علی بابا کے صدر کی وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات!

Image result for ‫نواز شریف علی بابا صدر ملاقات‬‎

وزیر اعظم نواز شریف اور چین کے علی بابا گروپ کے صدر مائیکل ایونز سے ملاقات میں بڑے عالمی ای کامرس گروپ کو پاکستان میں متعارف کرائے جانے کے مواقع سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف سے ملاقات میں مائیکل ایونز کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر پورا اعتماد ہے کہ علی بابا، پاکستان میں چھوٹی اور درمیانی انٹرپرائزز کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں جدت و ترقی نے یہاں ای کامرس کی توسیع کی ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات، اچھے نظم ونسق کےحصول اور ٹیکس کے ڈھانچے کو معقول بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے تین سال میں معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور اب وہ خطے کے تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے، جبکہ آئی ٹی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں انقلابی وسعت سمیت بنیادی ڈھانچے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں وزیراعظم نواز شریف سے ای کامرس کمپنی علی بابا کے چیئرمین جیک ما نے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں جیک ما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا جائزہ لے رہے ہیں اور وہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے نے بہترین مواقع فراہم کیے ہیں اور ہم پاکستان میں ای کامرس پلیٹ فارم کی تشکیل کے حوالے سے سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے علی بابا گروپ کے چیئرمین کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جبکہ جیک ما نے بھی وزیراعظم کو چین کے شہر ہانگژو میں علی بابا کے صدر دفتر میں آنے کی دعوت دی۔ علی بابا کا شمار دنیا کی چند بڑی ای کامرس کمپنیوں میں ہوتا ہے جو ہر سال اربوں ڈالرز کا بزنس دنیا بھر میں کرتی ہے۔ اس کمپنی کو 2015 کے آخر میں بھی پاکستان میں کام کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ گزشتہ سال نومبر میں اس نے چین میں ایک دن میں 7.8 ارب ڈالرز (اٹھارہ کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کی مصنوعات فروخت کرکے ایک ریکارڈ قائم کردیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *