچ مما لک سے ذرا مختلف لگا ۔ شہر کے مرکز میں پھو ل کی پتیو ں کا منظر پیش کر تی ہو ئی ایک پر شکو ہ زیر تعمیر عما رت کے متعلق میں نے استفسا ر کیا تو پتا چلا کہ کئی ایکڑ رقبے پر پھیلی اس عظیم الشا ن عما رت میں قطر نیشنل میو زیم قا ئم ہو نے جا رہا ہے اور اس کا افتتا ح بھی اسی سا ل ہو گا ۔ یہ میو زیم بھی اسلا می فنو ن لطیفہ کےعجا ئب گھر سے بڑھ کر اگر نہیں تو اسی کی چو ٹ کا ضرور ہے ۔ عرض یہ ہے کہ میو زیم میں جس طرح تا ریخی فن پا رے ایک جگہ جمع کیے جا تے ہیں اس کے لیے بے تحا شا دولت تو درکا ر ہو تی ہی ہے ، اس کے سا تھ سا تھ بہت زیا دہ محنت سے ان اشیا ء کو جمع کیا جا تا ہے ، بڑی لگن اور لگا ؤ درکا ر ہو تا ہے ۔ اس سب سے بڑھ کر ذوق چا ہیے ،فنو ن لطیفہ کے متعلق اعلیٰ ذو ق سے ہی اسے میو زیم تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔جزیرۃالعر ب سے لیکر ترکی اورایران تک ، سنٹرل ایشیا ء سے لیکر بر صغیر پا ک وہند اور سپین تک پھیلی اسلا می عہد کی روایا ت ریاستی سرپرستی کے دوران پروان چڑھنے والے فنو ن کو اکٹھا کر نا یقیناًبڑا کا م ہے ۔Image result for qatar
قطر کی زمینی حدود فقط سعو دی عرب کے سا تھ ملتی ہیں جبکہ سمندری حدود متحدہ عرب اما رات اور بحرین کے علا وہ ایران کے سا تھ بھی ملتی ہیں ۔ خلیج فا ر س میں واقع اس جزیرہ نما ملک کا رقبہ اور آبا دی تو انتہا ئی مختصر ہے مگر یہا ں اب تک کی دریا فت کے مطا بق دنیا میں گیس اور تیل کے تیسرے بڑے ذخا ئر مو جو د ہیں ۔ اسی سبب سے شا ید یہا ں امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنا سب سے بڑا بحری اڈا قا ئم کیا ہے ۔ الجزیرہ ٹی وی سے منسلک میرے میز با ن روئیس ممتا ز ، جو خو بصور ت لہجے کے شا عر اور جرا ت مند صحا فی بھی ہیں ، ان کے بقول 1995 ء میں جب قطر کے مو جودہ امیر نے اپنے والد کو معز ول کر کے زما مِ اقتدار سنبھا لی تو امریکہ بہا د رنے فقط اس شرط پر نئی حکومت کو تسلیم کیا تھا کہ وہ قطر میں اسے بحری اڈا قا ئم کر نے کی اجا زت دے گی ۔ سچ پو چھیں تو قطر میں یہ اقتدار کی منتقلی انتہا ئی مثبت ثا بت ہو ئی ، جو ہری تبدیلیو ں کا پیش خیمہ اس طرح بنی کہ ملک کا نا ک نقشہ ہی با لکل بدل گیا ۔شیخ حما د بن خلیفہ کے دو عشرو ں پر محیط اس عہد میں معیشت نے انتہا ئی تیز اور خیزہ کن تر قی کی ہے ۔ قطر کاعا لمی سطح پر امیج ہی با لکل بدل گیا ہے۔
ملک میں جا بجا فٹ با ل عا لمی کپ 2022 ء کی میز با نی کے لیے تیا ریا ں ابھی سے عرو ج پر نظر آ تی ہیں ۔ تعمیرا تی کا م زور ر و شور سے جا ری ہیں جس کے سبب رو زگا ر کے بے پنا ہ مواقع پیدا ہو رہے ہیں ۔ یا د رہے کہ قطر کئی بر سو ں سے مسلسل دنیا بھر میں فی کس آمدنی کے اعتبا ر سے امیر ترین ملک ہو نے کا اعزاز رکھتا ہے ۔ ملک کی کر نسی ریا ل ہے ۔ جو ہما رے تیس روپے میں ایک آتا ہے ۔ ملک میں تعلیم با لکل مفت ہے ، اور کسی قسم کا کو ئی ٹیکس بھی نہیں ہے ، ٹیکس فری ریا ست ہو نے کا اعزاز آج کی دنیا میں معجزہ ہے ، صحت کی تما م سہو لیا ت بھی یہا ں اپنے شہر یو ں کو مفت فرا ہم کی جا تی ہیں ۔
عر بو ں کے متعلق میرا عمو می تا ثر یہی ہے کہ مغروراور بد تمیز ہو تے ہیں، مگر یہا ں آکر محسو س ہوا کہ مجھے اپنی رائے پر نظر ثا نی کر نا پڑے گی ۔ اس سفر کے دوران قطر کی سر زمین کا یہ منشور اور نظریہ سا منے آیا کہ مسا فر کبھی اجنبی اور پرا یا نہیں ہو تا ، بلکہ وہ ایک ایسا دو ست ہو تا ہے جس سے آپکی ملا قا ت ہو نا ابھی با قی ہے، جو دوست پہلے کبھی آپ سے نہیں ملا ہے ۔ اس نظریے کی عملی صور ت میں ایک جھلک قومی ائیر لا ئن پیش کر تی ہے۔ قطرائیر لا ئین کو قطر ی حکو مت باقا عدہ منصو بہ بندی کے تحت ملک میں سیا حت کے فرو غ کے لیے بڑی کا میا بی کے سا تھ ، ایک آلہ کا ر کے طور پر استعما ل کر تی ہے ۔ اچھی سر وس ، کم دام ٹکٹ ، وسیع و عر یض اور پر تعیش سستاائیر پو رٹ اور امیگر یشن کا دو ستا نہ اور آسا ن مر حلہ مل جل کر سیا حت کے فرو غ میں غیر مر ئی طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ملکی ائیر لا ئن کوسیا حت کے فرو غ کے لیے استعمال کر نے کی دو دیگر کا میا ب مثا لیں تھا ئی لینڈکی تھائی ائیر ویز اور متحدہ عرب اما رات کی ایمر ٹس اور اتحا د ائیر لا ئن ہیں ۔
شا ئقین فن دو حہ اور مجلس فرو غ اردو کی ایوارڈ ز تقریب میں راجو جمیل عا لی بتا رہے تھے ۔ کہ دو دہا ئیا ں قبل قطر بو ریت سے بھر پو ر دیس تھا ۔ مگر آج دیکھیں تو یہا ں ایسی رنگا رنگی اور رونق میلہ ہے کہ تیزی سے یہ پو رے عا لم کے لیے ایک تفر یحی مقا م کی شکل اختیا ر کر تا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر کے سیا حو ں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ یہا ں یہ عرض کر تا چلو ں کہ قطر کا میرا یہ دو رہ مجلسِ فرو غ اردو اور اس سے منسلک شا ئقین فن دو حہ کی دعوت پر تھا، دو روزہ تقریبا ت میں ایوارڈ اور مشا عر ے کافقید المثال اہتمام تھا، پا کستا نی اور اردوبو لنے والی ہندو ستا نی کیمیو نٹی نے کثیر تعدا دمیں اس میں شرکت کی ۔ مذکو رہ تنظیمیں اردو زبا ن اور پا کستا ن کے سا فٹ امیج کے لیے بہت زیا دہ اور قا بلِ ستا ئش کا م کر رہی ہیں ۔
قطر کی تا ریخ بیا ن کر وں تو یہجزیرہ نما بر طا نو ی ، اس سے پہلے سلطنتِ عثما نیہ اور پر تگالی قبضے میں رہا ۔ مزید پیچھے جا ئیں تو بدو قبا ئل یہا ں حکمرانی کر تے تھے۔ 1777 ء میں یہ دیس ایران کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ اسی دوران بحرین کے سا تھ اس کی طویل جنگ کاآغا ز ہو گیا ۔ قطر اور بحرین کی جنگ کا فا ئدہ اٹھا تے ہو ئےبر طا نیہ نے اس ملک پر قبضہ کر لیا جو کہ 1971 تک قا ئم رہا ۔ اسی عہد کی وجہ سے ملک کی سر کا ری زبا ن عربی کے علا وہانگریز ی بھی ہے ، رسمی آزادی حا صل کر نے سے پہلے بھی مو جو دہ حکمران خاندان ہی قطر پر حکومت کر ہا تھا۔ اس شا ہی خا ندان نے انیسو یں صدی میں اقتدار حا صل کیا تھا ۔ انگریز کے سا تھ ان کے ہمیشہ تعلقا ت بڑے خو شگوار رہے ہیں ۔ یہی وہ تا ریخی پس منظر ہے جس کے سبب مشر ق وسطیٰ بلکہ اسلا می دنیا کا سب سے مو ثر انگریز ی و عر بی چینل الجزیرہ اس ملک میں قا ئم ہوا تھا ۔ ابتدا میں الجزیزہ کو اسا مہ بن لا دن اور القا عدہ کے رہنما ؤں سے کیے گئے انٹر ویوز نشر کر نے پر شہر ت ملی تھی ۔ الجزیرہ سے منسلک میرے میزبا ن دو ست نے بتا یا کہ اس ادا رے میں حکو متی یا اداراتی مدا خلت نہ ہو نے کے برا بر ہے ۔ میرے لیے یہ با تخو شگوار حیر ت کا سبب ہو نے کے سا تھ نا قا بل یقین سی لگتی تھی ،مگر ایک تقریب میں الجزیرہٹی وی کے سا تھ دس سا ل تک منسلک رہنے والے پا کستا نی نژاد صحا فی سے ملا قا ت ہو ئی ،تو اس نے تصدیق کی کہ ٹی وی کا ما حو ل عا لمی معیا ر کے نشر یا تی اداروں جیسا آزادانہ اور خو د مختارانہ ہے ۔ سنسر شپ بہت ہی محدود نو عیت کی ہے ۔
اونٹو ں کی دو ڑ عر بو ں کی قدیم روایت ہے ۔ اس روایت میں ایک سفا ک پہلو اس طرح داخل ہوا کہ اونٹ کی کمر پر نو عمر بچو ں کو با ندھ دیا جا تا تھا۔ جب دو ڑ میں شا مل اونٹ دو ڑنے لگتا تو یہ بچے رونا شرو ع کر دیتے تھے، بچو ں کی چیخ و پکا ر سن کر یہ اونٹ اور تیز دو ڑنا شروع کر دیتے ، جیسے جیسے بچو ں کی آہ و پکا ر تیز ہو تی ، ویسے ہی اس شور کو سن کر اونٹ گھبرا کر اور تیز دو ڑنے لگتے ۔ اس دو ڑ کے خا تمے پر بہت سے بچے ہلا ک اور کچھ ہمیشہ کے لیے اپا ہج ہو جایا کر تے تھے۔ یہ بچے پا کستا ن جیسے غریب مما لک سے اغواء کر کے لا ئے جا تے تھے، اور ان معصو مو ں کو بردہ فرو ش چند سکو ں کی خا طر اونٹ دو ڑ کے شو قین ان عربو ں کو بیچ دیا کر تے تھے ۔ لق و دق صحرا میں ہو نے والی اس اونٹ دو ڑ میں شا مل بچو ں کے استعمال پر قطر کی حکومت نے پا بندی عا ئد کر دی ہے اور ان کی جگہ ریمو ٹ کنٹرول شتر با ن استعمال کیے جا رہے ہیں ۔ انسا نی ہمدردی کی یہ مثا ل مجھے بہت اچھی لگی جو کہ دیگر عرب مما لک کے لیے بھی قا بل تقلید ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *