پانچواں سال کیسا رہے گا؟

cyril

جس چیز کی توقع تھی وہ ہو چکی۔ اب اس چیز کی باری ہے جس کے بارے میں کوئی توقعات نہیں ہیں۔ اب کیا ہو گا؟ قانون کو بھول جائیے۔ سیاست پر نظر دوڑائیں۔ ٹائم لائن تو بلکل ہی واضح ہے۔ تیس دن رمضان کے اور پھر عید کا دن۔ 60 دن میں کسی صورت کوئی رپورٹ پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ اسی دور میں بجٹ سیشن بھی آنے والا ہے۔ گرمیوں کا موسم بھی اس بار کچھ جلدی ہی شروع ہو چکا ہے۔ عام طور پر یہ موسم 5 ماہ کے عرصے پر محیط رہتا ہے اس سال لگتا ہے یہ بڑھ کر 6 ماہ کا ہونے والا ہے۔ ایک سال بعد الیکشن بھی ہوں گے اور اس سے قبل سینٹ الیکشن بھی ہونے کو ہیں۔بہت ہی زیادہ مصروف سال ہے۔

آپ ان میں سے کون بننا چاہیں گے؟ نواز شریف یا عمران خان؟ آئیے پاکستان کے سب سے پسندیدہ کھیل یعنی سیاست پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ہم نواز شریف سے شروع کریں گے جو اس ہفتے کے فاتح قرار پائے ہیں۔ فاتح اس لیے کہ وہ اب بھی وزیر اعظم ہیں۔ اس لیے کہ مریم نواز بھی بال بال بچ نکلی ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی قسمت اب انہیں کے ہاتھ میں ہے۔ سب سے زیادہ اس لیے کہ ان کی وزارت عظمی خطرے میں تھی اور ان کی پارٹی ہی نا اہل ہو سکتی تھی۔ 2-3 کے معاملے کو پرے رکھ دیجیے۔ سیاست کی دنیا میں ایک بہت ہی عجیب طریقے سے اس فیصلے کو ماپا جا سکتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ نواز شریف کو اندازہ نہیں تھا کہ پانامہ کیس اتنی دور تک جائے گا۔ انہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ ان کی جائیداد کی جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔ وہ اس تحقیق کاسامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسلام آباد میں لاک ڈاون کی دھمکی اور سپریم کورٹ کی مداخلت کی وجہ سے کیس کی سماعت ممکن ہوئی۔

سماعت بہت ہی اختلافی ماحول میں ہوئی ۔ روزانہ عدالت کے باہر سیاسی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے تھے اور عدالت کے اندر مختلف بیانات سننے کو ملتے تھے ۔ ن لیگ سہمی ہوئی تھی اور شریف خاندان کے وکیل بے یقینی کا شکار تھے۔ پھر وہ فیصلہ آیا جس کا ایک عرصہ تک عوام کو انتظار کرنا پڑا۔ یہی کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نواز شریف اب بھی وزیر اعظم ہیں۔ اس پورے پانامہ معاملے نے نواز شریف کی حکومت گرانے کی بجائے انہیں انتخابی لحاظ سے مزید مضبوط کر دیا۔ کیونکہ سیاسی لحاظ سے صرف دو ہی آپشن نظر آتے ہیں۔

یا تو نواز شریف کے ہاتھ صاف ہیں یا اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے۔ ان میں سے ایک بھی چیز نواز شریف کے لیے سونا ثابت ہو گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ نواز شریف کی بے گناہی کی صورت میں آپ اپنا ہیٹ چبا دیں گے تو ابھی سے ہیٹ خرید لیں۔ انتخابی لحاظ سے بے گناہ ثابت وہی ہوتا ہے جو بے وقوف نہ ہو اور اپنے آپ کو دشمن سے ہر طرح سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ن لیگ دھڑے کے مطابق نواز شریف کو بے گناہی کا سرٹیفیکیٹ ملا ہے۔ نہ تو اپوزیشن اور نہ ہی عدلیہ ان کے خلاف کوئی چیز ثابت کر پائی ہے۔

یہ مان لینا کہ عدالتی نظام میں کوئی خامی ہے دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتی نظام میں بھی دھاندلی کی جا سکتی ہے۔ن لیگ بیس کے لیے نواز کا بال بال بچنے کا مطلب نواز کا سب سے بڑے حملے سے بچ نکلنا ہے۔ اگر آپ کے دشمن آپ کو قتل نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ عوام کو آپ جسیے لیڈر کی ضرورت ہے۔ یعنی آپ کی بنیادیں محفوظ ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز اس کے پیچھے چھپے اثرات ہیں۔ پی ٹٰی آئی کی سیاست اینٹی کرپشن اور شہری عوام کی سپورٹ پر مبنی ہے۔ اگر مردم شماری کا عمل وقت پر مکمل ہو گیا تو پی ٹی آئی کا الیکٹورل فٹ پرنٹ وسیع ہو جائے گا۔

عدلیہ نے نواز کو ایک ایسا ٹول دے دیا ہے جس کے ذریعے وہ پی ٹی آئی کے گراف کو تھوڑا نیچے لا سکتے ہیں۔ اسے اس طرح سے دیکھیے۔ اگر 2013 میں آپ کو نواز اور زرداری کرپٹ نظر آتے اور ان سے آپ کو نفرت ہوتی تو آپ پی ٹی آئی کو ووٹ دیتے۔ اگلی بار اگر اتنی محنت کے باوجود نواز شریف کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوتا اور ن لیگ اپنے وعدوں کے مطابق ترقیاتی کام بھی کر کے دکھاتی ہے اور آپ عمران کی سنگل ایشو سیاست سے تنگ ہیں تو کیا آپ نواز کو ایک اور موقع دیں گے؟ یہی تو نواز کو چاہیے کہ عوام اسے دوسرا موقع دیں۔ شاید یہی چیز عدالت نے بھی محسوس کی ہے اور نواز شریف کو دوسرا موقع دیا ہے تا کہ وہ اپنا دفاع سکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے بھی کر سکیں۔

اگر نواز کو جے آئی ٹی میں بھی سرخروئی حاصل ہوئی تو یہ ان کا تیسرا تاج ہو گا۔ پہلا انٹرنیشنل ڈائمنشن، دوسرا پانامہ پیپرز اور تیسرا یہ کہ ان کے خلاف کوئی چیز ثابت ہی نہ ہو سکی۔اب سپریم کورٹ خود اتنے ماہ کی محنت کے بعد کچھ ثابت نہ ہونے پر مایوسی کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گی۔ اس کے بعد اگرفوج کے تحت ادارے کی طرف سے کی گئی تحقیقات میں بھی اگر کچھ ثابت نہ ہوا تو کون بیوقوف ہو گا جو اس طرح کا نواز شریف نہیں بننا چاہے گا۔ اگر دوسری آپشن پر غور کریں یعنی یہ سمجھ لیں کہ نواز شریف نے جوڈیشل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ساتھ کر لیا ہے اورکوئی خفیہ ڈیل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ کیا پھر لوگ ایک مقبول، کام کرنے والے تین بار وزیر اعظم بننے والے شخص کو ووٹ دے کر منتخب کرنا چاہیں گے؟ اب ن لیگ کو بیلٹ چھپوانے کا کام شروع کر دینا چاہیے۔

لیکن اس کے ساتھ ایک سال اور گزارنا باقی ہے۔ اسی لیے ہمیں اس ہفتے دو طرف خوشیاں اور جشن دیکھنے کو ملا۔

پی ٹی آئی ایک ہی چال پر چلتی ہے یعنی گو نواز گو کے نعرے پر لیکن اس کے باوجود ن لیگ کے ساتھ میچ ڈرا پر ہی منتج ہوا ہے۔ پی ٹی آئی آج بھی وہیں ہے جہاں 4 سال پہلے تھی۔ آج بھی اس کا دوسرا نمبر ہے اور یہ ن لیگ کے پیچھے کھڑی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں پارٹیاں کافی فا صلہ پر موجود ہیں لیکن پھر بھی پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر ہے۔ البتہ یہ فاصلہ اتنا زیادہ بھی نہیں ہے۔ اگر نواز شریف لڑکھڑا گئے تو پی ٹی آئی کی قسمت کھل سکتی ہے۔

یہ دونوں چیزیں اب بھی واقع ہو سکتی ہیں۔

پانچ سالہ حکومتی دور کا ایک مزاحیہ پہلو بھی ہے۔ ہماری سیاست میں یہ دور مطابقت سے تھوڑا زیادہ ہے۔

پچھلی بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ سیاسی کھلاڑی اپنی ہر چال آما چکے تھے، ان کی چالاکی کی خاصیت جواب دے چکی تھی اور وہ ہر لمحے کسی طرح اپنا دور پورا کرنے کے بارے میں فکر مند تھے۔

چار سال کافی ہیں لیکن پانچ سال پورے کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔

عمران اور پی ٹی آئی کو معلوم ہو جائے گا۔ نواز اور ن لیگ اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے۔

اسی وجہ سے تو سیاست قومی کھیل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *