KASB بینک ایک ہزار روپے میں کیوں بیچا ؟

شہباز رانا

PHOTO:FILE

اسلام آباد ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینیر آفیشلز نے سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کرتے ہوئے KASB بینک کوصرف 1000 روپے کے عوض بینک اسلامی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ یہ معلومات حال ہی میں نیب کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ میں افشا کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بینک اسلامی مرکزی بینک سے مالی مدد کے بغیر KASB بینک کو ہینڈل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا تھا ۔ اس کے علاوہ سینٹرل بینک کی طرف سے KASB بینک کا کنٹریکٹ اے ایف فروگزن کو دینے کا فیصلہ بھی ایک غیر قانونی عمل تھا۔ ایس بی پی کے افسران نے دوسرے افسران کے ساتھ ملکر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور KASB بینک کے لیے 100 ملین ڈالر انویسٹمنٹ کی آفر کو ٹھکرا دیا اور بینک اسلامی لمیٹڈ کا ساتھ دیا۔

سائبر ناٹ انویسٹمنٹ گروپ آف چائنا نےKASB بینک کے شارٹ فال کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی لیکن ایس بی پی نے اسے ٹھکرا دیا ۔KASB بینک کے اثاثوں کو بھی مارکیٹ ریٹ پر ویلیوایٹ نہیں کیا گیا۔ 1000 روپے کے عوض بینک اسلامی نے کئی بلین روپے حاصل کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک اسلامی کو ڈیفرڈ ٹیکس کی صورت میں بھی 5 اعشاریہ 8 بلین روپے حاصل ہوئے۔

7 مارچ 2015 کو ایس بی پی نے KASB بینک کو بین اسلامی میں ضم کر دیا جس کی وجہ یہ تھی کہ کسب بینک 10 بلین روپے کی ادائیگی میں ناکام رہا تھا۔ اس بینک کو 2009 نے رقوم کی کمی کیوجہ سے ادائیگیوں میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ اگرچہ نیب کی رپورٹ کے مطابق اس بینک کی ڈپوزٹ بیس بہت مضبوط تھی۔

KASB بینک کو بینک اسلامی میں ملانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی کیونکہ مسئلے کے کچھ دوسرے حل بھی موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق بینک کو دوسرے بینک میں ملا دینا صحیح اقدام نہیں تھا اور اس فیصلے کی وجہ سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ نیب انکوائری میں یہ معلوم ہوا کہ ایک ایڈمنسٹریٹر تعینات کر کے بینک کےلیے 20 بلین روپے کی مالی مدد حاصل ہو سکتی تھی۔ ایس بی پی نے آئین کے سیکشن نائن اے فور کی خلاف ورزی کی ہے۔

اندرونی تجارت

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بینک کو دوسرے بینک میں ملانے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔ تفتیشی افسروں کا کہنا تھا کہ الکرم گروپ، اسماعیل انڈسٹریزجس کے مالک مفتاح اسماعیل فیملی اور علی حسین ہیں جو بینک اسلامی کے چئیر مین بھی ہیں نے بینک اسلامی میں اپنے شئیرز میں اضافہ کرنے کا عمل 2014 میں شروع کیا۔ اس کا ثبوت سی ڈی سی ریکارڈ میں شامل ہے۔

اے ایف فروگسن کا کردار

نیب نے اے ایف فروگسن کے پارٹنر اور اس کے ایک ڈائریکٹر کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا۔ چارٹرڈ اکاونٹینسی فرم کے خلاف ایک رپورٹ جاری کرنے کے الزامات تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ایف فروگسن کا انتخاب اور تین پارٹیوں کے بیچ ایگریمنٹ ایس بی پی کاغیر قانونی اقدام تھا۔

KASB بینک کے ایک اقلیتی شئیر ہولڈر شاہینہ واجد مرزان نے الزام لگایا کہ ساڑے 20 ملین کنسلٹینسی فیس اے ایف فروگسن کو دے کر ایس بی پی نے ایک جعلی ویلیوایشن رپورٹ حاصل کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ 1000 روپے کے ویلیو ایشن کے زریعے 1 اعشاریہ 95 بلین شئیرز ناکارہ ہو گئے جو 9000 شئیر ہولڈرز سے تعلق رکھتےتھے۔

ناصر بخاری جو 43 فیصد شئیر کے مالک تھے نے بتایا کہ اے ایف فروگسن ایس بی پی اور بینک اسلامی کے آڈیٹر بھی تھے اس لیے 1000 کی ویلیوایشن رپورٹ کو غیر جانبدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس وقت KASB بینک کے چئیر مین بلال مصطفی تھے جنہوں نے نیب کو بیان دیا کہ ایس بی پی نے انہیں بلوایا اور رات بارہ بجے ایک ایگریمنٹ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ایگریمنٹ اے ایف فروگسن اور ایس بی پی کے بیچ ساڑھے 20 ملین روپے کے عوض KASB کی ڈیلیجنس کے لیے تھا۔ انہوں نے نیب کو بتایا کہ اس کام کی مارکیٹ فیس صرف 5 ملین روپے ہوتی ہے۔ مصطفی نے نیب کو مزید بتایا کہ اے ایف فروگسن کی بغیر ٹینڈر کے اتنی بڑی رقم کے عوض تعیناتی ان کی سمجھ سے باہر تھی۔ انکوئری رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ایس بی پی نے KASB بورڈ سیکرٹری حمیداللہ کو مجبور کیا کہ وہ منٹ آف میٹنگ میں تبدیلی کریں کیونکہ اس میں ڈائریکٹرز کی طرف سے تحفطات کے اظہار کا ذکر کیا گیا تھا۔

دوسرے کھلاڑی

KASB ڈائریکٹر مظفر بخاری کی طرف سے دیے گئے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ KASB بینک اتھارٹییز سمرا بینک سے خریدو فروخت کی بات چیت میں مصروف تھا لیکن سمرا بینک نے علیحدگی اختیار کیا اور ایس بی پی آفیشل نے اسے کسی بھی ڈیل سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

ایس بی پی کی طرف سے نیب کو جواب

انکوائری سٹیج پر ایس بی پی نے جو پوزیشن لی ا سکے مطابق شئیر ہولڈرز کا انٹرسٹ ایس بی پی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایس بی پی کی ذمہ داری صرف ڈپوزٹر کے انٹرسٹ تک محدود ہے۔ ایس بی پی کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ایکشن اختیارات کے مطابق تھے جو اسے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس کے تحت حاصل تھے۔ البتہ نیب نے یہ جواب قبول نہیں کیا اور کہا کہ KASB بینک کو کسی طرح کی لقوڈٹی ایشو کا سامنا نہیں تھا اور یہ پاکستان کا سب سے زیادہ لیکوِڈ بینک تھا جس کی وجہ 20 کروڑ ایرانی روپے کی ڈپوزٹ کی گئی رقم تھی۔

جواب میں تضاد

ایس بی پی کی طرف سے نیب کو جمع کروائے گئے جواب میں اپنے دوسرے جواب سے متضاد بیان جاری کیا۔ بینکنگ کمپنیوں کو ملانے کے بارے میں جاری کیس میں شئیر ہولڈرز کے حقوق بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 اور 1984 کے کمیپنیز آرڈیننس کے تحت محفوظ بنائے گئے تھے۔

https://tribune.com.pk/story/1388209/despite-100m-investment-offer-kasb-bank-sold-rs1000/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *