روشنی کا استعارہ روشنی

kashif butt

کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ انسان کا رومانس کبھی ختم نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ سائنس سے تعلق ہوتے ہوئے قلم کے ساتھ رومانس میں وقت بیت رہا ہے۔ کبھی شعر تو کبھی نثر۔ بعض اوقات اس رومانس میں نازک موڑ بھی آتے ہیں جب انسان کچھ چھوڑنے پہ مجبور ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے۔ چار پانچ برس قبل ایک ایسی ہی صورتِ حال بنی تھی جب بادلِ ناخواستہ کالم نگاری کو ترک کرنا پڑا۔ تفصیلات میں جانا اس لیے ضروری نہیں کہ اس کا حاصل کچھ نہیں۔ لیکن ایک بات بتاتا چلوں کہ جس وجہ سے کالم لکھنا ترک ہوا اُسی وجہ سے اب دوباہ آغاز ہو رہا ہوں۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں کہ حالات بگڑ رہے ہیں۔ ’حالات سنبھل رہے ہیں‘ کا جملہ سننے کو تو کان ترس گئے ہیں۔ اور یہ فقط ہماری نسل کے ساتھ ہی نہیں ہے۔ ہم سے پہلے والوں کے ساتھ بھی یقیناًایسا ہی ہوتا ہو گا۔ کیونکہ ماضی جتنا بھی تلخ ہو ہمارے نزدیک حال سے بہتر ہوتا ہے۔ مسائل ہر عہد میں ہوتے ہیں اگر فرق ہوتا ہے تو ان سے نبردآزما ہونے کے طریقہ کار میں۔ دو انسان کبھی ایک سے نہیں ہو سکتے اور معاشرہ انسانوں کا ہی اجتماع ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سارا معاشرہ ایک ہی ڈگر پہ چل نکلے۔ جو چیزیں باہمی اشتراک کی ہوتی ہیں ان میں ٹریٹمنٹ بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ مثلاً معاشرہ کی ترقی ہر فرد کو عزیز ہو گی لیکن اس ترقی میں اپنا کردار کس راستے سے ادا کرنا ہے یہ اپنا اپنا انتخاب ہو گا۔ پھر اس کردار کی ادائیگی میں ایک کا طریقہ کار دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے یا بالکل برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ اس اختلاف کو تسلیم کرنا ہی احسن معاشرتی و تہذیبی اقدار کا اظہار ہے۔ لیکن جب معاشرے کی ایک اکائی دوسری اکائی کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے گریزاں ہو تو ایسے میں بجز انتشار امید بھی کیا ہو سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں دوسرے کو اپنی طرح کا بنا لینے میں ہی سب کی خوشنودی ہے۔ اور اگر کبھی ایسا نہ ہو پائے تو اس کے نتائج کسی بھی حد تک خطر ناک ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارا مجموعی رویہ ہے جسے سمجھنے میں اس خطہ کی معاشرتی و تہذیبی تاریخ سے آگاہی ضروری ہے۔ اس خطہ کی ساری تاریخ جذباتی فیصلوں اور اقدامات سے بھری پڑی ہے۔ یہ معتقدین کی دھرتی ہے جہاں کسی ایک کو ہیرو بنا لیا جاتا ہے اور پھر پست قد اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں بنا کسی تفکر کے کہ ہم جو کرنے جا رہے ہیں وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اپنی سوچ اور فکر کو ترک کر کے دوسرے کا آلہ کار بننا اس خطہ کے لوگوں کو ہر عہد میں مہنگا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں یہاں طرح طرح کے تجربے ہوتے رہے لیکن کوئی ایک تجربہ بھی کلی طور کامیاب نہ ہو پایا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے عمرانی نظام کی تشکیل خود یہاں کے لوگ نہیں چاہتے۔
ماضی بعید کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف تقسیمِ ہند کا منظرنامہ ہی دیکھ لیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہاں سے یہاں آنے والوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا۔و ہ خون کے دریا پار کر کے آئے تھے۔ اور ایسا ہوا بھی لیکن آدھا سچ ہی کیوں؟ یہاں سے جانے والوں کو بھی تو خون کا دریا پار کرنا پڑا تھا۔ یہاں سے جانے والی ہندو و سکھ لڑکیوں کی عزت بھی تار تار کی گئی تھی۔ یہاں بھی حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے گئے تھے۔ دونوں جانب ایک جیسا ہی عمل ہو رہا تھا تو پھر فرق کہاں تھا؟ کیا مسلم یا غیر مسلم ہونے کا فرق اس تشدد کی راہ میں آیا؟؟ نہیں۔۔۔ کیونکہ یہاں معاملہ مذہبی نہیں بلکہ اس معاشرتی اور تہذیبی اقدار کا تھا جس نے یہ کلیہ دیا ہے کہ میں درست ہوں اور تمہیں بھی مجھ سا ہونا ہے ورنہ تمہارے ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ وہ مجموعی معاشرتی رویہ تھا جس میں ہر عہد میں شدت موجود رہی ہے خواہ وہ ۱۹۵۳ء میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف چلنے والے خونی لہر ہو یا ۱۹۶۴ء میں مشرقی پاکستان میں ہونے والا ہندوؤں کا قتلِ عام۔ یہ وہی قتلِ عام تھا جس میں ہندوؤں کی کھالوں سے جوتے بنانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ سقوطِ ڈاکہ کی جزئیات میں جھانکا جائے تو بہت سے ’کارہائے نمایاں‘ ملیں گئے جو ہمارے بہادر سپوت وہاں سرانجام دیتے رہے۔
وطنِ عزیز ایسی امثال سے بھرا پڑا ہے کہ جب کہیں اجتماعی رویہ دیکھنے کو ملا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوا جس نے ہمیں بحیثیت قوم شرمندہ کیا۔ یہ الگ بات کہ ہم قوم کی تعریف پہ پورا نہیں اترتے۔ کیونکہ جہاں نسلی، لسانی، مذہبی اور علاقائی بنیادوں پہ نفرت انتہا کو چھو رہی ہو وہاں لفظ قوم کا استعمال کسی طور مناسب نہیں ہے۔قوم تو اشتراک سے بنتی ہے۔ جہاں سب ایک مشترکہ لائحہ عمل لے کر چلتے ہیں جو ارتقا کا سبب بنے۔ معاشرے کو آگے لے کر جائے اور معیاراتِ زندگی میں بہتری کے اسباب پیدا کرے۔ لیکن جہاں دوسرے کو مار دینے اور جلا دینے کی ترغیب دی جا رہی ہو وہاں کسی ارتقا کی گنجائش نہیں رہتی۔
ہندوستان میں بابری مسجد کا سانحہ ہوتا ہے تو سندھ میں ہندوؤں کے مندر جلا دیے جاتے ہیں۔ حکومت کے لیے ان کے جان و مال کا تحفظ مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر کسی سے اختلاف ہے تو اس پہ توہین کا جھوٹا الزام لگا کر تماشا دیکھا جاتا ہے۔ یہ ہمارا ہی خاصہ ہے کہ کبھی ہم لاڑکانہ کے مندر پہ حملہ کرتے ہیں تو کبھی کسی مسیحی جوڑے کو آگ میں ڈال دیتے ہیں۔ کبھی احمدیوں کی عبادت گاہوں پہ حملہ ہوتا ہے تو کبھی پارسیوں پہ۔ کبھی لاہور کی مصروف شاہراوں پہ راہ گیروں کو جلا دیتے ہیں تو کبھی سیالکوٹ میں اہلِ علاقہ بھائیوں کو مار دیتے ہیں۔ مشال تک ناموں کی ایک طویل فہرست ہے جو اس معاشرے کی درندگی کی نذر ہو گئے۔ اپنی اپنی اناؤں کی تسکین کے لیے مخالفین نے کوئی نہ کوئی قصہ گھڑا اور اللہ اللہ خیر صلا۔ آج ہی کی ایک خبر کے مطابق گجرات میں ایک نوجوان لڑکی کو اس لیے جلا دیا گیا کیونکہ وہ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ اب جسے اپنے ہی جلا دیں وہاں دوسروں پہ کیا گلہ؟
افسوس اس بات کا ہے کہ ہر واقعہ کے بعد کہا جاتا ہے کہ ہم امن پسند لوگ ہیں۔ اسلام امن کا درس دیتا ہے۔ پاکستان امن کی علامت ہے وغیرہ وغیرہ۔ صاحب! سب درست لیکن مجھے بتائیے کہ دنیا کا کون سا مذہب ہے جو انتشار کا درس دیتا ہے؟ دنیا کا کون سا ملک ہے جو انتشار پسند ہے؟؟؟ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ بے پر کی اُڑانا اب چھوڑ دیجیے۔ کیا آئے روز پکڑے جانے والے دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں؟ کیا پاکستان میں منبر و محراب سے نفرت کا پیغام دینے والے مسلمان اور پاکستانی نہیں ہیں؟ مدارس سے خود کش بمبار بن کر نکلنے والے مسلمان اور پاکستانی نہیں ہیں؟ کیا جامعات میں قتل و غارت کرنے والے مسلمان اور پاکستانی نہیں ہیں؟ کیا ہنگامہ خیزی کرنے، سرکاری و نجی عمارات کو جلانے گرانے والے مسلمان اور پاکستانی نہیں ہیں؟؟؟ تو پھر انھیں پاکستانی قوم کا حصہ ہو نے یا مسلمان ہونے نے کیوں ایک پل بھی اس پہلو پہ سوچنے نہیں دیا کہ ہم جو کرنے جا رہے ہیں اس کے نتائج کس قدر بھیانک ہو سکتے ہیں۔
ہمارے بعض دوست زلزلہ اور سیلاب جیسے حادثات میں اہلِ وطن کی جانب سے امدادی کاموں کے بیان میں خوب افسوں کاری سے کام لیتے ہیں اور معاشرے میں شدت پسندی والے پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے لوگ امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن انھی امدادیوں میں ایسے لوگ بھی خوب دیکھے گئے جو زخمیوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کے اعضا کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ مجھے ۲۰۰۵ء کا زلزلہ نہیں بھولتا۔ ان دنوں میرا قیام اسی متاثرہ علاقے میں تھا۔ امدادیوں میں بے حس لوگ بھی شامل ہو چکے تھے۔ کسی کو جنسی ہوس نے بے لگام کر رکھا تھا اور کسی کو دولت کی حرص نے۔ ملبے تلے دبی لاشوں کے زیور نہ اُتارے جا سکے تو حریص لوگ اُن کے کان، ناک ہاتھ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ اس سب میں کوئی بیرونی ہاتھ ملوث نہیں تھا بلکہ خود اس ملکِ خداداد کے شہری تھے۔
حیوانیت کے اظہار میں اہلِ وطن اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ جو برما کی مثال دیتے تھے ان کی زبانوں پہ اب پاکستان کا نام ہے۔ اور اس میں غلط بھی کیا ہے۔ ہم لوگ جلاتے بھی ہیں مارتے بھی ہیں اور کاٹتے بھی ہیں۔ اور ہمارے مطابق یہ ہمارا حق بھی ہے۔ دوسرے معاشروں میں اختلافات کے ساتھ کیسے آگے بڑھا جاتا ہے ہمیں اس بارے سوچنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں خرد کو غور و فکر کو لائقِ ملامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں فقط اہلِ جنون کو اپنی بات کہنے اور منوانے کا حق حاصل ہے۔ یہی حال ہمارے پڑوس میں بھی ہے۔ سیکولر اسٹیٹ ہوتے ہوئے بھی وہ اس جنونیت سے چھٹکارہ نہیں پا سکے اور ایسا ممکن بھی نہیں کیونکہ معاشرتی اور تہذیبی سطح میں تبدیلی کے لیے اصول قوانین سے زیادہ نصابی و غیر نصابی تعلیمی اصطلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ کام اہلِ علم وادب کے کرنے کا ہے جس کے لیے ماحول تشکیل دینا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن جہاں خود ریاست کا کردار مشکوک ہونے لگے وہاں جان لینا چاہیے کہ کچھ نہیں ہونے والا ماسوائے آوازوں کو دبانے کے۔ کتنی ہی آوازیں خاموش کر دی گئیں ہیں۔ بولنے والے کتنے ہی لاپتا ہو چکے ہیں۔ میں اپنے دوست کی راہ دیکھ رہا ہوں۔ وہ جس کی آواز اِس خرابے میں سربلند تھی۔ وہ جو عام انسان کے حق کے لیے کھڑا ہوا تھا۔ وہ جو ان افراد کے حق میں بات کرتا تھا جن کے بارے کوئی خبر نہ آتی تھی۔ آج اُس دوست کو شاہ جہاں سالف کو گئے ہوئے دو ہفتے ہو گئے لیکن کوئی خبر نہیں۔ لے جانے والوں نے اپنا تعارف تو اسی ریاست کے ذمہ داران کے طور کرایا تھا لیکن اُسے کہاں لے گئے، کہاں رکھا کچھ خبر نہیں۔ سالف اِس حبسِ بے جا میں ضرور اپنے شعر کی قرأت کرتا ہو گا
استعارے سو اندھیرے کے لیے
روشنی کا استعارہ روشنی
اہلِ قلم دوست آگے بڑھیں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنونیت، وحشت، بربریت اور بے حسی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور اگر اس وقت بھی آپ زلف و رخسار میں الجھے ہوئے ہیں اور معاشرے میں پھیلے زہر کے تدارک میں اپنے قلمی کردار سے قاصر ہیں تو یقین مانیے جلد یہ زہر آپ کی نسوں میں بھی اترنے والا ہے۔ جو اہلِ قلم وطنِ عزیز میں پھیلی جنونیت کے حق میں طرح طرح کے جواز اور دلائل لا رہے ہیں اُن سے عرض ہے کہ آپ کا اختلافِ رائے سر آنکھوں پہ لیکن ظلم کو نیکی ثابت کر کے معاشرے کو مزید اندھیرے میں نہ دھکیلیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں ہتھیار ہے تو آپ ایک گروہ کے لیے مجاہد اور دوسرے کے لیے دہشت گرد ہو سکتے ہیں اور اگر پھول ہے تو آپ سب کے لیے محبت کے پیامبر ہیں۔ آپ قلم کو تلوار بھی کر سکتے ہیں اور پھول بھی۔ اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کون سا راستہ اپناتے ہیں۔ نفرت کا یا محبت کا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *