ایک میٹر کا فاصلہ

mehmood-asghar-chaudhry

                اٹلی کوجزیر ہ نما کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا بارڈر تین اطراف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے ۔ اس لئے موسم گرما شروع ہوتے ہی اس کے ساحل سمندر سیاحوں سے بھر جاتے ہیں ۔ یورپ بھر سے دھوپ سینکنے آنے والے یورپی شہری اپنی فیملی اور بچوں سمیت ان ساحلوں پر آتے ہیں اور کئی کئی دن تک وہاں قیام کرتے ہیں ان ساحلوں پر مہنگے سے مہنگے ہوٹل بھی ہوتے ہیں اور کرایہ پر اپارٹمنٹ بھی میسر ہوتے ہیں جو لوگ ہوٹل یا اپارٹمنٹ کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے ان کے لئے کاروان گاڑی ، رہائشی ٹرک یا پھر اس سے بھی سستی ترین رہائش خیمہ بستی کی صورت میں موجود ہوتی ہے ۔ ان ساحلوں پر بہت سے غیر ملکیوں کو بھی کمائی کا ذریعہ مل جاتا ہے بہت سے تارکین وطن شہری مختلف قسم کی مصنوعی جیولری ، پرس اور کھلونے وغیرہ لیکر ان ساحلوں کارخ کرتے ہیں اور سیاحوں کو اپنی اشیاءبیچ کر ہلکی پھلکی تجارت کا سامان کرتے ہیں ۔ ایسی تجارت کرنے والوں کو اٹلی میں ”ووکومپرا۔بوٹ پالشیا “ اور” تیلی مار بھکاری “ جیسے تضحیک آمیز خطابات سے نوازا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود جن غیر ملکیوں کو  سارا سال کسی وجہ سے کام نہیں ملتا انہیں بھی ان کے یار لوگ مشور ہ دیتے ہیں کہ اگر کچھ رقم کمانی ہے تو ساحل پر چلے جاﺅ ۔ اس طرح کا سازو سامان چینی مارکیٹوں سے کوڈیوں کے بھاﺅ مل جاتا ہے اور اگر کوئی” تاجر “تضحیک آمیز جملوں کی پرواہ نہ کرتاہو یا جسے سمندر کنارے لیٹے سیاحوں کی استراحت میں مخل ہونے میں کوئی عار محسوس نہ ہوتی ہو وہ اچھے خاصے یورو کما لیتے ہیں ۔

                جبار کو بھی اٹلی آئے ہوئے ایک سال سے زیاہ کا عرصہ ہوچکا تھا۔ لیکن اسے کوئی روزگار نہیں ملا تھا ۔ ا سکے دوستوں نے اسے بھی مشورہ دیا کہ وہ سمندر کنارے جا کر اپنا رزق تلاش کرے ۔اس نے دوستوں سے کچھ رقم ادھار لی اور چینی مارکیٹ سے خریداری کی ۔ سامان تجارت کا تھیلا کند ھے پر ڈالا اور تلاش رزق میں سمندر کنارے آڈیرے جمائے۔ وہ مختلف ہار، کانٹے ، پرس اوربچوں کے کھلونے بیچ کر رقم کمانا شروع ہوگیا ۔ اسے سمندر پر اٹکھیلیاں کرتے بچے بڑے اچھے لگے ۔وہ کئی سال سے اپنے وطن سے دور تھا اس لئے سمندر کنارے مختلف بچوں کو کھیلتے دیکھ کر اسے اپنے بھانجے بھتیجے بھی یاد آنا شروع ہو گئے ۔ سمندر کنارے ہی ایک فیملی نے اپنا خیمہ نصب کیا ہوا تھا ان کا ایک چھوٹا بچہ 9سال کا تھا جو وہاں ایک فٹ بال کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ اس بچے نے جبار کو بھی اپنے ساتھ کھیل میں لگا لیا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی اور وہ فٹ بال کھیلنا شروع ہوگئے ۔ کھیل کی حد تک بچے کے والدین نے نوٹس نہ لیا اور دھوپ سینکنے میں مشغول رہے ۔ جبار کو خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے نئے دوست کو آئس کریم کھلائی جائے۔ بچے کواس نے اپنی گود میں اٹھایا اور آئس کریم شاپ کی طرف چل پڑا ۔ بچے کی والدہ نہ جب یہ منظر دیکھا تو شور مچا دیا کہ ایک غیر ملکی اس کے بچے کو اغوا ءکر کے لے جارہا ہے شور مچتے ہی ساری فیملیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے جبار کو پکڑ لیا ۔ وہ صفا ئیاں دیتا رہ گیا کہ وہ بچے کو آئس کریم کھلانے لے جا رہا تھا ۔لیکن لوگوں نے فوراً پولیس بلالی اور اسے گرفتار کر ا دیا ۔ اسے اطالوی زبان بھی نہیں آتی تھی لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ جیل میں یا عدالت میں ترجمان کی سہولت موجود ہوتی ہے مسئلہ جج کو یہ قائل کرنا ہوگا کہ وہ بچے کو اغوا ءکی نیت سے لیکر نہیں جارہا تھا کیونکہ یورپ میں کسی بھی بچے کو آپ جسمانی طور پر چھو نہیں سکتے چاہے آپ کا اراد ہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔

                اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے اٹلی میں زیاد تر رہائشیں بلڈنگز کی صورت میں ہیں مختلف بلڈنگز میں دس دس پندرہ پندہ اپارٹمنٹ ہوتے ہیں اور مختلف فمیلیز اکٹھی رہتی ہے ایسی ہی ایک بلڈنگ میں ایک پاکستانی فیملی کی ان کے ہمسایوں کے ساتھ اچھے خاصے دوستانہ تعلقات قائم ہوگئے اٹلی کا کلچر فیملی والاہے اگر آپ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئیں تو بہت جلد وہ آپ کے دوست بن جاتے ہیں پاکستانی فیملی کے بچے نئے نئے پاکستان سے آئے تھے اطالوی پڑوسیوں کی ایک ہی بچی تھی جس کی عمر پندرہ سال کے لگ بھگ تھی پاکستان سے آنیوالی فیملی کا بیٹا بھی لگ بھگ سولہ سترہ سال کا تھا فیملی پاکستان سے آئی تو دونوں خاندانوں کا ایک دوسرے کے گھرآنا جانا شروع ہوگیا۔ پڑوسن اطالوی لڑکی نے بہت جلد میزبان پڑوسیوں سے دوستی کر لی اور ان کی مدد شروع کر دی پاکستانی نوجوان نے سنا ہوا تھا کہ” ہنسی تو پھنسی“ لیکن یہاں تو معاملہ ہی بہت مختلف تھا پڑوسیوں کی اطالوی لڑکی نہ صرف ہنستی تھی بلکہ سکول کے کام میں اس کی مد دبھی کرنا شروع ہوگئی نوجوان نے سمجھا کہ یہ تو کام آسان ہو گیاہے پاکستان میں تو کسی لڑکی سے بات تک کرنا محال تھا اور یہاں تو ایک دم سے مجھے دوست بھی میسر آگئی ہے ایک دن بلڈنگ کی لفٹ استعمال کرتے ہوئے اس نے اپنی اطالوی پڑوسن کو بوسا دے دیا۔اس لڑکی نے اس وقت تو اسے کچھ نہ کہا لیکن باہر جاتے ہی اپنے والدین کو بتا دیا ۔ یورپ میں آپ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر چھو نہیں سکتے ۔ لڑکی کے والدین نے فورا ًپولیس کو شکایت کر دی ۔ پولیس آئی اور نوجوان کو گرفتار کر کے لے گئی ۔پاکستانی والدین نے اپنے پڑوسیوں کے آگے رونا شروع کر دیا ۔اپنے پڑوسیوں کے پاﺅں پکڑ لئے کہ ہمارے بیٹے کو یہاں کے ماحول کا بالکل پتہ نہیں تھا ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں اسے معاف کردیں ۔ لڑکی کے والدین کو ان کا رونا دھونا دیکھ کر واقعی رحم آگیا اور انہوں نے کہا کہ وہ پولیس اسٹیشن جا کر اپنی شکایت واپس لے لیتے ہیں جب دونوں فیمیلیاں پولیس اسٹیشن پہنچیں تو پولیس انسپکٹر نے کہا کہ بچوں کے کیس میں معافی نہیں ہوتی بلکہ حکومت خود بچوں کی محافظ بنتی ہے اس لیے کیس واپس کئے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اب اس نوجوان کو قانون کے مطابق سزا بھگتنا ہوگی ۔

                ان دونوں کیسز میں پولیس نے اٹالین پینل کوڈ کا آرٹیکل 609 استعمال کیا ہے جس کے مطابق بچوں کے ساتھ جسمانی یا جنسی تعلق بنانے کی پاداش میں چھ سے چودہ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے ۔ اگر انٹرنیٹ پر اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی بنا پرتعلق بنایا جائے یا ایسی کوئی پورن ویڈیو ہی دیکھ لی جائے جس میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے ہوں تو ملزم کو پکڑے جانے کی صورت میں چھ ہزار یورو رتک جرمانہ اور تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے اور اگر کوئی ایسی فلم یا ایسی کو ئی تصویر وغیر ہ بنانے کا مجرم ثابت ہو جس میں اٹھار ہ سال سے کم عمر بچے ہوں تو اسے دو لاکھ چالیس ہزاریورو رتک کا جرمانہ اور دس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے ۔یعنی بچوں کے معاملے میں مجرم کو سزا کم وبیش قتل کے جرم کے برابر ملتی ہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کسی بھی قسم کے کیس میں صرف ملوث ہونے کی صورت میں ہی آپ کا کریمنل ریکارڈ ساری زندگی کے لئے خراب ہوجاتا ہے اور آپ کسی بھی قسم کی اچھی نوکری کو زندگی بھر کے لئے بھول جائیں

                 یورپ میں نئے آنیوالوں غیرملکیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔قانون کا پتہ نہ ہونا ملز م کے لئے کسی قسم کی نرمی کابا عث نہیں بنتا اگر آپ کے ذہن میں کسی نے یہ خناس بٹھا دیا ہے کہ یورپ میں آزادی کامطلب حیوانیت کی آزادی ہے تو آپ بالکل غلط ہیں اپنا ذہن صاف کرلیں اور جس ملک میں رہائش اختیار کی ہے ا سکے رسم و رواج ، رہن سہن اور قوانین کی معلومات حاصل کریں بعض باتیں آپ کے لئے بالکل نارمل ہو سکتی ہیں لیکن میزبان ثقافت کے لئے وہ بالکل عجیب وغریب اور بعض اوقات خلاف قانون بھی ہو سکتی ہیں ۔مثلاً ایک دفعہ پاکستان سے ایک سیاسی راہنما آیا ۔ ایک بہت بڑے جلسے کے اختتام کے بعد اس کے حلقے کے لوگ جب ا سکے ساتھ سیلفی کھنچوانے آتے تو و ہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے دل کے ساتھ لگا لیتا ۔ یورپ میں مردوں کاآپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اتنی زیادہ محبت کا اظہاربہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک بہت بڑے عالم دین کے لوگ ہاتھ اور پاﺅں چوم رہے تھے تو اسے بھی یورپی معاشرے میں کسی اور ہی نظر سے دیکھاگیا ۔ اس لئے اگر دو نوجوان آپس میں ہاتھ پکڑ کر شہر میں گھوم پھر رہے ہوں تو جان لیجئے کہ یورپی شہری آپ کو ہم جنس پرست  سمجھ لیں گے ۔ غلط فہمیوں کی تو چلو مانا خیر ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کرنے والی ہے کہ یورپ میں ہر قسم کے قانون میں نرمی ہو سکتی ہے لیکن بچوں کے معاملے میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہوتی ۔ کیونکہ بچوں کے معاملے میں سرکار خود کوسٹوڈین اور نگران ہے ۔ یہ پاکستانی حکومت نہیں کہ قصور جیسے واقعہ کے بعد وزیر داخلہ یہ بیان دے دے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ آپکی کسی بھی فیملی کے بچے سے اگر دوستی ہوجاتی ہے تو ”ایک میٹر فاصلے والا“ اصول یاد کر لیں ۔یعنی آپکے اور اس اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے یا بچی کادرمیان ہمیشہ ایک میٹر کا فاصلہ رہنا چاہیے ۔عموماً بچے دوستی میں بہت جلد مانوس ہو جاتے ہیں لیکن ان کے اس انس میں بھی ان کو اپنے قریب نہ آنے دیں انہیں گود میں نہ اٹھائیں اور کبھی بھی ان کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کریں ۔ اگر کسی دفتر یا کمرے میں ہوں تو ہمیشہ دروازہ کھلا رکھیں ۔کیونکہ نیت صرف خدا دیکھتا ہے ۔انسانی قوانین نیت پر نہیں آنکھ دیکھے پر فیصلہ سناتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *