پارلیمنٹ پر حملے کی اطلاعات، حالات شدید کشیدہ ہوگئے!

مقدونیہ

مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپیہ میں البانوی نسل سپیکر کے انتخاب کے بعد مظاہرین نے پارلیمان پر دھاوا بول دیا ہے۔ اس واقعے میں کم از کم دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سوشل ڈیموکریٹ رہنما زوران زئیف شامل ہیں اور ان کے چہرے سے خون ٹپک رہا تھا۔ سابق وزیراعظم نکولا گروسکی کی سیاسی جماعت وی ایم آر او کے حامی ہیں اور وہ نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مقدونیہ کے سیاسی حالات دسمبر میں ہونے والے متنازع انتخابات کے بعد سے بحران کا شکار ہیں۔ اور حالیہ بحران کا سلسلہ دو سال قبل ایک فون ٹیپ سکینڈل سے جا ملتا ہے۔ زوران زئیف نے البانوی نسل سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا تاہم ان کی حکومت بنانے کی کوششوں کا راستہ صدر کی جانب سے روکا گیا ہے۔

اس اتحاد سے قیام سے ہی مقدونیہ کے قوم پرست اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مقدونیہ کی ایک تہائی آبادی البانوی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ افراد جنھوں نے پارلیمان پر دھاوا بولا وہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے تلت شفیری کو سپییکر منتخب کئے جانے پر نالاں تھے۔ ان کو خدشہ ہے کہ البانویوں کو بہتر درجہ دینے سے مقدونبیہ کی یکجہتی کو خطرہ ہے۔

دھاوا بولنے والوں میں 200 کے قریب نقاب پوش مظاہرین شامل تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے فرش پر ٹوٹے ہوئے شیشے اور راہداریوں میں خون کے نشانات دیکھے۔مقدونیہ
اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتظر کرنے کے لیے بے ہوش کرنے والی بندوق سے فائر کیے اور سیاست دانوں کو پالیمان کی عمارت سے نکالا۔ مقدونیہ میں قائم امریکی سفارت خانے نے اس واقعے پر ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ 'ہم شدید ترین الفاظ میں تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔' نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس سٹولن برگ نے بھی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اس 'حملے پر حیرت زدہ ہیں۔'

جبکہ یورپی یونین کے کمشنر جوہانس ہاہن نے ٹویٹ کیا کہ 'پارلیمان میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جمہوریت قائم رہنی چاہیے۔' واضح رہے کہ سکوپیہ میں البانوی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں جبکہ اس سے قبل سنہ 2001 میں البانوی نسل افراد کے احتجاج کے مقدونیہ خانہ جنگی کے قریب پہنچ گیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *