کالعدم مدرسوں کا دوبارہ کام شروع کرنے کا انکشاف !

16

لاہور۔ پنجاب حکومت کی طرف سے پراسرار سرگرمیوں میں ملوث 47 مدرسوں کو کالعدم قرار دیدیا گیا تھا۔ ان مدرسوں کی انتظامیہ کی طرف سے کالعدم قرار دیے گئے مدرسوں کو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ کام شروع کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سپیشل برانچ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مختلف کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، تحریک طالبان، بیت اﷲ محسود گروپ، امجد فاروقی گروپ، مسعود اظہر گروپ ، حرکت جہاد اسلامی اور طالبان کو پنجاب میں قائم مدرسوں سے چندہ، فنڈ اور جانوروں کی کھالیں وغیرہ پہنچائی جاتی تھیں۔ ایسے مدرسوں میں کالعدم تنظیموں کے سرگرم کارکنوں اور سہولت کاروں کو بھی پناہ دی جاتی رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم قرار دیے گئے مدرسوں کی نئی انتظامیہ نے دوسرے ناموں سے مدرسے قائم کرنے شروع کر دیے ہیں۔ فیصل آباد میں 2 مدرسے جو کہ مدینہ ٹاؤن میں قائم کئے گئے، جھنگ شہر میں 3، سرگودھا مقام حیات، لاہور فیصل ٹاؤن اور شاہدرہ میں چار مدرسے قائم کئے گئے۔ گوجرانولہ گورونانک پورہ میں ایک مدرسہ بنایا گیا۔ دیگر شہروں میں بھی نئے ناموں سے مدرسے اور ہاسٹل قائم کئے جا چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نئے قائم ہونے والے مدرسوں کے طلبہ کی یونیفارم،کتابیں بھی بیرون ممالک طرز کی کر دی گئی ہیں تا کہ کسی کو شک نہ ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق قائم ہونے والے نئے مدرسوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نئے قائم ہونے والے مدرسوں کے اساتذہ اور عملہ کے مکمل کوائف اکٹھے کرنے کیلئے پولیس کو ٹاسک سونپ دیا ہے تاہم اس سلسلے میں پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی پولیس افسروں کی جانب سے ایسے مشکوک مدرسوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا اور مکمل تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد مشکوک اور مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گئے:۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *