زندگی بچانے والی دوا جسے دنیا بھول گئی تھی !

12

محققین کا کہنا ہے کہ ایک سستی دوا کی مدد سے بچے کی پیدائش کے وقت خواتین میں جریانِ خون روک کر اموات کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ہر سال زچگی کے دوران زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ایک لاکھ خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔

طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والے ایک مطالعے سے یہ سامنے آیا کہ ’ٹرانزیمک ایسڈ‘ tranexamic acid کے استعمال سے یہ شرح ایک تہائی تک کم کی جا سکتی ہے۔

جریانِ خون دورانِ حمل یا زچگی کے فوراً بعد ہلاکت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی نوشین نے بتایا کہ ’ڈاکٹروں نے مجھے خون کی 41 بوتلیں لگائیں‘۔

نوشین بیٹی کی پیدائش کے بعد لگ بھگ مرنے والی تھیں۔ بالآخر ایک آپریشن کے بعد ان کا رحم نکال دیے جانے کے بعد ان کی جان بچائی گئی۔

انھوں نے بی بی سی کے صحت سے متعلق ایک پروگرام کو بتایا ’ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ انھیں میری جان بچانے کے لیے میری بچہ دانی نکالنی ہو گی۔‘

’میری صحت تباہ ہو گئی ہے۔ میں اس کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘

’ٹرانزیمک ایسڈ‘ شاید نوشین کے لیے مدد گار ہوتی۔

یہ دوا خون کے خلیوں کو ٹوٹنے سے روکتی ہے۔ یہ دوا سنہ 1960 کی دہائی میں جاپان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی شوسوکی اور اوتاکو اوکاموتو نے ایجاد کی۔

لیکن وہ اس دوا کے تجربات کے لیے مقامی ڈاکٹرز کو قائل نہیں کر سکے۔

اوتاکو

تاہم یہی فارمولا دوا ساز کمپنی نے اخذ کرکے زیادہ حیض آنے کی شکایت کے لیے ایک دوا تیار کی۔

بعد ازاں لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن نے ایشیا اور افریقہ کے 193 ہسپتالوں کی مدد سے ایک مطالعہ کیا۔

پروفیسر اوکاتو اوکاموتو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

اس مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ زچگی کے ابتدائی تین گھنٹوں میں ’ٹرانزیمک ایسڈ‘ کی مدد سے شرح اموات 20 فیصد تک آ گئی جو اس سے پہلے 31 فیصد تھی۔

تحقیق میں شامل پروفیسر ایئن رابرٹ نے بی بی سی کو بتایا ’ہمیں ایک اہم نتیجہ ملا ہے۔‘

’ہمیں پتا چلا کہ یہ سستی سی دوا کی ایک خوراک سے خون بہنے سے ہونے والے ہلاکت کے امکان کو کم کیا جا سکتا ہے اور یہ دوا دنیا بھر میں دورانِ زچگی شرح اموات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ وہ جریانِ خون کے علاج سے متعلق اپنی سفارشات کو دوبارہ جاری کرے گا۔

اوتاکو نے تحقیقاتی ٹیم سے تجربات کے آغاز میں کہا تھا کہ ’یہ اچھی ہوگی، یہ پراثر ہوگی، میں تحقیق کے بغیر ہی کہتی ہوں، میں جانتی ہوں یہ پر اثر ہوگی۔‘

ان کے شوہر پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں:۔

بشکریہ : بی بی سی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *