اب چادریں بھی مذہبی شخصیات سے منسوب !

111

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کا ایک ہسپتال رنگ بدل رہا ہے!

ملک کے نئے سیاسی منظر نامے میں رنگ تو بہت لوگ بدل رہے ہیں، کسی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس وقت کانگریسیوں کی اکثریت ہے اور کانگریس میں ممکنہ ’بھاجپائیوں (جیسا کہ ہندی میں بی جے پی والوں کو کہا جاتا ہے) کی‘

دلی کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد یہ سلسلہ اور تیز ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کے وفاقی وزیر نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ لوگ پارٹیوں میں آتے جاتے رہتے ہیں، جب عام آدمی پارٹی قائم کی گئی تھی تو اس کے رہنما آسمان سے نہیں اترے تھے، وہ دوسری پارٹیوں سے ہی آئے تھے۔

نتن گڈکری کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ وہ روڈ ٹرانسپورٹ، قومی شاہراہوں اور جہازرانی کے وزیر جو ہیں۔ لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانا ہی ان کا کام ہے!

عام آدمی پارٹی

ایک اور رہنما جن کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، وہ ہیں ہندو قوم پرست جماعت شو سینا کے لیڈر اودھو ٹھاکرے۔ مسٹر ٹھاکرے کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو صدر جمہوریہ بنا دیا جائے اور اگر آر ایس ایس سے وابستہ رہنماؤں کو گورنر بنایا جاسکتا ہے تو موہن بھاگوت صدر کیوں نہیں بن سکتے؟

بات میں دم تو ہے لیکن موہن بھاگوت صدر کیوں بننا چاہیں گے؟

وہ بننا چاہیں تو انھیں کون روک سکتا ہے لیکن دلی آنے میں ان کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ ہاں اگر آجائیں تو بی جے پی کے رہنماؤں کو صلاح مشورے کے لیے ان سے ملنے ناگپور نہیں جانا پڑے گا۔ وہ فی الحال تو انکار کر رہے ہیں لیکن ارادہ بدلنے میں کہاں دیر لگتی ہے۔

ایک پارٹی جس کو بدلنے کی ضرورت ہے، وہ ہے عام آدمی پارٹی۔ کس نے سوچا تھا کہ صرف دو سال پہلے دلی کے اسمبلی انتخابات میں بی جے کا صفایا کرنے کے بعد دلی کے بلدیاتی انتخابات میں خود اس کا صفایا ہو جائے گا۔ پارٹی نے صرف ایک سال میں دلی کو صاف کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ووٹروں تک اس کا پیغام پہنچنے میں شاید کچھ کنفیوژن ہو گئی!

ارے، ہسپتال کی بات تو بیچ میں ہی رہ گئی، لیکن اس کا تعلق بھی صفائی سے ہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں صفائی کی مہم شروع کی تھی اور اس مہم کے تحت سرکاری ہسپتالوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ہر روز مریضوں کے بستروں کی چادریں بدلیں۔

ہسپتالایک دن سبز رنگ تو ایک دن سفید اور ایک دن نارنجی

اتر پردیش کے میرٹھ شہر کے سرکاری پیارے لال شرما ہسپتال نے اس کے لیے ایک دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہندو مذہب میں منگل کو ہنومان یا بجرنگ بلی سے منسوب کیا جاتا ہے، بجرنگ بلی کا رنگ نارنجی ہے اس لیے ہسپتال میں اب منگل کو نارنجی چادریں بچھائی جایا کریں گی۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے آج اس کی ایک تصویر بھی شائع کی ہے۔

جمعرات کا دن عقیدت مند سائیں بابا سے منسوب کرتے ہیں، ان کا رنگ پیلا ہے اس لیے جمرات کو پیلی چادریں بچھائی جایا کریں گی۔ پیر کو شیوا کا رنگ سفید اور سنیچر کو شنی کا رنگ نیلا اور بدھ کے دن بودھ سے منسوب کیے جانے والے ہرے رنگ کی چادریں۔ جمعہ اور اتوار کو بظاہر کسی مذہبی شخصیت یا بھگوان سے منسوب نہیں کیا جاتا، اگر آپ کو کچھ علم ہو تو ہسپتال سے براہ راست ضرور رابطہ کیجیے گا۔

وزیراعظم کی مہم میں تو صرف الگ الگ رنگوں کی چادریں استعمال کرنے کی بات کہی گئی تھی، انھیں مذہبی شخصیات سے مسنوب کرنے کا آئڈیا ہسپتال کا اپنا ہے۔ لیکن سوچ جو بھی کارفرما ہو، مریضوں کی زندگی میں کچھ رنگ ضرور آجائے گا! :۔

بشکریہ : بی بی سی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *