غیر فوجی کالم

razia syed

کتاب معاشرے میں تبدیلی لانے کی ضامن ہے ، بشرطیکہ کتاب اچھے افکار پر مبنی ہو، ہم سب کا المیہ یہ ہے کہ ہم تبدیلی تو چاہتے ہیں لیکن اسکے لئے سازگار ماحول تشکیل نہیں دیتے جبکہ تبدیلی کو قبول کرنا ہی اصل میں آدھی تبدیلی ہے ۔
کسی بھی معاشرے میں مکالمے کی موجودگی ناگزیر ہے ، وہ معاشرے مردہ اور بے جان ہو جاتے ہیں جہاں سوچ اور شعور اذہان کو منور نہیں کرتے ۔ زیر نظر کتاب کے مصنف بریگیڈئر (ر) صولت رضا ہیں جو تیس سال تک پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ اسلام آباد میں قائم نمل یونیورسٹی کا ریکٹر ہونے کا اعزاز بھی انکو حاصل ہے ۔
زیر نظر کتاب ’’غیر فوجی کالم ‘‘کی بات کریں تو یہ بھی مکالمے کو جنم دینے والی ایک کتاب ہے ، اس کتاب میں آئی ایس پی آر ( ہلال رسالہ ) میں اور مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے پچاس چیندہ کالم اکٹھے کئے گئے ہیں ، کتاب کو پورب اکادمی اسلام آباد نے شائع کیا ہے ۔ قیمت چار سو روپے اور صفحات دو سو چوبیس ہیں ۔gairمصنف اس سے پہلے ایک کتاب پاکستان ملڑی اکیڈمی میں تربیت کے حوالے سے ’’کاکولیات ‘‘ کے نام سے لکھ چکے ہیں جبکہ دو کتابیں ابھی زیر طبع ہیں جن میں سے ایک آئی ایس پی آر میں افسر کی حیثیت سے اور ایک نمل میں سربراہی تجربے کے بارے میں ہے ۔
اس کتاب کے متن کے حوالے سے دیکھا جائے تو صولت رضا کے ہاں آسان اردو اور سادہ زبان ملتی ہے ، وہ مختصر نویسی کے قائل ہیں تمام کالم ڈیڑھ صفحات سے زیادہ نہیں جو کہ قاری پر گراں نہیں گذرتے ۔
ایک جانب انھوں نے فوجیوں کی عام زندگی کے بارے میں آگاہ کیا ہے کہیں سٹوڈنٹ یونین کا ذکر ہے تو کہیں قومی زبان کے ارتقا اور وارث میر کا تذکرہ بھی ہے ۔
صولت رضا کی تحریر میں روانی اور برجستگی نمایاں ہے جو ان کی شخصیت کا بھی خاصہ ہے ، اپنی کتاب کے دیباچہ میں خود لکھتے ہیں کہ ’’لکھنے کا عمل خواہ کسی روپ میں ہو سماج میں سوچ بچار کو رواں رکھنے کے لئے ضروری ہے ، ’’غیر فوجی کالم ‘‘ بھی سوچ بچار کے عمل کو رواں رکھنے کے لئے ایک عاجزانہ کوشش ہے ۔‘‘
تو قارئین ایسی اچھی کتابیں پڑھئے اور ذہن کو جلا بخشتے ہوئے شعور کی منازل طے کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *