شوہر،بیوی اور محبت کی کنجی

ظہیر عباس راہی

zaheer abbas rahi

محبت وہ بہترین تحفہ ہے جو ایک شوہر اپنی بیوی کو اور ایک بیوی اپنے شوہر کو پیش کر سکتی ہے۔جب شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کی ندیاں رواں ہو جائیں تو زندگی حسین و جمیل ہو جاتی ہے۔پھر خدمت و اطاعت کے جھگڑے،سہولتوں کی فراہمی اور فرمائشوں کی تکمیل کے مطالبے اور ایسی بہت سی چیزوں کی حیثیت زندگی میں غیر اہم ہو جاتی ہے۔اور جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو محبت کے تحفے پیش نہیں کر پاتے ہیں۔تو ان کی زندگی میں تعیش روگ اور تعلق بوجھ بنا ہوتا ہے۔اسی روگ اور اسی بوجھ سے پریشان وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔محبت کے خزانے الّٰلہ نے ہر انسان کے اندر ودیعت کئے ہیں۔ایک شوہر خواہ وہ کتنا ہی غریب ۔ان پڑھ اور منصب و شہرت سے خالی ہو۔محبت کی دولت سے ضرور مالا مال ہوتا ہے۔اور اپنی بیوی پر یہ دولت خوب خوب لُٹا سکتا ہے۔ایک بیوی بھی خواہ وہ کیسی ہی پھوہڑ،کاہل،اور بیمار ہو۔محبت کی بے پناہ دولت اپنے اندر رکھتی ہے اور جب چاہے جس قدر چاہے اپنے شوہر پر نچھاور کر سکتی ہے۔غرض دولت و شہرت ۔صحت و صلاحیت اور سلیقہ و طریقہ میں لوگ کم زیادہ ہو سکتے ہیں۔پر محبت کے عظیم خزانے قدرت نے سب کے اندر رکھے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی اپنے اندر موجود ان خزانوں سے مشقت بھری زندگی میں بھی خوش گوار زندگی کا لطف حاصل کر لیتا ہے۔اور کوئی خوش رہنے کی حسرت لئے ایک دن محبت کے خزانے کو بھی مٹی کے حوالے کر دیتا ہے۔اس پاک محبت کو جو جائز ہی نہیں فرض بھی ہے عام کرنا بہت ضروری ہے۔اس پاکیزہ محبت کے سبق کو عام کرنے میں کسی قسم کی جھجھک اور کسی طرح کی شرم کو حائل نہیں ہونا چاہیے ۔گناہوں کی طرف بڑھتی نئی نسل کو یہ پیغام پوری قوت سے پہنچنا چاہیے کہ جائز رشتے نا جائز رشتوں سے کہیں زیادہ پر لطف اور زندگی کی لزتوں اور حرارتوں سے کہیں زیادہ بھرپور ہوتے ہیں ۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ وہ بندھن ہے جو مقدس ہی نہیں مبارک بھی ہوتا ہے ۔امید ہے بہت سارے شوہر اور بیویاں ان ۔محبت کی کنجیوں۔سے اپنے اندر موجود محبت کے عظیم خزانے دریافت کر سکیں گے۔اور انہیں آپس میں بانٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *