مشعال خان قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی میں خفیہ ادارے بھی شامل !

11

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ مشال خان قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی ازسرنو تشکیل کر دی گئی ہے۔

یہ بات خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں اس معاملے پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران بتائی۔

یاد رہے کہ مشال خان کو 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا اور دیگر افراد پر مشتمل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگانے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس مقدمے کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔

ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی از سر نو تشکیل کی گئی ہے اور اب اس میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے علاوہ ایف آئی اے اور سپیشل برانچ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالب علم مشال خان کو گولیاں مارنے والے ملزم کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے۔

مشال خانملزم عامر کو ویڈیو میں مشال خان کی لاش کی بے حرمتی کرتے اور شدید ضربیں لگاتے دیکھا جا سکتا ہے

رپورٹ کے مطابق پولیس نے اب تک اس معاملے میں 36 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں مقدمے میں نامزد ملزمان کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جبکہ ان میں سے چار ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

تین رکنی بینچ نے شواہد لاہور میں فارنزک لیب بجھوانے کا حکم دیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کو مبینہ توہین مذہب کے الزام پر تشدد کر کے قتل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے 36 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی:۔

بشکریہ : بی بی سی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *