اسرائیل میں پہلی مسلمان خاتون جج تعینات!

یروشلم -اسرائیل نے مسلم شریعہ کورٹ میں پہلی مسلمان خاتون جج تعینات کردی۔ شمالی گائوں تمارا کی مسلم خاتون وکیل خانا خاطب کو اسرائیل کی جسٹس کمیٹی نے دیگر 3 مرد ججوں کے علاوہ اسرائیل کے اندر مسلم شریعہ کورٹ کیلئے منتخب کیا، وزیر انصاف نے کہا کہ خاتون مذہبی جج کی تقرری بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھی۔

حانا خطیب کا کہنا تھا کہ یہ عرب خواتین اور عرب معاشرے کے لیے بڑی خبر ہے،میں اس انتخاب پر پرجوش ہوں اور امید ہے کہ اس سے مزید خواتین کی تعیناتی کے لیے راہ ہموار ہوگی۔ عرب خاتون قانون دان عائدہ توما سلیمان کا کہنا تھا حانا خطیب کی تعیناتی تاریخی فیصلہ ہے جو طویل قانونی جنگ کا نتیجہ ہے اور اس سے اسرائیل میں موجود تمام عربوں کو فائدہ ہوگا۔

واضح رہے اسرائیل میں عائلی قوانین طلاق، شادی اور نان نفقہ کے مسائل شرعی عدالتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور مختلف طبقات ک لیے الگ نظام موجود ہے،حانا خطیب نہ صرف شرعی عدالت کی پہلی خاتون جج ہیں بلکہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی عدالت میں منتخب ہونے والی پہلی خاتون جج ہیں اس سے قبل کسی خاتون نے یہودیوں کی عدالت میں جج کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *