ٹیوشن مافیا اور آلے والا خط

Muhammad Umair

دنیا میں سب سے مہنگی چیز نئی سوچ نیا آئیڈیا ہے۔کوئی بھی نیا کام ،نیا کاروبار ایک سوچ کا مرہون منت ہوتا ہے ۔آئیڈیا کے بعد لوگوں کو اس سوچ مجتمع کرنا ہوتا ہے کہ یہ سوچ یہ آئیڈیا یہ خیال ہی بہترین ہے اسکا متبادل نہیں ہوسکتا۔اس کے بعد ایک بھیٹر چال شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اس آئیڈیا کو اپنی ضرورت مان لیتے ہیں اس کے بغیر زندگی محال ہوتی ہے۔فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس گزشتہ چند سالوں میں ہماری ضرورت بن گئی ہیں اس کے بغیر زندگی محال نظر آتی ہے اور کسی فرد کا فیس بک پر اکاونٹ نہ ہونا اب اچنبے کی بات ہے۔فیس بک بھی ایک سوچ تھی ،یہ نیا خیال ایک طالب علم مارک زرگ برک کے ذہن میں آیا اور آج ساری دنیا اس فیس بک کی دیوانی ہے۔

فیس بک کی طرح طالب علموں کو ٹیوشن پڑھانا بھی ایک سوچ ہی تھی۔پرائیوٹ سکولز نے آہستہ آہستہ اس سوچ کو معاشرے میں پھیلایا اور اب ٹیوشن ہمارے بچوں کی ضرورت بن گئی ہے،ٹیوشن کے بغیر کامیابی کا تصور ہی ناممکن ہے۔مگر آج سے 20سال قبل ٹیوشن کا تصور تک نہ تھا۔پھر ٹیوشن کی سوچ پیدا ہوئی تو یہ صرف ان طالب علموں تک محدود تھی جن کو پڑھائی لکھائی میں کمزور سمجھا جاتا تھا۔بہت پرانی بات نہیں میں نے 2003میں میٹرک پاس کیا تب تک نہ میںنے نہ ہی میرے کسی کلاس فیلو نے ٹیوشن پڑھی،شام کا وقت صرف کھیل کے لئے مختص ہوتا تھا۔محلے میں گراونڈ تو نہیں تھا مگر جہاں کوئی پلاٹ خالی ہوا،فصل کٹی کرکٹ،فٹ بال یا بیڈمنٹن کا سلسلہ شروع ہوجاتاتھا۔اب کھیل کی جگہ ٹیوشن نے لے لی ہے،اور کھیل کے نام پر بچے موبائل فون یا لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے نظر آتے ہیں۔ایک مشہور مقولہ تھا جو اب بہت ہی کم سننے کو ملتا ہے کہ جس قوم کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں اس کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔چھوٹی عمر میں بیماریوں ،قوت مدافعت میں کمی ،کمزور حافظہ کی ایک وجہ کھیل کود میں حصہ نہ لینا بھی ہے۔

بات ہورہی تھی ٹیوشن پڑھنے اور پڑھانے کی۔سکولز میں بچہ 5سے 6گھنٹے پڑھتا ہے اور ٹیوشن 2گھنٹے تو وہ کونسی طاقت کی گولی ہے جو صرف ٹیوشن کے وقت ہی دی جاسکتی سکول کے اوقات میں نہیں؟سکول سے گھر،گھر میں ہوم ورک،پھر ٹیوشن،پھر موبائل یا لیپ ٹاپ اور پھر رات ہوجاتی ہے آج کل کے بچے کو کھیل کود اور خودکچھ سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا،سکول ہو یا ٹیوشن ہم بچوں کو رٹا مشین بنارہے ہیں مگر اسے سمجھا کچھ نہیں رہے۔کتابی سوال کا جواب تو بچے فوری دے دیتے مگر اس سوال کو نئے طریقے سے پوچھا لیا جائے تو جواب ملتا کہ سر ہم نے یہ ابھی نہیں پڑھا۔

علم ایک دولت ہے یہ فقرہ طالب علموں کے لئے تھا مگر اب یہ دولت صرف پرائیوٹ سکولز اور ٹیوشن مافیا کما رہا۔بچے کی تربیت والدین او ر استاتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔بچہ والدین کے پاس اب کم وقت گزارتا ہے اور استاد کو اب تربیت سے زیادہ پیسے سے غرض ہے۔سب کھیل پیسے کا ہے۔مگر اپنے محترم استاتذہ کو سلام ہے جو آج بھی روایتوں کے آمین ہے۔سرسید ماڈل سکول آج بھی اس سکول میں جتنے زیادہ نمبر اتنی کم فیس ،ٹیوشن کی بجائے OKاینڈ Againسسٹم نافذ ہے۔ اس سسٹم کے تحت جس بچے کو سبق یاد نہیں اسکو ٹیچر بغیر کسی فیس کے زیادہ ٹائم دیکر پڑھاتا ہے۔آج بھی سکول پرنسپل اختر باجوہ صاحب گزررہے ہوں تو طلباءادب سے رک جاتے ہیں۔گردن جھکا کربات کرتے ہیں۔اٹھویں میں وظیفے کا امتحان ہوتا تھا تواختر صاحب نے ریاضی پڑھانے کی شرط پیسے نہیں بلکہ یہ رکھی تھی کہ وعدہ کرو سب 100نمبر لوگے اور پھر سب کے سو نمبر آئے بھی۔

معذرت کے ساتھ آج کل ہمارے سکول بچوں کو رٹے والی مشینیں بنارہے ہیں۔بچے ان کے لئے پیسہ کمانے کی مشین ہیں۔ٹیوشن نہ پڑھنے والے بچے کو ذہین سمجھنے کی بجائے غریب سمجھا جاتا ہے کہ شاید اسکے والد کے پاس ٹیوشن پڑھانے کے پیسے نہیں۔سکول کے بہتر ہونے کا معیار پاس ہونے والی طلباءکی تعداد نہیں بلکہ اس سکول کی فیس ہے جس اکیڈمی یا سکول کی فیس جتنی زیادہ ہے اس کو اتنا ہی بہتر سمجھا جاتا۔پھر انہی پیسوں سے ایک آدھ بچے کی پوزیش آتی اور پورے شہرمیں ڈھونڈرا پیٹا جاتا کہ سکول کا اعزاز ضلع میں پہلی پوزیشن یہ کوئی نہیں پوچھتا باقی طلباءکا کیابنا؟ ان کی کتنے فیصد نمبر آئے؟صرف نمبر ہی آئے یا بچے کو کچھ آتا جاتابھی ہے؟بیس سال قبل صرف ایف ایس سی میں ٹیوشن پڑھنے کا رحجان تھا اس سے بیس سال قبل ایف ایس سی میں بھی ٹیوشن نہیں ہوتی تھی۔مجھے یا آپ کو پڑھانے والے بغیر ٹیوشن کے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔بچوں کو رٹے والی مشینیں نہ بنائیں ان کو سوچ سمجھ کر پڑھنے دیں ان کو سوال کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ اچھا سوال آدھا علم ہے۔بچوں کو اردو کی پہلی کتاب کے ساتھ ساتھ اردو کی آخری کتاب بھی پڑھنی آنی چاہیے ورنہ آپ کے بچے اور اس ان پڑھ میں کیا فرق ہے جس کے گھر والوں نے ڈھنڈورا پیٹا کہ ہمارے بچے کو خط پڑھنا آتا ہے اور جب گاوں والے خط لیکر آئے تو بچے نے کہا مجھے تو وہ آلے(دیوار میں کیا گیا سوراخ)والا خط ہی پڑھنا آتاہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *