وہ کراہت آمیز عادت جس کو سائنس نے صحتمند قرار دے دیا!

Image result for ‫ناک میں انگلیاں ڈالنا‬‎

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ناک میں انگلی ڈالنا کوئی اچھی عادت نہیں جو کہ نہ صرف گندی بلکہ یہ اس اعضاءکے اندر موجود نازک جلد کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تاہم اب طبی سائنس کا کہنا ہے کہ یہ قابل کراہت عادت صحت کے لیے فائدہ ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ہاورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک قدرتی چیز ہے۔ تحقیق کے مطابق ناک ایک فلٹر کی طرح کام کرتی ہے جہاں مختلف اقسام کے بیکٹریا جمع ہوجاتے ہیں اور ان کا مکسچر انتڑیوں میں پہنچنے کے بعد دوا کی طرح کام کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ناک میں ایسے 'اچھے' بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو دانتوں کو نقصان پہنچانے والے بیکٹریا کی روک تھام کرتا ہے۔ تحقیق میں تو یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ناک اندر موجود مواد سانس کے انفیکشن، معدے کے السر اور ایچ آئی وی سے بھی تحفظ دے سکتا ہے۔

اب محققین اس مواد پر مبنی ایک ٹوتھ پیسٹ بنانے کا کام کررہے ہیں تاکہ دانتوں کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے۔ محققین کا کہنا تھا کہ قدرت نے ہمارے جسم میں متعدد مختلف چیزیں رکھی ہیں جو کہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق طبی جریدے امریکن سوسائٹی فار مائیکرو بائیولوجی میں شائع ہوئی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *