آنکھیں بند ہو چکی تھیں

عثمان غنی 

Usman Ghani

ناول پڑھنا میرا کبھی شوق نہیں رہا جب کبھی پڑھنا شروع کیا جلد ہی جی اکتا جاتا ہے ، بانو آپا کے ’’راجا گدھ ‘‘سے لے کر ہاشم ندیم کے ’’خدا اور محبت ‘‘نامی ایسے شہرہ آفاق ناولوں کا اختتام ’’اسکی آنکھیں بند ہو چکی تھیں ‘‘ پر ہوتا ہے جس کردار کی ’’صفات ‘‘ کو بیان کرتے ہوئے زمین وآسمان کے تمام قلابیں ملا دئیے جاتے ہیں۔ اس خوب دھما چوکڑی میں رچے بسے خوبصورت مگر نصیب کے مارے ہوئے کردار کا انجام اسکے آنکھیں بند ہو جانے پر کچھ افسردہ سا کر دیتا ہے ۔ جس خوش نصیب کے ’’گھر‘‘ کو بسانے میں چار پانچ سو صفحات پر خوب رونق لگائی جاتی ہے ۔ بالآخر ناول نگار اسکی آنکھیں بند کروا کر ہی ناول کا اختتام کرتا ہے ۔ اچبنے کی بات یہ بھی ہے کہ اتنا ’’حسن سلوک ‘‘اس بے چارے کردار کے ساتھ حقیقت میں نہیں ہوا ہوتا جتنا ناول نگار اس عشق کی Intensityکو بے حساب Feelکر کے بیان کر ڈالتا ہے ۔ ’کردار کا لفظ میں جان بوجھ کر لکھ رہا ہو ں کہیں کسی کی دل آزاری نہ ہو جائے ‘یہ ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ آبگینوں کو ٹھیس بہت جلد جا پہنچتی ہے اس ساری صورتحال کے پیش نظر کمزور دل حضرات اگر کسی ایسے ناول کو پڑھنے سے پہلے اپنے معالج کی Adviceلے لیں تو وہ یقیناًاس کوپڑھنے سے احتراز برتنے پر مجبور ہو جائیں اب ایک نئے ناول کو پڑھنا شروع کیا ہے وہ ہے قرآۃ العین حیدر کا لکھا گیا ’’آگ کا دریا‘‘ سوانح عمریوں کے مطالعے کا شوق ، سول ملٹری ، تعلقات کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش ، مسئلہ کشمیر اور اسکے حل میں پنہاں سربستہ راز ، حالات حاضرہ وغیرہ کی وجہ سے ناول کی ضخیم کتب شیلف میں ہی پڑی رہ جاتی ہیں ، آگ کا دریا کے کردار ’گوتم ‘کی کہانی میں تفصیل میں جائے بغیر ایک اور ناول عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے وہ ہے Mario Puzoکا شہرہ آفاق ناول The God Fatherجس کی بیرونی جلد پر ساتھ ہی ’’دی کلاسیک بیسٹ سیلر‘‘ بھی لکھا گیا ہے ، نیویارک میں پیدا ہونے والے اس ناول نگار نے ایک مافیا خاندان کے جرم ، دولت ، طاقت اور ناجائز ذرائع خاص کر منشیات سے کمائی گئی ناجائز دولت کو ’’قانونی‘‘ بنانے کی داستان بڑی صاف گوئی سے بیان کی ہے ۔ پاناما کیس کے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے The God Fatherکے اس جملے کا انتخاب کیا ہے جو ناول کی ابتداء سے پہلے ایک صحفے پر تنہاء موجود ہے ۔ Behind every great fortune, there is a crimeجس کا آسان ترین ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ ’’دولت کا ہر غیر معمولی ذخیرہ ہمیشہ کسی جرم کی پیداوار ہوتا ہے ‘‘ اس ناول کو کچھ عرصہ پہلے ہی پڑھ لیا تھا کہ سندرہے اور بوقت ضرورت کام آئے ، ناول کی ابتداء نیویارک کے کریمنل کورٹ نمبر تین سے ہوتی ہے جہاں ناول کا ایک کردار Bonaseraانصاف کا متلاشی نظر آتا ہے وجہ اس کی مگر یہ تھی کہ اسکی بیٹی کو ظالمانہ طور پر Hurtکیا گیا تھا مگر وہ دونوں ملزم اپنے ’’کلین ‘‘ریکارڈ ایک ہونے کی وجہ سے جج کی طرف سے ہونے والی متوقع سزا سے بچ نکلے تھے ۔ مزید ستم یہ کہ وہ چہل قدمی کرتے ہوئے خراماں خراماں بونا سرا کے پاس سے گزر گئے ۔ بوناسراکی بیٹی ابھی تک جبڑا ٹوٹنے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھی اور وہ Animalsآزاد ہو چکے تھے ۔ Mario Puzoلکھتا ہے کہ بونا سرا کے پاس اب انصاف کا ایک ہی راستہ بچا تھا وہ تھا ناول کے لافانی اور سب سے دلچسپ کردار Don Corleoneسے رابطہ کرنا ، چاہے اسے گھٹنوں کے بل ہی ڈان تک کیوں نہ پہنچنا پڑے اور اس نے یہی کچھ کیا ۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی ناول میں پیپلزپارٹی جو حاصل کردہ سیٹوں کے لحاظ سے دوسری اور کل ووٹوں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے نے ’’انصاف‘‘ کے لئے عدالت سے رجوع نہیں کیا تھا ۔ مگر عدالت کی طرف سے فیصلہ آجانے کے بعد زیادہ شور بھی اسی جماعت کی طرف سے سامنے آرہا ہے جسے ردعمل بھی کہا جاسکتا ہے ۔ تاثر مگر یہ دینا ہے کہ مفاہمتی پالیسی ، مافی بعید کا حصہ تھی ۔ اب یہ سب کچھ ختم ہو چکا ،زرداری صاحب بیگانہ کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ انکا ارادہ مگر لاہور اور پنجاب کو فتح کرنے کے بعد مرکز میں حکومت بنا کر خود PMبننے کا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں بھٹو کی جماعت امیدوار ڈھونڈنے میں بھی بہت حد تک ناکام رہی ۔ امیدوار تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے کیلئے چنداں تیار نہ تھے ۔ ترجیح ان کی تھی آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا جو بہت سے جیتنے والوں کا درست فیصلہ ثابت ہوا ۔ اس کیس پر عدالت کی نظر عمران خان ، شیخ رشید اور سراج الحق نے کرائی تھی ۔ بقول شیخ رشید کہ اتنا باقاعدگی سے وہ سکول کالج نہیں گئے جتنی باقاعدگی انہیں اس کیس میں دکھانی پڑی ، 24/7چینلز پر خوب رونق رہی ، ریٹنگ کے چکر میں ہمارا میڈیا بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کو سزائے موت دینے کے معاملے کو بھی مناسب Coverageنہ دے سکا اور کشمیر میں ہونے والے مظالم بھی میڈیا کی زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے ۔ اب سات دنوں میں JITبنے گی اور ساٹھ دنوں میں فیصلہ سنایا جائیگا گویا رمضان المبارک اور عید کے بعد بھی خوب رونق جاری رہے گی ۔ پانچ ججوں میں سے دو نے وزیراعظم کو مجرم اور تین نے تفتیش مکمل ہونے تک ملزم قرار دے دیا ہے ۔ فیصلے سے پورا ایک دن پہلے لیگی کارکنوں نے اپنے قائدین کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر پوسٹر اور بینرز آویزاں کر دئیے تھے ۔ جن پر لکھا یہ گیا تھا ’’قائد تیرا ایک اشارہ ، حاضر ہے لہو ہمارا‘‘ فیصلہ سنائے جانے کے بعد خوب جشن منایا گیا اور اسے ’’فتح المبین‘‘ قرار دیا گیا ۔ اس کا امکان بہرحال کم نظر آرہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی والی گھر بھیجنے کی تاریخ دہرائی جائے گی ، مشترکہ دونوں پر یہ الزام کے قوم کے چرائے گئے پیسہ کوو اپس پاکستان لایاجائے ۔ گیلانی صاحب نے اصل ’’جیالا‘‘ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سوئس بینکوں کو خط لکھنے سے مسلسل انکار کیے رکھا تھا جس کی بناء پر انہیں مستعفی ہونا پڑا تھا لاہور ہائیکورٹ نے بھی دو ججوں کی سٹیٹ منٹ کو اپنی توجہ کامرکز بنا لیا ہے کہ وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے ، اس لیے سات دنوں میں مستعفی ہو جائیں ، دوسری طرف عمران خان نے کرپشن کیخلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے ۔ اب فیصلہ JITنے ساٹھ دنوں میں کرنا ہے ۔ پہلے جو ہونا تھا ہو چکا ،مریم صاحبہ کو کلین چٹ مل چکی ہے اور ساٹھ دنوں کا دورانیہ حکومت کو بجٹ پیش کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا ، فی الحال آپ اس جملے ’’آنکھیں بند ہو چکی تھیں‘‘ میں چھپی کئی حقیقتوں کو سمجھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *