نواز شریف کی حمایت اب بھی ؟

naeem-baloch1

برادرم خورشید ندیم کے کالم ’’ فیصلے کے بعد ‘‘ اس موضوع پر کوئی مزید اچھا نقطہ پیدا کرنا خاصا مشکل تھا لیکن پھر ہوا یہ کہ قابل احترام جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اخبارات میں مشہور ہونے والے ایک اقتباس پر میں نے اپنے اکاؤنٹ میں یہ تبصرہ کر دیا :
کیا یہ کوئی عالمی سچائی ہے ؟
بصد احترام عرض ہے کہMario Puzoکی Balzac کے حوالے سے یہ بات کہ Behind every great fortune there is a crime اگرایک یونیورسل ٹرتھ ہے تو آپ کاحضرت عثمانؓ ، حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام مالکؒ کی دولت کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ویسے اتنا تو یقین ہے کہ فاضل جج آصف علی زرداری، جہانگیر ترین ، علیم خان اور اپنے سابق باس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان کی دولت کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتے ہوں گے !
اس کوٹیشن کے حوالے سے محترمہ عاصمہ جہانگیر نے بھی یہ تبصرہ کیا کہ اس سے فاضل جج کا تعصب جھلکتا ہے۔ لیکن میری پوسٹ کاپی ٹی آئی کے جوشیلے حامیوں نے یہ مطلب کشید کیا کہ میں نواز شریف کو پانامہ کیس میں بالکل بے قصورسمجھتا ہوں۔اور جب میں نے سپریم کورٹ کے 547صفحات پر مشتمل فیصلے کا قدرے طائرانہ مطالعہ کیا تو مجھے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ فاضل ججز کو جس طرح کے امراء کی دولت کو موضوع تحقیق بنانا پڑا ہے، اس میں اگرچہ و ہ یہ تبصرہ کرنے میں حق بجانب تھے لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہو جاتا ہے وہ اپنی سیاسی پسند ناپسند کا اظہار کرنے سے نہیں رہ سکے ۔ مزید یہ کہ ان کا واسطہ ملک ریاضوں ، شریفوں ،زرداریوں ، ترینوں وغیرہ تک ہی محدود رہاہے ۔دوسری بات یہ کہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فاضل جج صاحبان نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے یہ فیصلہ لیا اور تحریر کیا ۔ عدالت عظمیٰ کے ان پانچ ججوں کو تقریباً 56 دنوں میں ایک مبسوط کتاب جیسے ضخیم فیصلے کو رازداری ، غورو فکر اور تحقیقی و جستجو کے اندر اندرضبطِ تحریر میں لانا پڑا۔ اس دوران کئی بدگمان معلوم نہیں کیا کیا سوچتے رہے۔ چنانچہ جب دو کے مقابلے میں تین ججوں نے JITبنانے کا فیصلہ دیا تو مسلم لیگ کے کم سوادوں نے یہ سمجھا کہ وزیر اعظم کو کلین چٹ مل گئی ہے حالانکہ فیصلے کی تفصیل بتا رہی ہے کہ تمام ججز اس پر متفق ہیں کہ وزیر اعظم اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکے، البتہ ان کے خلاف انتہائی فیصلہ کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔(جسٹس اعجازالحسن ، صفحہ 538) جبکہ شیخ رشید اور آصف زرداری جیسے ’صالحین‘ یہ کہتے پائے گئے کہ انصاف کی دنیا اندھیر ہوگئی۔چنانچہ پانامہ سکینڈل کے فیصلے کے آفٹر شاکس کی فضا میں شیخ رشید نے ایکسپریس نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ارشاد فرمایا کہ میں پاکستانی عوام سے کہوں گا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، ماریں اور مریں، خون بہائیں کیونکہ انصاف چھیننے سے ملتا ہے ، قانون سے نہیں ۔یہ بیان سننے کے بعد مجھے وہ جگت یاد آتی ہے جب خبرناک میں علی میرشیخ رشید کی آواز میں کہتے ہیں: ’’ جتنی میری سیاسی بصیرت ہے ۔۔۔۔ ‘‘اس پر کہا جاتا ہے: ساری پر لعنت ہے ! ‘‘ مجھے اس جگت پر بڑا غصہ آتا تھا ، لیکن موصوف کی یہ بات سن کر پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ کتنی درست بات کرتے ہیں یا کامیڈینز !
ہارون الرشید اور اس طرح کے کوچہ صحافت کے فرعون ونمرود سرعام یہ کہتے پائے گئے کہ دراصل فیصلہ تو ہمیں معلوم تھا کہ نوا زشریف نااہل ہوں گے لیکن عین وقت میں ایک جج نے اپنا فیصلہ بدل دیا ۔ معلوم نہیں اس سے بڑھ کر توہین عدالت اور کیا ہو گی۔اسی طرح ججوں کے اس بیان کو بھی طنزو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا کہ اس مقدمے کے فیصلے کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ حالانکہ جن ججوں نے یہ تبصرہ کیا تھا وہ وہی ہیں جنھوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ، سو وہ تو اپنے فیصلے کی حد تک درست ہی کہتے تھے ۔ اور ان کے فیصلے نے حکمران طبقے کی سیاسی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا وہ محتاج بیان نہیں ۔اس کے مزید اثرات آنے والے وقت میں اور واضح ہوں گے۔
دراصل اس فیصلے پر ردعمل کرنے والے سیاسی لوگوں کو ہم چار گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ایک وہ ہیں جن کا معاشی مفاد نوزازشریف اورعمران خاں سے وابستہ ہے۔ ان پر تو بحث بے فائدہ ہے ۔ دوسرا گروہ اپوزیشن کا ہے ۔ ان کے بارے میں ہم نے ایک برس پہلے ہی پانامہ سکینڈل آنے پر جو تبصرہ کر دیا تھا وہ مناسب تھا۔ اس لیے دوبارہ پڑھ لیں :
’’اپوزیشن نے اس کی مخالفت نہیں کرنی تھی تو اور کیا کرنا تھا ،کرپشن پر پیپلز پارٹی کا بولنا ایسے ہے جیسے سنی لیون یہ شکایت کرے کہ اس کی ہم عصر اداکارائیں بہت بولڈ سین فلم بند کراتی ہیں اور ایسا کرنا فن کی کوئی خدمت نہیں۔ اور جہاں تک تعلق ہے پانچ وقت کے شرابی صحافیوں کی اور ہر نماز کے بعد ایک دھماکا کرنے والے مذہبی بہروپیوں اور سیاسی نابالغوں کا ،تو ان پوچھنا چاہیے کہ ان جیسے قابل فروخت صحافی اور اسامہ بن لادن جیسے دہشت گرد کو مجاہد اعظم کہنے والے جہلاء سسٹم کو ڈی ریل کرنے کے نقصانات اور جمہوری روایات کے تسلسل کی اہمیت بھلا کیسے جان سکتے ہیں !
البتہ تیسرا گروہ وہ ہے جس کی حب الوطنی پر کوئی کلام نہیں کیا جا سکتا ۔ انتہائی خوبصورت فکرکے یہ لوگ بجا طور پر وہی سوچ رکھتے ہیں جس کا اظہارجسٹس اعجازالحسن نے اقبال کے شعر میں کیا تھا:
صورت شمشیر ہے وہ قوم دست قضا میں
کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب
مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر علامہ اقبال کی شاعری کے بہت مداح تھے ۔فاضل جج نے جس شعر کا حوالہ دیا ہے، اس سے مجھے مولانا کاوہ تبصرہ یاد آگیا جو اس بے مثل مفسرِ قرآن نے اقبال کو ’’چودہ صدیوں میں پہلا الہامی شاعر‘‘ کہہ کر کیا تھا۔
ان مخلص اہل دانش دوستوں سے گزارش ہے کہ جب آپ جیسے لوگ سیاست کے امام ہوں گے ،اس وقت کوئی پانامہ زدہ سیاستدانوں کی طرف دیکھے گا بھی نہیں ۔ اس لیے انھیں غیر حقیقی آئیڈیلز کا شکار گردانا جاتا ہے ۔جبکہ چوتھا گروہ ، جو کہ اپنی رائے کے بارے میں کسی تعصب کا شکار نہیں ،دیکھ رہا ہے کہ سیاسی منظر نامے میں مقابلہ زیادہ اچھے یا زیادہ قابلیت کا نہیں بلکہ کم برے اور زیادہ ڈلیور کرنے کے درمیان ہے ۔ ایسے لوگوں کے سامنے بلاشبہ عمران خاں بڑی اچھی امید تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان نے انھیں مایوس کیا ۔ انھوں نے قیادت پر اپنا حق کارکردگی کی بنیاد پر جتانے کا موقع انتہائی نالائقی سے کھو دیا۔ وہ ہمیشہ غیر جمہوری شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ وہ رد عمل کی منفی سیاست کے ایسے بے لگام گھوڑے پر سوار نظر آتے ہیں جس کے کوئی اخلاقی اصول نہیں ۔ کرپشن پر تنقید کرتے ہیں اور خود کرپٹ لوگوں کے حصار میں ہیں ۔ ان کی افتاد طبع، انداز سیاست ، رہن سہن اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ وہ اپنی طرز کے آمر بھٹو ہیں۔اس پس منظر میں یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہیں ایک ایسا سیاست دان جس کی زمانے نے خاصی تربیت کر دی ہے جو غیر جمہوری بیساکھیوں کو پوری طرح پھینک چکا ہے ، جو اپنے سامنے خام ہی سہی لیکن پھر بھی ترقی کے سفر کی کوئی منصوبہ بندی رکھتا ہے ، کیوں بہتر نہیں ؟جو مذہبی شدت پسندی اور مذہب کے سیاسی استعمال کی تباہ کاریوں سے بھی آگاہ ہو چکا ہے ، عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے مزاج اور تقاضوں کو جانتا ہے ، ٹھیک ہے اگر وہ متداول قانونی اخلاقیات کے تقا ضے پورے کر دیتا ہے اور اپنے وعدوں کو قابل لحاظ حد تک پورے کر دیتا ہے تو اس کی حمایت کیوں نہ کی جائے ؟ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی شدید’’سیاسی ‘‘مخالفت، غیر جانب عدلیہ کے ہوتے ہوئے اور آئے روزکے سکینڈلز کے باوجود محض کارکردگی کی بنیاد پر میدان میں موجود رہتا ہے تو اس کی حمایت پر چیں بجیں کیوں؟
انصاف کا تقاضا ہے کہ اس سوچ کو ایک مثبت سوچ مانا جائے ، آئیڈل ازم کے تخیلاتی گھوڑے پر سوار ہوکر دوسروں کی رائے پربدنیتی کے کوڑے برسانا کون سی عقل مندی ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *