عدالت اور پاپولرازم

حسنات ملک

Panama Supreme

اسلام آباد۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے پانامہ گیٹ پر ہونے والے میڈیا مباحثوں کو غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا۔ البتہ سپریم کورٹ نے میڈیا کو کوریج اور عوامی آراء حاصل کرنے سے منع کرنے سے گریز کیا۔ جسٹس شیخ نے اپنے 40 صفحات پر مشتمل نوٹ میں لکھا کہ پانامہ معاملے کو عوام اور میڈیا کی توقع سے زیادہ توجہ ملی ۔ اس طرح کی توجہ اکثر اوقات غلط معلومات اور ناقابل قبول آراء کی وجہ سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ سب چیزیں ہر روز میڈیا کی طرف سے عوام کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح کے معاملات سے میڈیا کو دور رکھنے اور عوامی آراء پر پابندی کی خواہش کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اظہار رائے اور پریس کی آزادی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر پاکستانی کو دی گئی ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ عوام کے اس حق کا دفاع کریں۔ کھلی عدالت ہمارے لیگل سسٹم کا ایک اچھا پہلو ہے۔ عوام کو اپنی آراء کے اظہار سے روکنا کھلی عدالت کی نفی کرتا ہے۔ تنقید پر پابندی لگانا غلط تنقید کی آزادی دینے سےزیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت پاپولرازم کے سامنے کمزوری نہ دکھائے اور اپنے حلف پر سختی سے قائم رہے یہی ہماری ترجیح ہوتی ہے۔ جسٹس عظمت نے مزید کہا کہ ججوں کا کام قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے نہ کہ کیس کی شہرت ،عوامی مقبولیت، کسی فریق کے ساتھ محبت اور بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی بار غلط معلومات پر مبنی مباحثے عدالت کے اندر بھی اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ اس لیے یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ اس امر سے چھٹکارا پا کر حقیقت پر مبنی بات کی جائے۔

https://tribune.com.pk/story/1390542/panama-verdict-sc-judge-dubs-media-debate-ill-informed/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *