آغازکہاں سے کیا جائے؟

ڈاکٹر رسول بخش رئیسrasool

ایسا لگتا ہے کہ پشاور میں طالبان دھشت گردوں کے ہاتھوں سکول کے بچوں کے قتل نے حکام کو جھنجھوڑ کر خوابِ غفلت سے جگادیا اور اُنہیں یکایک احساس ہوا کہ قومی سلامتی خطرے میں ہے۔ ویسے اس سے پہلے بھی ہمیں بری طرح جھنجھوڑا جاچکا ہے، دھشت گردوں کی طرف سے دیے جانے والے صدمات نئے نہیں اور نہ ہی ہماری سلامتی کو لاحق خطرے نے نیا نیا سراٹھاہے۔ اس کمزور ہوتی ہوئی ریاست اور بے جان ہوتے ہوئے معاشرے نے گزشتہ کئی عشروں سے اپنے سینے پر ہزاروں گھاؤ برداشت کیے لیکن پشاور سکول میں ہونے والی خونریزی نے سب پر سکتہ طاری کردیا۔ اب سب کے سامنے سوال یہ ہے کہ اس دھشت گردی سے نمٹنے کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔
ایک گروہ کی طرف سے کیا جانے والے تشدد ہمیں دیگر گروہوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی وجہ سے ہم دیگر گروہوں سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے۔ آج پاکستان میں درجنوں انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ان کی موجودگی سے انکار کرنا یا بعض سیاسی وجوھات کی بنا پر ان سے اغماض برتنا ہمیں آخر کار نقصان پہنچائے گا۔چاہے کوئی بھی گروہ ہو، اس کے جیسے بھی نظریات یا عقائد ہوں، اس کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کی تمام اقسام کی غرض وغایت سیاسی مفاد کے سوا کچھ اور نہیں۔ کیا ریاست ان تمام گروہوں کو چیلنج کرسکتی ہے یا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو کیا معاشرہ اُس کا ساتھ دے گا؟ موجودہ سیاسی مفاہمت کا عمل کب تک جاری رہے گا؟ کیا یہ فوج کے دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر آج سیاست دان واقعی مخلص ہوکر دھشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہوچکے ہیں؟ یہ ہیں وہ سوال جو آج ہر پاکستانی کے ذہن مٰں کلبلارہے ہیں۔
آج صرف طالبان ہی نہیں بلکہ بہت سے دیگر گروہ بھی مختلف سیاسی اور مذہبی اہداف کے لیے تشدد کا سہارا لے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم گزشتہ ایک عشرے سے تشدد کی کارروائیوں میں بے تحاشا اضافہ کیوں دیکھنے میں آیا؟اس کا مختصر جواب ’’ہمارے نظام کی ناکامی‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومتیں اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہیں۔ کوئی نظام بھی اُس وقت ناکامی سے دوچار ہوتاہے جب وہ ایسے امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے جن کے لیے وہ نہیں بنا تھا، یا وہ اُن امور سے صرفِ نظر کرتا ہے جن کی انجام دہی کے لیے اُسے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح حکومتوں کی ناکامی اُس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب وہ بنائے گئے قوانین کا نفاذ کرنے میں ناکام رہتی ہیں، عوام کو انصاف ، زندگی کی سہولیات اور سیاسی حقوق دینے میں ناکام رہتی ہیں۔ان تمام امور میں پاکستان زوال پذیر ہے۔ کسی بھی حکومت نے ملک میں قوانین کے بے لاگ نفاذ اور سیاسی نظام کو شفاف بنانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی اچھے رہنما کی غیر موجودگی میں ان امور کی طرف پیش رفت ناممکن ہے۔ درحقیقت قحط الرجال ہمارا سب سے بڑا مسلۂ اور تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اگر ہمیں ان خرابیوں سے مستقل طور پر نمٹنا ہے تو ہمیں اپنے نظام کی فعالیت کو بہتر بنانا ہوگا۔
اس ضمن میں میری دلیل دو پہلو رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ نظام کی ناکامی نے اس میں بلاروک ٹوک کچھ بھی گزرنے کے کلچر کو فروغ دیا۔ معاشرے کے طبقے یہ جان گئے کہ قوانین کی غیر موجودگی میں ہر کام طاقت اور اختیار سے کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں طاقت صرف حکمران طبقوں تک ہی محدود نہیں رہی۔ چنانچہ معاشرے میں طاقت کے حصول کے لیے سیاست، کاروبار اور مذہب تک کو استعمال کرنے کی پالیسی دکھائی دی۔ یقیناًطاقت کے استعمال کا مظاہرہ اربابِ حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے دیکھنے میں آیا لیکن پھر معاشرے کے دیگر طبقے بھی طاقت کی اس دوڑ میں شامل ہوتے گئے۔ ہر کسی نے اپنی سکت کے مطابق اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ حکمرنوں، چاہے وہ سول تھے یا فوجی، نے جی بھر کر مال کمایا ۔ اس کے نتیجے میں ملک میں بدعنوانی کا طوفان امڈ آیا۔ آج ملک کا کوئی شعبہ بھی بدعنوانی سے پاک نہیں۔ لوگوں کو سمجھ آگئی کہ جب حکمران بدعنوان ہوں تو اُنہیں بھی بدعنوانی کی کوئی سزا نہیں ملے گی۔
اغماض برتنے کی اس پالیسی کے نتیجے میں آج پاکستان کو جن گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ، وہ موجودہ ریاستی اداروں کے بس سے باہرہیں۔ آج ہماری سماجی روایات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ درحقیقت دنیا کے جس معاشرے نے بھی قوانین سے روگردانی کی، وہاں سماجی روایات کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد وہاں کا قابلِ قبول مذہب بھی معاشرے کو نہ سنبھال سکا۔ اس لیے پاکستان میں موجود خرابیوں کا انبار ،جو کئی عشروں سے یہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، کسی ایک آدھ آرڈیننس یا انتظامی حکم یا ہنگامی بنیادوں پر کی گئی قانون سازی سے ختم نہیں ہوجائے گا۔کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں یہ ان مسائل کو کسی نے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔ سب نے ’’وقت گزارواور مٹی پاؤ ‘‘کی پالیسی جاری رکھی۔ اس دوران ملک میں انتخابات بھی ہوتے رہے ، لیکن کوئی صورتِ حال تبدیل نہ ہوئی کیونکہ ہماری جمہوریت کو مورثی سیاست نے گہنا دیا۔ اس کے نتیجے میں جس خاندان کی حکومت بھی قائم ہوئی اس نے جی بھر کے اپنی جیبیں بھریں۔قومی مقاصد، جیسا کہ سیاسی نظام کی اصلاح، معاشی ترقی ، آبادی پر کنٹرول اور داخلی سکیورٹی ، کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ۔
ہمارے بچوں کی حالیہ قربانی نے قوم کو فی الحال متحد کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان مسائل کے بارے میں مل کر سوچیں۔ وقت کا تقاضا ہے اس سوچ کا دائرۂ کار صرف فوجی عدالتوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کا قیام مسلے کا دیرپا اور مستقل حل نہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے پورے نظام کی اصلاح کرنا ہوگی۔ ہمیں انتظامیہ، پولیس ، عدلیہ اور دیگر ریاستوں اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرے اور نظام نہیں چل سکتا۔ جب تک قانون کی نگاہ میں تمام شہری یکساں حیثیت نہیں رکھتے، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی دھشت گردی کاخاتمہ ہوگا۔ اس کے علاوہ تمام اداروں اور افراد کا احتساب بھی کرنا ہوگا۔ اگر کسی سیاست اور حکمرانی کی معاشرے کی منطقی خواہش نہیں ہوگی تو اس میں مسائل کا حل طاقت کے زور پر ہی کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *