صادق اور امین

munir ahmed munir
پانامہ کیس کا فیصلہ_ سپریم کورٹ نے تین رکنی اکثریتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے وزیراعظم اور ان کے دونوں بیٹوں کے خلاف الزامات کی مزید تحقیقات کے لیے جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ پانچ رکنی لارجر بینچ کے دو ججوں مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور مسٹر جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میںلکھا ہے:''وزیراعظم نواز شریف صادق اور امین نہیں، نااہل ہو چکے ہیں‘‘۔آئینی لحاظ سے لفظ صادق اور امین کی گونج جنرل محمد ضیاء الحق کے ''اسلامی‘‘ دور میں شروع ہوئی۔ لیکن خود جنرل ضیا سمیت صادق و امین نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے حکمران صادق و امین ہی رہے۔شروع سے نہیں، ایک عرصے سے حکمرانوں کی مالی بے ضابطگیوں کے قصے عام ہیں۔ بیگم عابدہ حسین جب نون لیگی تھیں تو انہوں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی بڑھتی اور پھیلتی ہوئی دولت پر تبصرہ کیا تھا، کیا بے نظیر کی زمینیں سونا اگلتی ہیں۔ جس پر سوال اٹھا، کیا میاں محمد نواز شریف کی فونڈریوں میں سونے کا سریا ڈھلتا ہے،خیر،حکمرانوں کی بدعنوانی کے قصے اس قدر عام ہونا ہماری سیاسی بدقسمتی اور تہذیبی تنزل ہے ، اس لیے بھی کہ ہمارا آغاز انتہائی صاف ستھرا تھا۔ حسن اصفہانی ''قائداعظم جناح، جیسا میں انہیں جانتا ہوں‘‘ ۔ ایڈیشن 1994ء۔ صفحہ نمبر 145پر لکھتے ہیں:''جب کبھی ان کی دیانتداری کی تعریف کی جاتی تھی، مسٹر جناح یہ دو ٹوک جواب دیا کرتے تھے کہ جو لوگ میری تعریف کرتے ہیں مجھے اس سے خوشی نہیں ہوتی۔ نہ میں اسے باعثِ فخر سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ بات فطری ہے کہ انسان اپنے معاملات میں کھرا اور بے عیب ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں تو وہ مصنوعی ہے‘‘۔گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناحؒکے چیف سیکورٹی آفیسر ایف ڈی ہنسوٹیا کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ ''.....گورنر جنرل ہاؤس کی جو موٹرز تھیں ان کو استعمال نہیں کرنے دیتے تھے کسی کو ذاتی کام کے لیے .....جب ہم باہر جاتے تھے بھولے جی اکثر کر کے، یا نواب صاحب بہاولپور کے بنگلے پر جا کے رہتے تھے.....ان کے ریسٹ ہاؤس میں، ملیر۔ تو ان کو ڈاک، سبزی، راشن اور اخبارات.....ان کا آرڈر تھا کہ یہ چیزیں لانے کے لیے ایک بار ہی موٹرجائے گی، دوسری بار نہیں جائے گی۔ اس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔ اگر دوسری بار موٹر گئی تو سوال پوچھتے تھے کیوں گئی موٹر.....وہ قوم کا ایک پیسہ بھی فضول خرچ نہ کرتے تھے‘‘۔ (دی گریٹ لیڈر۔ اردو۔ جلد اول۔ ص:278) ۔
'' ایک روز ان کی پھوپھی آئیں۔ کہنے لگیں:''جب محمد علی بچہ تھا تو میرے ہاتھ سے کباب بنوا کے بڑے شوق سے کھاتا تھا۔ میں اس کے لیے کچھ کباب بنا کے لائی ہوں.....سیخ کباب‘‘۔گورنر جنرل قائداعظمؒ اپنی پھوپھی سے نہیں ملے۔ اگلے روز ہنسوٹیا کو انہوں نے اس کی وجہ بتائی:''میں مانتا ہوں کہ وہ میری رشتے دار ہیں۔ لیکن میں کسی کو نزدیک اس وجہ سے نہیں آنے دیتا ہوں کہ وہ اس کا کوئی فائدہ نہ اٹھا لیں، ناجائز فائدہ۔ ہم کو بار بار بولتے تھے:''آپ یہ نہیں سمجھیں کیونکہ آپ میرے سیکورٹی آفیسر ہیں۔ میں آپ کو کوئی فائدہ دے سکوں گا‘‘۔(ص:-81 280)۔
جنرل گل حسن ان کے ایک ابتدائی اے ڈی سی تھے، کیپٹن گل حسن۔ وہ بتاتے ہیں:''گورنر جنرل ہاؤس کراچی میں جب قائداعظمؒقیام پذیر ہوئے تو گورنر جنرل ہاؤس کا کوئی پردہ، کوئی فرنیچر، کوئی قالین، غرضیکہ کوئی بھی چیز تبدیل نہیں کی.....خواہ مخواہ پیسہ کیوں ضائع کیا جائے..... جب کوئی پارٹی ہوتی تو صرف ایک دو مشروب رکھے جاتے۔ مہمانوں کی تواضع ضرور کی جاتی لیکن اس انداز سے کہ قومی پیسہ ضائع نہ ہو‘‘۔(ص:93)۔
گورنر جنرل قائداعظمؒکے آخری اے ڈی سی کیپٹن این اے حسین کہتے ہیں:''مہینے کے آخر میں ملٹری سیکرٹری سارے اکاؤنٹس ان کی خدمت میں لے جاتا جنہیں وہ خود پڑتال کرتے۔ وہ قومی پیسے کو ایک مقدس امانت سمجھتے اور اسے ایک امین کی احتیاط سے خرچ کرتے۔ خود انہوں نے جو چیز خریدنا ہوتی اس کے لیے چٹ جاری کرتے.....خواہ انہوں نے کریون اے (سگریٹ) کاٹن ہی کیوں نہ خریدنا ہوتا، جس کی قیمت ڈیڑھ دوروپے تھی۔ وہ مکمل جوابدہی کی خاطر ایسا کرتے۔ یہ چیز دراصل ٹیکس دہندگان کے روپے کے استعمال پر ملکی جوابدہی کا احساس پیدا کرتی ہے‘‘۔(ص:144-45)۔ ان کا کھانا ''انتہائی سادہ ہوتا جس میں زیادہ سے زیادہ تین ڈشیں ہوتیں۔ مثلاً:گوشت و سبزی پر مشتمل ایک مین ڈش، سوپ اور ایک سویٹ ڈش ہوتی‘‘۔(ص:146)۔گورنر جنرل قائداعظمؒجب باہر جاتے ملیر یا بھولے جی یا کہیں بھی۔کوئی کروفر نہیں۔ نہ کوئی موٹر سائیکل سوار آگے نہ پیچھے۔ نہ عملے کی بھرمار، نہ ہٹو بچو سرکار کا منظر۔ پچھلی سیٹ پر ان کے ساتھ ان کی بہن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ ہوتیں۔ ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ایک اے ڈی سی۔ بس۔ ''قائداعظم جناح‘‘ میں حسن اصفہانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ گورنر جنرل ہاؤس میں ''ان کا یہ معمول تھا کہ غیرضروری روشنیوں کو گل کر دیتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے کہ:''روپیہ کو ضائع کرنا ایک گناہ ہے۔ اور اگر وہ عوام کا روپیہ ہو تو اور بھی بڑا گناہ ہے‘‘۔ (ص:171)۔ قائداعظمؒکے رفقا بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نواب افتخار حسین ممدوٹ نے وزیراعظم لیاقت علی خاںؒ کے بیٹے نوابزادہ ولایت علی خاں کو کچھ الاٹمنٹ کر دیں کہ یہ ان کا حق تھا۔ پھر بھی لیاقت علی خاںؒ کو پتا چلا تو لاہور پہنچے۔ جب تک وہ الاٹمنٹ کینسل نہ کرا دیں واپس نہیں گئے۔
بریگیڈیئر(ر)گلزار احمد راوی ہیں:''میں گرلز گائیڈ کے سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس گیا۔ بیگم رعنا سے تنظیمی امور پر گفتگو ہوئی۔ اور اتنے میں چائے آگئی۔ خاتونِ اول نے کہا کہ راشن بندی کے باعث وزیراعظم ہاؤس کو تھوڑی مقدار میں جو چینی ملتی ہے وہ آج بالکل ختم ہو گئی ہے، اس لیے ہم دونوں پھیکی چائے پئیں گے‘‘۔جب وزیراعظم لیاقت علی خاںؒ کی جرابیں پنجوںا ور ایڑی سے گھس جاتیں تو خاتون اول بیگم رعنا انہیں خود مرمت کر کے پہننے کے قابل بناتیں۔ جب انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا تو اچکن کے نیچے جو معمولی پائلین کی قمیض وہ پہنے ہوئے تھے اسے پیوند لگے ہوئے تھے۔ اور بنیان پھٹی ہوئی تھی۔ آج اس پھٹی ہوئی بنیان کے طفیل ہم سب کی بنیانیں سلامت ہیں۔ اتنا بڑا نواب، ذاتی گھر لیا نہ بنایا۔
وزیراعظم چودھری محمد علی نے 56ء کا آئین بنایا۔ بیمار پڑ گئے۔ صدر سکندر مرزا نے سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنا چاہا۔ انکار کردیا کہ میں قومی خزانے کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ نہیں کر سکتا۔سردار عبدالرب نشتر پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیر اور پھر گورنر پنجاب رہے۔ بیمار ہوئے تو علاج کے لیے پشاور میں اپنا جدی گھر بیچنے کا سوچ رہے تھے، کہ اس اثنا میں انتقال کر گئے۔چودھری ظفراللہ خاں قیامِ پاکستان سے قبل بھی کئی اہم عہدوں پر رہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور عالمی عدالت انصاف کے جج وغیرہ۔ مالی حالت یہ رہی کہ مجھے سید امجد علی نے بتایا کہ اُن سے جس نے بھی ادھار لیا لوٹایا نہیں ماسوا چودہری ظفراللہ خان کے۔ وہ ادائیگی کر دیتے تھے لیکن قسطوں میں۔ملک غلام محمد گورنر جنرل، سکندر مرزا گورنر جنرل اور پھر صدر پاکستان رہے۔ ان کے سیاسی اقدامات پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے لیکن مالی طور پر وہ ایسے نہ تھے۔غلام محمد کا بیٹا بینک میں جونیئر افسر تھا۔ بینک منیجر نے اس کے ذریعے گورنر جنرل کو تحفہ بھیجا۔ جواب میں موچی گیٹ کی زبان میں سخت ڈانٹ ملی۔ سکندر مرزا صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد لندن میںمشقت سے روٹی کماتے رہے۔ قطار میں کھڑے ہو کر بس میں سوار ہوتے۔سبزی خریدنے خود جاتے۔ غیرت کا یہ عالم!بیمار ہوئے۔ علاج کے لیے شاہ ایران کی پیش کش ٹھکرا دی۔ کیا کیا لکھوں؟ کالم پہلے ہی طویل ہو چکا ہے۔ قائداعظمؒسے کسی نے کہا:''آپ بڑے دیانتدار ہیں‘‘۔ قائداعظمؒنے جواب دیا:''یہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں۔ یہ تو ہر شریف آدمی کا بنیادی وصف ہے۔البتہ یہ چیز قابلِ داد ہو سکتی ہے کہ میں کسی کو خریدتا نہیں‘‘۔
جب ہمارے حکمران اور سیاستدان ان اوصاف سے تہی دامن ہو گئے تو خریدوفروخت کے چھانگا مانگا پُررونق ہو گئے۔ آصف علی زرداری صادق اور امین نہ ہونے پر وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ جواب میں وزیر داخلہ چودہری نثار علی خاں کہتے ہیں:''آصف علی زرداری دیانت داری پر لیکچر دیتے ہیں یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *