مرد زکام

saeed khan
یوں تو زکام کی اذیت سے وقتاً فوقتاً سبھی انسانوں اور حیوانوں کو گزرنا ہوتا ہے لیکن انسانوں کیلئے زکام کی بیماری ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ظالم مرض دیکھتے ہی دیکھتے  انسان کے سب سے اہم اثاثے یعنی اسکی فکر کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔ نزلہ، بخار، آنکھوں سے پانی، چھینکیں اور کھانسی غرض ہر وہ کیفیت غالب آتی ہے جس سے انسان کی عزتِ نفس مجروح ہو سکتی ہے۔ ویسے تو ادویات کی کمپنیاں سوائن فلُو اور برڈ فلُو سے بھی خلقِ خدا کو کیا کیا نہیں ڈراتیں لیکن اس دردناک بیماری کی سب سے قدیم اور مہلک قسم مین فلُو یعنی ’مرد زکام‘ ہے۔   مرد زکام کے جوبھیانک اثرات مرد ذات پر ظاہر ہوتے ہیں، الاماں۔
ہمارے والدِ محترم آہنی اعصاب کے مالک تھے لیکن ہم نے انہیں مرد زکام کی وجہ سے بستر میں پڑے وہ دہائیاں دیتے سنا ہے کہ گاؤں کی چیف بَین ماسٹر مائی مختاراں بھی سنتی تو ایمان لے آتی۔  والدِ گرامی  کا خیال تھا کہ خواتین کو صرف ہلکا زکام لاحق ہوتا ہے۔ اگر انہیں ہلکا زکام ہوتا تو وہ دوستوں کے ساتھ چائے تاش اور والی بال وغیرہ سب باآسانی کرتے پھرتے۔
مردوں میں کہا جاتا ہے کہ مرد زکام  کی تکلیف دردِ زہ سے  کہیں زیادہ ہے ۔ یقین نہ آئے تہ ہمارے دوست میاں آصف سے پوچھ لیں۔ میاں صاحب گزشتہ چند ہفتوں سے مرد زکام  میں مبتلا ہیں۔
ہوا یوں کہ موسم کی خنکی کو بھانپ کر بھابھی صاحبہ نے میاں صاحب کو احتیاطً  فلُو ویکسین کا ٹیکہ لگوا دیا۔ چند دن بعد میاں صاحب کسی اور سلسلے میں کلینک  گئے تو خُوبرو نرس نے فرطِ مسیحائی میں انہیں فلُو کا ٹیکہ لگانے کی پیشکش کی۔ میاں صاحب حسین نرس کا  اشتیاق و استفسار دیکھ کرانکار نہ کر سکے اور دوسرا ٹیکہ لگوا بیٹھے ۔ پھر کیا تھا دوسرے انکی حالت غیر ہوگئی۔ نزلہ، بخار کھانسی اور چھینکیں ہی چھینکیں۔ گھر میں ایک نیم کہرام سا برپا ہوگیا۔ مرد زکام کی شدت نے اپنا اثر یوں دکھایا کہ میاں صاحب پرایک وحشت اور بیزاری طاری ہو گئی۔ حوصلے ٹوٹ گئے، آسمان لڑکھڑانے لگا اور وہ دور سمندری طوفان میں کھوئی ہوئی بے یارو مددگار کشتی کی طرح ہچکولے کھانے لگے۔  بھابھی صاحبہ نے بیگم ذات کی لاج رکھتے ہوئے انکی آہ وزاری کا زیادہ نوٹس نہیں لیا۔
 ایک ماہرِ نفسیات کے مطابق زکام کے دوران بیشتر حضرات اپنی والدہ کی محبت یعنی مامتا کو تلاش کرتے ہیں۔  ایسے میں اگر انکی بیوی خاطر خواہ توجہ نہ دے تو انکی علالت میں نفسیاتی مسائل بھی  نمودار ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ میاں صاحب کے ساتھ بھی شائد کچھ ایسا ہی حادثہ ہوا جو انکا زکام بگڑ گیا۔
انکی چھینکوں کے بارے میں ہمارے دوست خواجہ صاحب کا کہنا ہے کہ میاں صاحب حالتِ حال میں آٹومیٹک رائفل کے پانچھ مسلسل فائر داغتے ہیں اور آس پاس بیٹھے بدنصیب اپناچہرہ، دامن، گھٹنے اور پاوٗں بچاتے رہ جاتے ہیں۔
جب فیصل آباد میں میاں صاحب کی باجی کو انکی علالت کا علم ہوا تو وہ فوراً صدقہ دینے مقامی شاہ جی کے مزار پر گئیں۔ پھر میاں صاحب کو فون کر کے شاہ جی کا پیغام دیا کہ ہو نہ ہو یہ کسی نے جادو ٹونا کیا ہے۔ میرا ویر، شاہ جی کہتے ہیں کہ جب چھینکیں آئیں تو صحن  میں اپنے پسندیدہ پودے کے سامنے کھڑے ہو کر چھینکو تو جادو کا اثر اور زکام جاتا رہیگا۔ میاں صاحب اپنی باجی اور انکے شاہ جی کی بات کیسے ٹال سکتے تھے سو فوراً صحن میں لگے گلاب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ سہ پہر سے شام تک وقفے وقفے سے دھاڑم دھاڑ چھینکتے اور کھانستے رہے۔ صحن کی ٹھنڈ میں انکا زکام توکیا  ٹھیک ہونا تھا لیکن دوسری صبح انکی مشقِ ستم کی تاب نہ لاتے ہوا بیچارہ گلاب کا پودا جان سے گیا۔
جب ایک دن میاں صاحب کی چھینکوں کا تسلسل ناقابلِ برداشت ہو گیا تو بھابھی صاحبہ آخری حربے کے طور پر میاں صاحب کے سامنے اچانک اپنی والدہ محترمہ کی تصویر لے آئیں۔ پھر کیا تھا ساس صاحبہ کی تصویر دیکھ کر چھینک کھانسی تو دور کی بات کچھ دیر کیلئے میاں صاحب کی سانس بھی رُک گئی۔ لیکن بھابھی صاحبہ جانتی ہیں کہ میاں صاحب دل کے مریض ہیں اور انہیں اس نوعیت کا صدمہ بار بار دیا گیا تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔
میاں صاحب کے مطابق مرد زکام سے جلد افاقہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مردِ بیمار کا باقاعدہ خیال رکھا جائے، بار بار ہمدردی کا اظہار اور تواتر سے چائے پیش کی جائے۔ اب یہ کوئی ایسی مشکل درخواست تو ہے نہیں لیکن اکثر سفاک خواتین مردوں کی اس دردناک کیفیت کو بچگانہ واویلا سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔
ایک تخمینے کے مطابق مردوں کی بیشتر ناگاہ اموات غفلتِ مرد زکام سے واقع ہوتی ہیں۔ یہ تعداد ان اموات سے کہیں زیادہ ہے جو گھر کی صفائی، برتن دھونے، گھاس کاٹنے، کرکٹ نہ دیکھ سکنے، دوستوں سے دوری اور سسرال کی مہمانداری سے واقع ہوتی ہیں۔
آخری خبریں آنے تک میاں صاحب کا زکام تو کسی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا لیکن انکی ذہنی کیفینت ابھی تک مشکوک ہے کہ آدھی رات کو اٹھ اٹھ کر پانی مانگتے ہیں اور امّاں پاک کی دہائیاں دیتے چلے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *