بزم آرائیاں

nasir malik

آپ پوری دنیا گھوم لیں ، پنج اور ست ستارہ ہو ٹلوں کی میزبانی سے لُطف اندوز ہو لیں۔میلوں ٹھیلوں کی رونقیں دیکھ لیں حتیٰ کہ قریبی عزیزوں کے ساتھ وقت بتا لیں لیکن میرا خیال ہے جو مزا آپ کو دوستوں کی محفلوں میں آ تا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں آسکتا۔یار لوگ جانتے ہیں کہ جب احباب کی منڈلی سجتی ہے تو کیسا سرور اور سرشاری کا عالم ہوتا ہے ۔صحبتیں طول کھینچتی ہیں ، شامیں راتوں میں بدلتی ہیں، ایسے میں وقت گزرنے کا احساس کسے ہوتا ہے۔ شگفتگی ، بشاشت، رونق ایسی محفلوں کی خاص سوغاتیں ہیں۔دن بھر کی مصروفیت اور انتہائی تھکاوٹ کے باوجود بھی ایسی بزم میں بھاگ کر جانے کو دل کرتا ہے۔ہر نارمل انسان کے اندر دوستوں کے لئے ایسی ہی کشش موجود ہوتی ہے۔مکاتیبِ غالبؔ کا مطالعہ کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ حضرت صحبتِ دوستاں کے لئے کس قدر خواہش اور تڑپ رکھتے تھے۔یہ رنگارنگ بزم آرائیاں اُن کو آخر دم تک یاد رہیں۔اور یہ بس حضرتِ غالب ؔ پر ہی کیا موقوف ہے ہر صاحبِ دل کو ہمیشہ انہی صحبتوں کا متمنّی پایا گیا۔’’روزگار فقیر ‘‘ میں وحیدالدین فقیر ؔ لکھتے ہیں کہ والدِ محترم نجم الدین فقیر ؔ علامہ اقبال کے انتہائی بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔بھاٹی دروازے میں ان کے آبائی مکان کے دیوان خانے میں ان دوستوں کی محفلیں خوب سجتیں۔اقبال دیگر احباب کے ہمراہ یہاں تشریف لاتے توکئی کئی گھنٹے منڈلی سجی رہتی۔ایسے میں ان دوستوں کی طویل صحبتیں بہتے ہوئے پانی کا سا عالم یاد دلاتیں ۔۔ کبھی سست خرام اور پر سکوت ۔۔کبھی پر شور اور طوفانی۔کبھی حکمت و دانش بھری سنجیدہ گفتگو ، کبھی بلند و بالا بے تکلف قہقہے۔روزمرہ کی عامی گفتگو سے لے کر انتہائی گہری اور رازدارانہ باتیں۔کوئی حالِ دنیا سناتا تو کوئی حالِ دل۔میر تقی میرؔ یاد آتے ہیں:
احباب جمع ہیں میرؔ حالِ دل کہہ لے پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
دوستی بڑا مذیدار سا رشتہ ہے۔ رشتہ داروں اور ہمسایوں کے برعکس دوستی ایک ایسا تعلق اور رشتہ ہوتا ہے جس کا انتخاب خالصتاً آپ خود کرتے ہیں۔دوستی کا کمال یہ ہے کہ دوست آپ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔دوست ہر اچھے کام پر دل کھول کر آپ کو داد دیتے ہیں اورکسی ناکامی پر آپ کا حوصلہ پست نہیں ہونے دیتے۔ انہی کی صحبت میں آپ کی ذات کے چھپے گوشے آپ پر عیاں ہوتے ہیں۔آپ کسی انتہائی بور سفر پر روانہ ہو رہے ہیں تو ساتھ اپنے کسی عزیز دوست کو لے جائیے ! لیجیے ! وہ سفر یاد گار بن جائے گا۔آپ کوئی تھکا دینے والا ناپسندیدہ کام کر رہے ہیں تو ساتھ میں کسی دوست کو بھی بلا لیجیے۔۔کام ہونے اور وقت گزرنے کا آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ حتیٰ کہ جس روز گھر میں سسرال والے آئے ہوں اس روز بھی اگر آپ کچھ لمحات دوستوں کی صحبت میں گزاریں تو نہ صرف کوفت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کا وہ دن بھی اچھا گزر جائے گا۔سو! دوست آپ کے مسائل حل نہ بھی کریں کم از کم انہیں آپ کے لئے قابلِ برداشت ضرور بنا دیتے ہیں۔
میں نے صحبتِ یاراں کے قدرے پرانے قِصّے اکثر بھیگی آنکھوں سے پڑھے ہیں۔کیسی پُررونق محفلیں وقت کی دھول میں گُم ہو گئیں۔۔حالیؔ کہتے ہیں ۔’’ بزم کو برہم ہوئے مدت نہیں گذری ابھی۔۔اُٹھ رہا ہے شمع سے اُس بزم کی اب تک دھواں۔‘‘ناصرؔ کاظمی کی پاک ٹی ہاؤس میں احباب کے ساتھ تادیر بیٹھک رہتی۔ اُٹھنے کو دل نہ کرتا۔ رات کے کوئی ایک دو بجے اُٹھتے تو خواہش ہوتی کہ دوست بھی ساتھ چلیں۔انتظار حسین لکھتے ہیں کہ ہم روز انہیں اس وقت ٹولنٹن مارکیٹ تک چھوڑ کر آتے جہاں ان کا تانگہ کھڑا ہوتا جو انہیں ان کے گھر کرشن نگر لے جاتا۔کئی دفعہ ہمیں تانگے میں ساتھ ہی بٹھا لیتے اور ہم انہیں گھر تک چھوڑنے چلے جاتے۔عجیب بات تھی دن رات دوستوں کے ساتھ رہنے کے باوجود بھی ناصرؔ کاظمی کی تنہائی اور اداسی نہیں جاتی تھی۔۔ ’’ میں ہو ں رات کا ایک بجا ہے ۔۔ خالی رستہ بول رہا ہے ‘‘۔پھر تصور کیجیے ! جو محفل فیض احمد فیضؔ ، صوفی تبسمؔ اور پطرس ؔ بخاری کے بیچ سجتی ہو گی وہ کس سطح کی ہو گی۔فیضؔ اور صوفی تبسمؔ کو تو آپ چھوڑئیے کہ وہ کس سطح کے نابغے تھے آپ صرف پطرسؔ کے مضامین ذہن میں لائیے اور پھر دیکھئے کہ ایسی محفل کا کیا رنگ ہوتا ہو گا۔کیا علم و ادب سے لبریز گفتگوہوتی ہو گی۔۔کیسی پھلجھڑیاں چھُٹتی ہوں گی۔ کشتِ ذعفران تو بہت چھوٹا لفظ معلوم ہوتا ہے۔پطرسؔ کے انتقال پرصوفی صاحب ان کا تذکرہ کرتے تو آنسوؤں سے رونا شروع ہو جاتے۔سیف الدین سیفؔ نے لکھا تھا کہ جب میرا کوئی یار مرتا ہے تو گویا میرے جسم کا ایک حصہ اس کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے، یوں گویا میں ٹکڑوں میں مر رہا ہوں۔صوفی تبسم کو دوستوں کی محفل آرائی کا بے پناہ شوق تھا۔ اُن کے کچھ ہم عصروں کا خیال ہے کہ ،’’ وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ ‘‘ ، جیسی غزلیں تخلیق کرنے والا یہ شاعر اور بھی بہت عمدہ شاعری کرسکتا تھا لیکن اس کا محفل آرائیوں کا شوق آڑے آتا رہا اور وہ اس کے لئے زیادہ وقت نہ نکال سکا۔ہمارے یارِ طرحدار گلِ نوخیز اخترکہتے ہیں ایسی محفلیں تو دوستوں کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے میں سری لنکا کے ایک پرانے شہر کے بیچ ہوٹل میں چند دن کے لئے ٹھہرا ہوا تھا۔ہوٹل کے رش اور بھیڑبھڑکے سے بچ کر میں روز سرِ شام ساحل کی سیر کو نکل جاتا۔کافی آگے جا کر میں دیکھتا کہ شہر سے دور ساحل کی ریت پر تین بوڑھے بابے بیٹھے ہوتے۔ وہ کنکریوں سے ریت پر کوئی گیم کھیل رہے ہوتے تھے۔ وہ بات بات پر قہقہے لگاتے اور خوشی گویا ان کے انگ انگ سے پھوٹ رہی ہوتی۔میں روز تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھتا تھا۔ اُن سے ذرا بے تکلفی ہوئی تو ایک دن میں نے اُن سے پوچھا ،’’ آپ بزرگی کے اس عالم میں ، درختوں کے گہرے گھنے جھُنڈسے گزر کر ، شہر سے دوریہاں پہنچتے ہیں۔۔ آپ کو کچھ ہو جائے تو؟؟‘‘۔ان سب نے قہقہہ لگایا اور پھر ان میں سے ایک کہنے لگا، ’’ ہم جس روز یہاں نہیں آئیں گے ہمیں کچھ ہو جائے گا۔ شام کی اسی محفل نے ہی تو ہمیں سہارا دیا ہوا ہے۔ہم برسوں سے یہاں ہر شام منڈلی لگاتے ہیں اور سانسوں میں زندگی بھر کر واپس جاتے ہیں۔ ہم دیرینہ دوست ہیں‘‘۔ میں ان کے پاس سے اُٹھا تو ذہن میں ، ’’ آبِ گُم ‘‘ ، ’’بزم آئیاں ‘‘ اور ’’ چراغوں کا دھواں ‘‘ ، کے کئی باب گھوم گئے اور راستہ بھر مجھے ابراہیم ذوقؔ یاد آتے رہے :
اے ذوقؔ کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *