مریم نواز شریف کا نام پانامہ کیس میں کیوں نہیں آیا؟ معروف اخبار کا بڑا دعوی!

Image result for ‫مریم نواز‬‎

لاہور -بلاشبہ، پاناما گیٹ اور عدالتی فیصلے نے ملک کی سیاسی ماحول کو بدل رکھ دیا ہے۔ اور اس نے سیاسی میدان پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی حیثیت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ بے نتیجہ حکم نامے نے نواز شریف کے روایتی حریف، پی ٹی آئی کو ان پر دباؤ قائم کرنے کے لیے زبردست مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے حکم نامے کو اپنی اخلاقی اور سیاسی فتح قرار دینے پر کوئی حیرانی نہیں ہے۔ فیصلے پر پیپلز پارٹی کا رد عمل مبہم ہے۔ آصف علی زرداری نے فیصلے کو وزیر اعظم کو دی گئی لائف لائن قرار دیا۔ اگرچہ وہ نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ آیا ان کی جماعت حکومت مخالف تحریک میں پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی یا نہیں۔

بری طرح خستہ حالی کا شکار نواز شریف اقتدار کو اپنے خاندان تک محدود رکھنے کے لیے شاید دیگر آپشنز پر غور کر رہے ہوں۔ یہ ممکن ہے کہ نواز شریف چوتھی بار حکومت میں آنے کی کوشش نہ کریں اور اپنے بجائے اپنی بیٹی مریم نواز کو بطور اگلا رہنما سامنے لے کر آئیں۔ حکم نامے میں مسلم لیگ ن کے لیے ایک مثبت نکتہ یہ ہے کہ پاناما معاملے سے مریم نواز بری ہو چکی ہیں۔ کہ وہ وزیر اعظم کے لیے اب فکر کا باعث نہیں۔

دختر اول کافی عرصہ پہلے سے ہی بظاہر ان کی سیاسی وارث منظر عام پر نظر آ رہی ہیں۔ لگ بھگ وہ ہی پارٹی کو چلاتی آ رہی تھیں اور گزشتہ سال اپنے والد کی غیر موجودگی میں اہم حکومتی فیصلوں میں بھی شامل رہیں۔ پارٹی بھی یہ اعلان کر چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں بھی وہ حصہ لیں گی۔ مگر یوں خاندانی اختلافات میں بھی شدت پیدا ہو سکتی ہے۔ سیاسی وراثت کی صف میں کھڑے طاقتور چچا کی موجودگی کے باوجود سیاسی وراثت کی انہیں منتقلی آسان نہیں ہو گی۔ چاروں اطراف سے گھرے ہوئے وزیر اعظم کے سر پر ڈیموکلز کی تلوار کا سایہ اب بھی موجود ہے۔ خود کو بچانے کی ایک گھمسان کی لڑائی ابھی لڑی جانی باقی ہے۔

یہ مضمون 21 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *