لیبر ہاﺅس 

baba-jevna
آج حوالدا ر تابعدار کو پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور سے کسی کام کے سلسلے میں تھانہ نوا ب ٹاﺅن لاہور جانے کا اتفاق ہو ا ۔راستے میں ایک سائن بورڈ پہ نظر پڑی تو حوالدار تابعدار کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا جس پہ لکھا تھا لیبر ہاﺅس کالونی ، اس لیبر ہاﺅس کالونی بنانے والے کے لیے دل سے ایسے دعا نکلی کہ حوالدار تابعدار کو لگا کہ جیسے یہ دعائیہ الفاظ منہ سے نکلنے سے پہلے ہی قبولیت کی تمام سیڑھیاں پا ر کر گئے ہو ں گے کیونکہ جب حوالدار تابعدار کی زبان پہ کالونی بنانے والے کے لیے دعائیہ الفاظ تھے تو آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی تھی مزدورں کے بچے ہلکی ہلکی بوندا باندی میں اپنی اپنی سائیکلیں ،فٹ بال ، کرکٹ کے بلے لیے سر سبز پلاٹوں میں کھیل کود میں مصروف تھے اور موسم کی دلکشی کا مزہ لے رہے تھے ایک لمحے کو حوالدار تابعدار نے سوچا کہ یار بچوں کے ہشاش بشاش چہرے قیمتی سائیکلیں دیکھ کے لگتا نہیں کہ یہ مزدورں کے بچے ہیں آج کے اس مہنگے دور میں تو مزدور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے دے پاتا ہے یہ مہنگی سائیکلیں مہنگے کپڑے اور جوتے سمجھ سے باہر ہے ۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنے اپ کو یہ کہہ کر کوسنا شروع کر دیا کہ جو بندہ اتنے قیمتی گھر بنا کے مزدوروں کو فی سبیل اللہ دے سکتا ہے وہ ان کے بچوں کو کھلونے اور کپڑے بھی لے کے دے سکتا ہے حوالدار تابعدار نے اپنے آپ سے سر گوشی کے انداز میں بات کی اور خود کو سمجھایا کہ جناب دنیا میں اب بھی نیک اور خوف خدا رکھنے والے لوگ موجود ہیں جنھیں موت اور قبر دونوں یاد ہیں اپنی مکھی جیسی سوچ کو بدلو جو پورے جسم کے صاف ستھرے حصوں کو چھوڑ کے صرف جسم کے غلاظت بھرے حصوں پہ ہی بیٹھتی ہے اتنے خوبصورت عالی شان مکانات کو چھوڑ تمھاری نظر بچوں کے جوتوں کپڑوں اور کھلونوں پہ گئی کتنی شرم کی بات ہے پتہ نہیں اور کیا کیا حوالدار تابعدار نے خود کو کہا بہر حال وہ بہت خوش تھا کہ غریبوں کے لیے ایسی شاندار کا لونی بنی ہے ۔حوالدار تابعدار سوچ رہا تھا کہ ایک ایسا بھی دن آئے گا جب پاکستان کا ہر بچہ اسی طرح خوشحا ل ہوگا ہر غریب انسان کے پاس اسی طرح کا اپنا ایک گھر ہو گا کوئی غریب بے گھر نہیں رہے گا ۔کتنا ہی وہ نیک شفیق اور ولی صفت انسان ہوگا مزدورں کے لیے بے گھر افراد کے لیے اس کے دل میں کس قدر درد ہوگا جس نے یہ کالونی بنوائی ہوگی کاش ملک کے ہر شہر میں اسی طرح کی کالونیاں بن جائیں ، وہ مزدور جو اپنی ساری زندگی دولت مند امرا ءکے کوٹھیاں بنگلے بناتے گزار دیتا ہے بڑے بڑے محلات کی بنیادوں میں جس کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے وہ بیچارہ ساری زندگی اپنا کچا گھر بھی بنانے سے قاصر رہتا ہے اپنے ہی ہاتھوں سے ایک ایک اینٹ کو سنوار کے لگاکر بنائے ہوئے فلک بوس مکانات کو مہنگے گھروں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے کبھی تو ایسا ہوگا کہ اس مزدور کے لیے بھی گھر بنے گا ۔ انھی سوچوں میں گم حوالدار تابعدار لیبر کالونی کے پاس سے گزر گیا کیوں کہ اسے ایک انتہائی ضروری کام کے لیے جلدی جلدی تھانہ نواب ٹاﺅن پہنچنا تھا ۔ایک فیصلہ اس نے کر لیا تھا کہ واپسی جاتے وقت وہ اس کالونی کے اندر لازمی جائے گا اور پتہ لگائے گا کہ یہ کالونی کس نے بنوائی کب بنوائی اگر کالونی سے متعلقہ اگر کوئی آفس وہاں ہوا تو عملے سے ضرور ملے گا اور کالونی بنانے والے کے لیے ایک پیغام دے کے آئے گا جو صرف اور صرف خلوص سے بھرا ہو گا اپنی نیک تمنائیں اس کو بھیجے گا ۔سارا راستہ اپنے اس کام کو جس کے لیے وہ تھانہ نواب ٹاﺅن جا رہا تھا بھول کر اس بندے کے لیے الفاظ کا ذخیرہ اکٹھا کرنے میں مصروف رہا اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ کن الفاظ میں اس بندے کو خراج تحسین پیش کرے جس نے یہ کالونی بنائی آج تابعدار کو اپنی کم علمی پہ بھی حد درجہ افسوس ہو رہا تھا کہ کاش اس کے پاس ایسے الفاظ کا کوئی الگ سے ذخیرہ ہوتا جو وہ سارے کے سارے ا س بندے کو عقیدت سے پیش کرتا ۔
خیر جیسے تیسے وقت گزرا تھانے پہنچ کر کام ہوا یا نہیں وہ ایک الگ ٹاپک ہے لیکن آج کا دن صرف اس بندے کے لیے تھا جس نے وہ کالونی بنوائی ۔واپسی پہ حوالدار تابعدار نے اپنے دوست سے چند گھنٹوں کے لیے ادھار لی ہوئی مہران کا ر کو کالونی کی طرف موڑا پہلی ہی سٹرک پہ کالونی کے اندر جاکر حوالدار تابعدار کے سارے کے سارے دماغی طوطے پُھر پُھر کر کے اڑ گئے اس بار حوالدار تابعدار کی آنکھوں میں باقاعدہ نمی محسوس کی جا سکتی تھی پہلی ہی گلی کی نُکڑ مُڑتے ہی اس نے کیا دیکھا کہ ہر لیبر ہاﺅس کے دروازے کے باہر قیمتی گاڑی کھڑی تھی ہر مزدور کے گھر کی ہر کھڑکی میں ac آویزاں تھا ۔یہ کیسی لیبر کالونی ہے ؟ اس کالونی کے رہائشی کس فیکڑی کے مزدور ہیں ؟ آخر یہ کون لوگ ہیں پتہ براری سے علم ہوا کہ یہاں کوارٹر پندرہ لاکھ میں بکتا ہے اگر آپ بھی لینا چاہیں تو ہم آپ کی بات کر لیتے ہیں متعدد لیبر ہاﺅس خالی پڑے ہیں پاکستان میں کوئی ایسا مزدور ہی نہیں جس کا گھر نہ ہو یہ لوگ جو سڑکوں فٹ پاتھوں پہ پُلوں کے نیچے سٹرکوں کے کنارے خیموں میں رہائش پذیر ہیں ان کو شائد انسان کہلانے کا حق نہیں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ کاروں والے ، اپنے لیبر ہاﺅس میں اے سی لگوانے والے مزدور لوگ اس کالونی میں کیوں براجمان ہیں ؟ہو سکتا ہے وہ خیمہ بستیوں پُلوں کے نیچے رہنے والے لوگوں سے زیادہ غریب ہوں کیوں کہ غربت صرف روپے پیسے کی ہی نہیں ہوتی غربت انسان کی سوچ میں ہوتی ہے غربت اخلاقی بھی ہوتی ہے غربت انداز فکر کی بھی ہوتی ہے ۔دنیا کا سب سے قابل رحم اور قابل ترس وہ امیر آدمی ہو تا ہے جو اخلاقی لحاظ سے غریب ہو ۔حوالدار تابعدار صرف اس لیبر کالونی کے متعلقہ افسران سے یہ سوال کرتا ہے کہ اس کالونی کا نام لیبر کالونی کیوں ہے ؟ اگر یہ لیبر کالونی ہے تو اس میں رہائش پذیر لوگ کس فیکٹری کے مزدور ہیں ؟ جو مہنگی گاڑی کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے عالی شان گھر میں اے سی کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے ۔لاہور کے اس پوش علاقے میں بنی لیبر کالونی کی طرز ضلع بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کے غریب محلہ میں ایک بیوہ کالونی کے نام سے ہاﺅسنگ کالونی بنائی گئی تھی جس کا آج جو حال ہے اور اس کالونی میں کتنی بیوائیں رہائش پذیر ہیں کوئی نہیں جانتا بیوگان کے لیے بنائے گئے کوارٹرز کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے اکثر کوارٹرز کو گرا کر ان کی جگہ شاندار مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔اس بیوہ کالونی میں بھی قبضہ مافیا کا سد باب کیا جانا اشد ضروری ہے تاکہ حقداران کو ان کا حق مل سکے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *