افغان حکام کیا کر رہے ہیں ؟ احسان اللہ احسان کا تہلکہ خیز انکشاف !

1

اسلام آباد ۔ کالعدم تحریک طالبان و جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کو افغانستان میں افغان حکام کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ، اس کا کابل میں ایک گھر ہے جہاں اس کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ نیٹو فورسز کی کارروائیوں کے دوران خراسانی زخمی ہوا تو اس کا علاج بھارت میں کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسان اللہ احسان نے کہا کہ کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کو بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغان ایجنسی ” این ڈی ایس“ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ جب سرحد کراس کی جاتی تو افغان حکام کو باقاعدہ خبر دی جاتی تھی کہ ہم یہاں سے گزر کر جا رہے ہیں اس لیے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ کالعدم جماعتوں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو ”را“ این ڈی ایس اور افغان حکام سے رابطے میں رہتی ہیں، جب بھی کوئی دہشتگرد سرحد پار کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کمیٹیوں کو اطلاع کرتا ہے جس کے بعد افغان حکام کو انتظامات کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔
احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ کالعدم جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خالد خراسانی افغانستان کے مختلف شہروں میں رہتا ہے۔ وہ کبھی جلال آباد میں ہوتا ہے تو کبھی کابل اور کبھی خوست میں رہتا ہے۔ احرار کے امیر کا ایک گھر افغان دارالحکومت کابل میں بھی ہے۔

کالعدم جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 2015 میں جب جماعت الاحرار کا قیام عمل میں آیا تو اس کے پانچ سے چھ ماہ بعد نیٹو فورسز نے افغانستان میں ایک کارروائی کی جس کے نتیجے میں عمر خالد خراسانی زخمی ہوگیا، جس کے بعد وہ افغان پاسپورٹ پر بھارت گیا اور علاج کرایا، اب دہشتگرد خراسانی مکمل صحتیابی کی زندگی گزار رہا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *