ونود کھنہ ۔ ۔ ۔ جہاں رہو، خوش رہو

hussain-javed-afroz

27 اپریل کی صبح خبروں پر نظر دوڑاتے ہوئے اچانک ایک خبر پر نظریں جم گئیں ۔بالی ووڈ کے مشہور ایکشن ہیرو ونود کھنہ ممبئی کے ریلانئس فاؤنڈیشن ہسپتال میں کینسر کے خلاف لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے ۔ان کی عمر 70 برس تھی ۔ان کے بیٹے راہول کھنہ کے مطابق اپریل کے اوائل میں جسم میں پانی کی شدید کمی کے سبب ان کو ہسپتال داخل کرایا گیا ۔ درمیان میں کہیں کہیں ان کی حالت میں بہتری بھی محسوس کی گئی لیکن کینسر نے ونود کھنہ کو ہم سب سے دور کر دیا ۔ونود کھنہ چھ اکتوبر 1946 کو پشاور میں پیدا ہوئے ۔تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارتی پنجاب میں منتقل ہوگیا ۔ اپنی ابتدائی تعلیم انہوں نے دلی اور ممبئی سے حاصل کی۔ ان کا خاندان ٹیکسٹائیل کے کاروبار سے منسلک تھا ۔ونود کو شروع سے ہی زندگی میں چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے والد نے ان کو دو سال کا وقت دیا کہ وہ خود کو ایک کامیاب اداکار ثابت کر کے دکھائے ۔وگرنہ دوسری صورت میں ان کو خاندانی کاروبار سنبھالنا ہوگا۔دراصل ونود کو شروع سے ہی اداکاری کا شوق تھا اور اس سلسلے میں ان کے استادوں نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی ۔بعد میں وقت نے ثابت کیا کہ ونود کھنہ بطور اداکار اپنی گہری چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے ۔شروع سے ہی پرکشش اور جسمانی طور پر پرکشش شخصیت کے مالک ونود کھنہ نے 1969 میں فلم من کا میت سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا ۔اس فلم میں ان کو سنیل دت نے متعارف کرایا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے بطور ولن اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔میرا گاؤں میرا دیش کا ظالم ولن ہو یا سچا جھوٹا کا ہیٹ پہنے اور سگار سلگاتا ہوا سٹائلش ولن ،ونود نے اپنے موجودگی کا احساس راجیش کھنہ جیسے عظیم سپر سٹار کے سامنے منفی کرداروں میں کامیابی سے جگایا ۔ فلم مستانہ،آن ملو سجنا اور اعلان میں بھی بطور ولن ونود کھنہ کا سفر جاری رہا ۔

Image result for vinod khannaپھر گلزار کی فلم ’’میرے اپنے‘‘ آئی جس کے بعد کے بعد اب ونود کھنہ کو ایک ہیرو کے طور پر فلم انڈسٹری نے قبول کرنا شروع کردیا ۔اسی عرصے میں اپنی کالج کی ساتھ گیتا نجلی سے ونود کھنہ نے شادی کر لی ۔اپنے آنی والی فلموں اچانک،ہم تم اور وہ اور ہاتھ کی صفائی میں ونود کھنہ اب فلمی صنعت کے جانے مانے ہیرو کے طور پر سامنے آ چکے تھے۔ ان کی بہترین ڈائیلاگ ڈیلوری ،ہندی اور اردو پر کامل عبور نے بطور ایکشن اور رومانوی ہیرو کے ان کو فلم بینوں کی پہلی پسند بنا دیا ۔ جبکہ فلم ہاتھ کی صفائی کیلئے ان کو بہترین معاون اداکار کا فلم فےئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔یہ وہ دور تھا جب ونود کھنہ پر فلموں کی برسات شروع ہوگئی ہر کوئی ان کو اپنی فلم کا حصہ بنانا چاہتا تھا ۔ایسے میں 1977 ان کے فلمی کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ۔اور اسی سال فلم امر اکبر انتھونی، پرورش نے ونود کو آن کی آن اینگری ینگ مین امتیابھ بچن کے سامنے لا کھڑا کردیا ۔یاد رہے یہ ستر کی دہائی کا دور تھا جب ملٹی سٹار کاسٹ کا ر جحان فلم انڈسٹری میں کامیابی کی ضمانت بن چکا تھا ۔ اور ونود کھنہ اس ٹرینڈ میں انگوٹھی کے نگینے کی طرح فٹ نظر آتے تھے ۔انہوں نے تقریباٰ 47 ملٹی سٹار کاسٹ فلموں میں بطور ہیرو اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ایک جانب امتیابھ بچن کے لئے وہ مسلسل خطرہ بنے رہے تو دوسری جانب امتیابھ کے ساتھ ہی ان کی جوڑی عوام میں خاصی پسند کی جارہی تھی ۔ان فلموں میں امر اکبر انتھونی،ضمیر ،ریشماں تے شیرا،پرورش ،ہیرا پھیری ،اور خون پسینہ شامل ہیں۔ فلم برننگ ٹرین میں بھی ان کے کام کو سراہاگیا۔اسی طرح 1978 میں فلم ’’مقدر کا سکند‘‘ر میں بھی امتیابھ اور ونود کھنہ کی لازوال اداکاری نے کامیابیوں کے نئے جھنڈے گاڑے۔ 1980 میں فیروز خان جو کہ ونود کھنہ کے دیرینہ دوست بھی تھے انہوں نے فلم قربانی کیلئے امتیابھ بچن کو کاسٹ کرنے کی ٹھانی لیکن امتیابھ بچن اس فلم کے لئے ووقت نکال نہیں پائے ۔یوں فیروز نے ونود کھنہ کو لیڈ رول میں کاسٹ کیا۔قربانی ،نازیہ حسن کے دھوم مچاتے گانوں ،ونود کھنہ اور فیروز خان کے ایکشن بھرے سیکونس کے ساتھ انتہائی کامیاب فلم ثابت ہوئی۔اس فلم کے بعد ونود کھنہ نے ایک عالم کو حیران کردیا جب انہوں نے کیرئیر کر عروج پر فلمی دنیا کو خیر آباد کہا اور اپنے روحانی گرو ’’اوشو‘‘ کی شاگردی اختیار کی اور امریکہ چلے گئے۔

Image result for vinod khanna

ونود کا فلمی کیرےئر ،خاندان سبھی اس فیصلے سے شدید متاثر ہوئے۔ونود کھنہ امریکہ میں اوشو کے آشرم میں بطور مالی بھی کام کرتے رہے ۔پانچ سال بعد 1987 میں ونود فلمی دنیا میں واپس آ چکے تھے۔لیکن ان کے سٹار ڈم کو پہنچنے والا نقصان کم نہیں ہوسکا۔تاہم پھر بھی 1987تا1994 وہ فلم انڈسٹری کے مہنگے اداکار مانے جاتے تھے۔اپنی دوسری اننگ میں ونود کی قابل ذکر فلموں میں چاندنی،جرم،مہادیو،سوریا ،فرشتے،رہائی،لیکن، شامل ہیں. لیکن فیروز خان کی فلم ’’دیاوان‘‘ بلاشبہ ونودکے کیریر کی بہترین پرفارمنس رہی۔۔ونود نے پہلی شادی کی ناکامی کے بعد 1990 میں کویتا نامی خاتون سے شادی کی جن سے ان کے دو بچے ہوئے۔ونود کھنہ کے بیٹوں اکشے کھنہ اور راہول کھنہ نے بھی فلموں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے ۔تاہم وہ باپ جیسی شہرت حاصل نہیں کرسکے۔بڑھتی عمر کے ساتھ ونود نے اولڈ کریکٹرز بھی ادا کرنے شروع کئے جن میں دبنگ،دل والے،رسک،wanted جیسی فلمیں شامل ہیں۔1999 میں ان کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈسے نوازا گیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 1991 میں وہ عمران خان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ مہم کے سلسلے میں لاہور بھی آئے اور اپنا کردار ادا کیا۔فلموں میں کامیابی کے ساتھ ونود کھنہ نے بھارتی جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں رکھا اور گورداس پور سے چار بار ممبر پارلیمنٹ چنے گئے۔ ونود اکثر کہا کرتے کہ آج کل ہیروز کو باڈی بنانے کا جنون ہے ہم نے بھی اپنے دور میں جسم پر بہت محنت کی لیکن شرٹ اتار کر شہرت بٹورنے کی کوشش نہیں کی۔اپنے طویل فلمی کیریئر میں ان کا اداکارہ امرتا سنگھ سے خاصا گہرا افےئر رہا ۔ونود کھنہ اب ہم میں نہیں رہے لیکن بطور ایک وجیہ ،باصلاحیت اداکار کے ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *