تعلیم سب کے لیے

Afshan Huma

مجھے یہ فقرہ بے حد معنی خیز لگتا تھا۔ تعلیم ایک ایسا حق ہے جس سے کسی بھی بچے کو محروم نہیں رہنا چاہئے۔ تعلیم کا زیور ہر کسی کے لیے میسر ہونا چاہئے۔ ہر وہ بچہ جو اکیسویں صدی میں پیدا ہورہا ہے میرے خیال میں وہ ایک ترقی یافتہ دور میں آنکھ کھول رہا ہے۔ لہزا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تعلیم کے بغیر اپنی زندگی گزار سکے۔ میرا یقین تھا کہ تعلیم ہی وہ واحد زریعہ ہے جو ذہنوں کو کشادہ کرتی اور نظریات کی نمو کا باعث بنتی ہے۔ میں سمجھتی تھی کہ تعلیم یافتہ لوگ کسی بھی معاشرے میں ایک روشنی کی کرن کی مانند ہوتے ہیں۔ ترقی پزیر ممالک میں تعلیم یافتہ لوگوں ہی نے یہ بیڑا اٹھانا ہے کہ وہ نفرتوں اور بغض کا خاتمہ کریں اور ایک مہزب معاشرہ تشکیل دیں۔
میں نے اپنے والدین سے یہ سبق سیکھا تھا کہ جب ایک نسل پڑھ لکھ جاتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کو اپنے سے زیادہ پڑھائے لکھائے اور ان کے مستقبل کے لیے اپنے سے بہتر حالات پیدا کرے۔ تعلیم یافتہ لوگوں کو اچھائی اور برائی میں تمیز کرنا آسان ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے لیے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد جہاں کہیں کام کرتے ہیں ان میں اور ان پڑھ افراد میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ میں نے اپنے تئیں یہ طے کر لیا کہ اگر کو ئی شخص بد تمیزی کرتا ہے یا بد اخلاقی سے پیش آتا ہے تو یقینا" وہ ذیادہ پڑھا لکھا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اعلی تعلیم کے حامل لوگ تو اعلی ظرف اور بلند اخلاقیات رکھتے ہوں گے۔
تعلیم یافتہ افراد میں میری ناقص رائے کے مطابق سب سے بہتر اخلاق تو اساتذہ کرام کا ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ نہ صرف خود پڑھے لکھے ہوتے ہیں بلکہ اگلی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ بھی اٹھاتے ہیں۔ اساتذہ کرام کسی بھی درجہ پر تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہوں ان کی زمہ داری عام لوگوں کی نسبت بہت بڑی ہوتی ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو ان کے پاس اس یقین سے بھیجتے ہیں کہ بچے ان سے بہترین سبق حاصل کریں گے۔ اساتذہ کو عزت و احترام کی نگاہ سے اس لیے بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگ انہیں معاشرے اور تہزیب کا معمار سمجھتے ہیں۔ ان پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کو بہترین انسانی اقدار منتقل کریں گے۔
اب دیکھیے ان درسگاہوں کی طرف۔ یہ سکول، مدارس، کالج اور یونیورسٹیاں۔ یہ محض عمارتیں نہیں یہ ادارے ہیں۔ وہ ادارے جہاں بچے اور جوان پڑھتے ہیں۔ اپنے اپنے مستقبل کے سنہرے خواب تعبیر کرنے کے لیے راہیں تلاشتے ہیں۔ علم و فن اور تحقیق کی منازل طے کرتے اور نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے کے لیے بہترین مستقبل کے معمار بنتے ہیں- ان درسگاہوں میں دی جانے والی تعلیم اور تربیت ایسی ہونی چاہئے کہ ان سے فارغالتحصیل ہونے والے طلبہ جہاں بھی ہوں اپنی درسگاہ پر فخر کر سکیں۔
یہ تمام باتیں تعلیم، اساتذہ اور درساگاہوں سے جڑے وہ تصورات ہیں جا ہمارے زہنوں میں پلتے ہیں۔ ہم تعلیم، تعلیم دینے والوں اور ان اداروں سے بہت سی امید رکھتے ہیں۔ میں بھی ایسی ہی امیدیں لے کر بڑی ہوئی۔ میں نہ تعلیم کے میدان ہیں میں پی ایچ ڈی کی۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ تعلیم ہی اس معاشرے کے تمام مسائل کا حل پیش کرے گی۔ اساتذہ ہی تبدیلی کے اصل علم بردار ہوں گے اور تعلیمی ادارے ہی اس بات کے ضامن ہوں گے کہ ہمارا مستقبل نہ صرف روشن ہے بلکہ بے حد محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
لیکن پچھلے ایک ہفتے سے میں شدید تذبذب کا شکار ہوں۔ شکر ہے کہ میں نے مشعال خان کے قتل کی وڈیو نہیں دیکھی کیونکہ صرف خبریں ہی سن کر میرے تصورات درہم برہم ہو چکے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے لوگ تھے، اساتذہ موجود تھے اور ایک درسگاہ کے اندر ایک بچے کی جان لے لی گئی۔۔۔ میری نظر میں آرمی پبلک سکول میں چند دہشت گردوں نے بہت سے بچوں کی جان لی اور ایک یونیورسٹی میں بہت سے لوگوں نے ایک بچے کی جان لی۔ اور یہ بہت سے لوگ دہشت گرد نہیں لیکن دہشت زدہ سوچ میں ضرور تھے۔
تعلیم سب کے لیے ہو نہ ہو۔۔۔ زندگی پر حق تو سب کے لیے برابر ہے نا۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *