جیسے خدا ہمارا ہے ہی نہیں۔۔۔

شہزاد نیامت

shehzad niamat

برگر کو دیکھتے ہی میرے منہ میں پانی بھر آیا ،بنانے والے کی مہارت اور نفاست کا عجب عالم تھا، اس کے بارے میں سنی ہوئی تمام باتیں سچ ثابت ہو رہی تھیں۔بلکہ سچ سے بھی کچھ بڑھ کر،اتنی پر اعتماد اور زندگی سے بھرپورمسکراہٹ ہر آنیوالے کا دل موہ لیتی تھی۔کچھ تو خاص تھا جو ہر کوئی اس کی طرف کھنچا چلا آتا تھا۔اور آج میں بھی اپنے ایک دوست کے ساتھ اس شخص کا برگر کھانے اور اسے ملنے کیلئے اپنی ساری مصروفیات کو پس پشت ڈال کر آج اس کی شاپ پر بیٹھا تھا۔
عبدالرحمن نام ہے حوصلے کا ،ہمت کا،کبھی نہ ختم ہونیوالے یقین کا اور سب سے بڑھ کر خودداری کی جیتی جاگتی مثال کا،عجیب بات ہے کہ ہم اگر کسی ایک مقصد یا کام میں ناکام ہو جائیں تو ساری عمر اپنی اس محرومی کا رونا روتے گزار دیتے ہیں۔مایوسی اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ کی مستقل مہمان بن جاتی ہے اور کسی بھی کام کوکرنے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔کہ یہ کام ہمارے بس کا نہیں۔لیکن ایسے لوگ بھی ہیں۔جنہوں نے اپنی معذوریوں کو اپنی محرومیوں میں بدل کر اللہ سے شکوہ شکایت کرتے ہوئے زندگی بربادنہیں کی۔معذوری کا بہانہ بناکردوسروں پر بوجھ بننے کی بجائے دوسروں کا بوجھ اٹھانا پسند کرتے ہیں۔زندگی مسائل تو سبھی کو دیتی ہے بلکہ کچھ کو تو دیتی ہے ہی مسائل ہے۔لیکن وہ ہمت اور حوصلہ سے زندگی کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔وہ محدود وسائل اور انتھک محنت کے ساتھ ایسا کچھ کر جاتے ہیں کہ دنیا ان کی ہمت اور حوصلہ کی مثالیں دیتی پھرتی ہے۔
عبدالرحمن صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک جہان آباد ہے اس میںیہ سن نہیں سکتا،بول نہیں سکتا۔اور آنکھوں کی روشنی بھی ہر آنیوالے دن کے ساتھ کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔لیکن اس کی پر اعتماد اور زندگی سے بھر پور مسکراہٹ مایوس اور ناامید دلوں کیلئے روشنی ہے۔1983میں پودوں سے شروع ہونیوالی محبت اب عشق میں بدل چکی ہے۔34سال گزرنے کے باوجود جنون ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
’’ پودے اللہ کی رحمت ہوتے ہیں‘‘ اس بات پہ ایمان رکھتے ہوئے دنیا جہان کے پودے اپنے گھر میں جمع کر لیے اور یہی نہیں بلکہ ہر پودے کو موسمی اثرات سے سے محفوظ رکھنے کیلئے مکمل انتظام کر رکھا ہے۔بات صرف پودوں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ جناب نے دنیا جہاں کے سکے،کرنسی نوٹ اور ڈاک والی ٹکٹیں بھی جمع کر رکھی ہیں۔حیر ت ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی،اور ڈائریاں مختلف ڈیزائن اور سال کی لاتعداد جمع کر رکھی ہیں۔کسی زمانے میں شعرو شاعری کا شوق تھا تو کچھ دیر کی بھی لیکن آنکھوں کی روشنی کم ہونے کی وجہ سے لکھنا چھوڑدیا۔ڈائریاں بدستور جمع کرتے رہے ،ڈرائنگ میں استادوں کے استاد ہیں۔
یہ سب سنتے ہوئے میں نے ایک گھونٹ پانی پیا اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا’’ اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہونا‘‘الفاظ کی کیا اہمیت ہے کوئی اس سے پوچھے جس کے پاس سننے کو کان نہیں اور بولنے کو زبان نہیں ،لیکن اس کے باوجود زبان پہ شکوے کا ایک لفظ نہیں اور ہم لوگ ۔۔۔۔۔۔ اک ذرا سی ناکامی پر ایسے مایوس ہو جاتے ہیں جیسے ہمارا خدا ہی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *