روما جی

Amir bin ali

پہلے پہل روما جی کا لفظ سن کر لتا جی،باؤ جی اور اسی طرح کے دیگر فلمی خیالات میرے ذہن میں آئے تھے۔یہ تو بعد میں عقدہ کھُلاکہ یہ معاملہ فلمی نہیں علمی نوعیت کا ہے۔پاکستان چونکہ تاج برطانیہ کی عملداری سے آزاد ہوا،اسی لئے ہمارے ہاں رومن رسم الخط میں لکھی گئی ہر تحریرکوانگریزی کہہ کر معاملہ ختم کردیا جاتا ہے۔جاپان میں صورت حال ذرا مختلف ہے۔ یہاں انگریزی دیگر یورپی زبانوں کی طرح فقط ایک غیر ملکی زبان کا درجہ رکھتی ہے۔لہٰذایہاں رومن رسم الخط میں لکھی ہر تحریر کو انگریزی نہیں کہا جاتا،بلکہ رومن حروف تہجی اور عبارت ’’روما جی‘‘کہلاتی ہے۔
جاپان میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن کے لئے ’’روما جی‘‘ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔اس کی غیر موجودگی میں توبیرونی ممالک سے آکرجاپان میں بسنے والے پردیسیوں کی غالب اکثریت ان پڑھ کہلائے گی۔گرچہ جاپانی رسم الخط تین طرح کے ہیں،مگر تینوں ایک سے بڑھ کر ایک مشکل ہے ۔سب سے جان لیوا تو چین سے کئی صدیاں پہلے درآمدکردہ رسم الخط ’’کھانجی‘‘ہے ،جوکہ بنیادی طور پر تصاویری ہے۔ان تصاویر کی تعداد کی کوئی حد مقررنہیں ہے۔اب ایسے بے شمار حروف تہجی کی موجودگی میں بھلاکوئی غیر ملکی کہاں تک سیکھے۔دیگر دو رسم الخط ’’ہیراگانا‘‘اور ’’کھاتاگانا‘‘کہلاتے ہیں،جن کی تعدادباون،باون ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں ہر تحریران تینوں رسم الخطوط کو ملا کر ہی لکھی جاتی ہے۔لہٰذانستعلیق جاپانی پڑھنے کے لئے ایک عمرکی ریاضت درکار ہوتی ہے۔
گو کہ انگریزی نے اپنی اہمیت کو جیسے باقی دنیا میں منوایاہے ویسے ہی جاپانی بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔بچوں کو سرکاری و نجی سکولوں میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے لئے انگریزی اہلِ زبان اساتذہ کو بھاری مشاہرے پر جاپان بلوایا جاتا ہے،مگر سالہاسال کی سرتوڑکوششوں کے باوجود یہ منصوبہ ناکام دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ بہت ساری جاپانی خواتین انگریزی سیکھنے کی سر توڑکو شش میں غیرملکی مردوں کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہو چکی ہیں۔مگرانگریزی کا چلن اس ملک میں نہیں ہوسکا۔امریکہ کے زیرِنگیں ریاست پورٹوریکوسے آئی ایک انگریزی کی استانی نے مجھے بتایا کہ جاپانی بچوں کو انگریزی سکھاناناممکن ہے۔وہ تو اس قدر جھنجھلائی ہوئی تھی کہ جاپانی نسل کے تمام نو نہالوں کوہی ’’ناممکن‘‘قراردینے پرتلی ہوئی تھی۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انگریزی کی اہمیت تسلیم کرنے کے باوجود جاپانیوں کا انگریزی زبان میں ہاتھ خاصا تنگ ہے۔مجھ سے اگر کوئی اس تنگ دامنی کاسبب پوچھے تو مختصر ترین الفاظ میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’جاپان بہت جاپانی ہے‘‘۔بیرونی دنیا کے اثرات اس خطہ ارض تک بہت کم پہنچے ہیں،ماضی قریب میں تین صدیوں تک ملک کی سرحدیں مکمل طورپر بندرہیں۔اس کے نتیجے میں دنیا سے الگ تھلگ جزیروں کے جھرمٹ پر مشتمل اس ملک پرغیر ملکی اثرات بھی بہت ہی محدودہوگئے۔ان تین صدیوں کی تنہائی ،جسے امریکہ بہادر نے زبر دستی 1854ء میں جنگ کی دھمکی دیکرختم کیاتھا،اس عالمی تنہائی کے اثرات لوگوں کی نفسیات،رویوں اورہرشعبہ زندگی میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔
آپ حیران ہوں گے کہ کچھ سال پہلے تک پورے جاپان میں ریلوے اسٹیشنوں اور سڑکوں کے ناموں سے لے کر ہر سرکاری و غیر سرکاری بورڈ صرف جاپانی زبان میں ہی تحریرہوتا تھا۔جب سے سیاحت کے فروغ کے لئے یہ قانون پاس ہواہے کہ سرکاری بورڈ وں پرروما جی یعنی رومی رسم الخط میں بھی عبارت تحریرکی جائے ،تب سے غیر ملکیوں کے لئے بڑی آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ورنہ تارکینِ وطن اپنی گلی،محلے کے نام کا کا بورڈ تک نہیں پڑھ سکتے تھے۔ریل کا اسٹیشن بھی پردیسی لوگ اندازے سے ہی اتر جاتے تھے،اور یہ اندازہ ہمیشہ صحیح بھی نہیں ہوتا تھا۔کبھی گھرسے ایک اسٹیشن آگے نکل جاتے ،تو کبھی دو اسٹیشن پہلے ہی گاڑی سے اتر جاتے تھے۔
یہاں پر رومن رسم الخط اور زبان کی وضاحت برمحل ہوگی۔قدیم سلطنتِ روم کی زبان بذاتِ خود توناپیدہوتی جا رہی ہے،مگر اس زبان کا رسم الخط پوری دنیا میں رواج پا گیا ہے۔ویٹی کن سٹی میں پاپائے اعظٖم اور ان کے قریبی رفقاء اب بھی اپنا رسمی خطبہ لاطینی زبان میں دیتے ہیں۔اس کی وجہ شاید قدیم
عیسائی روایت ہے۔کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے عہد میںیروشلم اور عرب کا زیادہ تر حصہ قدیمی رومی سلطنت کے زیرتسلط تھا۔ابنِ مریم ؑ کو مصلوب بھی روماکی سلطنت کے نمائندے کے حکم پر کیا گیا تھا۔یہ الگ معجزہ ہے اس واقعے کے کچھ سال بعدرومن شاہی خاندان نے خود عیسائیت قبول کر لی۔تب سے اٹلی عیسائی مذہب کے سب سے بڑے فرقے رومن کیتھولک کامرکز ہے۔قدیم روما کی زبان لاطینی سے چار بڑی یورپی زبانوں کا جنم ہوا۔ان میں پرتگالی،ہسپانوی،اطالوی اور رومانوی شامل ہیں۔لاطینی امریکہ کے خطے کو اسی لسانی بنیاد پر یہ نام دیا گیاہے ،چونکہ وہاں ہسپانوی اور پرتگالی زبانیں بولی جاتی ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ لاطینی امریکہ کوئی جغرافیائی خطہ نہیں ہے بلکہ یہ براعظم شمالی وجنوبی امریکہ کے وہ ممالک ہیں جہاں لاطینی زبان سے اخذکردہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔جاپان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران رومن رسم الخط نے بڑی تیزی سے رواج پایاہے۔ترویج تو رومن اردورسم الخط کی پاکستان میں بھی بہت زیادہ تیزی سے ہوئی اور ہورہی ہے،مگرہمارے ہاں تویہ موبایل فون ٹیکسٹ اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کے باعث ہورہاہے۔یہاں صورتحال اور اسباب مختلف ہیں۔سبب چاہے جو بھی ہومگر جب سے روما جی کاچلن عام ہواہے ،غیر ملکیوں کی جاپان میں زندگی بہت آسان ہوگئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *