ٹرینڈ سیٹر

adnan-tariq

بیگم نیلو زمانہ قدیم کی طمطمراق رکھنے والی کسی عمارت کی مانند تھیں جو زمانہ بدلنے کے باوجود اسی آن بان سے کھڑی رہتی ہیں جیسے گویا ابھی تعمیر کی گئی ہوں ۔ وہ اب ستر کے پیٹے میں تھیں وہ آج بھی سیاہ رنگ کا ٹیڈی برقعہ پہنتی تھیں جو ان کے زمانے میں اپنی تراش خراش کے بل بوتے پر بڑا ٹرینڈ سیٹنگ ہوگا لیکن آج وہ یہ برقعہ پہن کر شہر کی گلیوں میں نکلتیں تو لوگ انہیں یوں حیرت سے دیکھتے جیسے لاہور میں چلنے والی پرانے دور میں ڈبل ڈیکر بس کو دیکھ رہے ہوں ۔ وہ گھر میں ہوتیں تو ان کا سجا سجایا پاندان ان کے انتہائی آس پاس پڑا ہوا ہوتا اور اگر وہ باہر نکلتیں تو ایک گتھلی ان کے بائیں ہاتھ میں مستقل پکڑی ہوئی ہوتی وہ ایک بے چین روح تھیں جو ہر وقت لہراتی سرسراتی پھرتی رہتیں۔

ان کے اکلوتے صاحبزادے اب بہت اچھے سرکاری عہدے پر فائز تھے اور ان کی ایک بہت پیاری موہنی سی فرمانبردار بہو تھی جو انہیں اپنی ماں سے بھی زیادہ محبت اور عزت دیتی تھی ان کی زندگی میں اگر کوئی کمی تھی تو وہ پہلے جوانی میں ہی میاں کے ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں خدا کے پاس جانے کی صورت میں واقع ہوئی تھی اور اب تین چار سال بیٹے کی شادی کو ہو گئے تھے لیکن خدا نے ابھی انہیں کوئی پوتا یا پوتی عطا نہیں کی تھی۔

بے چین تو وہ تب سے تھیں جب سے وہ ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔ اپنے بیٹے کو تعلیم دلوانے کے علاوہ پتا نہیں کب انہیں جانوروں سے محبت ہونے لگی۔ کئی سالوں سے جب بھی وہ کسی جانور کو مصیبت یا تکلیف میں دیکھتیں تو فوراًاسکی مدد کرنے کو تیار ہو جاتیں۔ گھر میں بھی انہوں نے 5/6 کتے پالے ہوئے تھے اور بلیوں کی تعداد تو گھر کے افراد اور نوکر چاکر بھی نہیں جانتے تھے ۔ وہ صبح سویرے اٹھتیں اپنا ٹیڈی برقعہ پہنتیں پان کی گتھلی بائیں ہاتھ میں پکڑتیں اور قصائی کی دکان پر چل پڑتیں۔ انہیں بڑی جلدی ہوتی کہ مبادا کہیں قصائی چیچھڑے اور بھیبھڑے ضائع نہ کر دے وہ گوشت کے ان ٹکڑوں کو گھر لاتیں۔

باورچی خانے میں انکے پاس اس گوشت کو بھوننے کے لئے دیسی گھی کا علیحدہ ٹین بھرا ہوا پڑا ہوتا ۔ وہ بڑے اہتمام سے ان پالتو جانوروں کے لئے کھانا بناتیں اور پھر خود اپنے ہاتھوں سے ان کتے بلیوں کو پیار سے کھلاتیں۔ اپنے کھانے کی خوشبو سونگھ کر یہ جانور بھاگے بھاگے آتے اور بیگم نیلو کے پاس بیٹھ کر یوں کھاتے جیسے ماں اپنے بچوں کو سکول جانے سے پہلے ناشتہ کرواتی ہے ۔ کئی دفعہ بازار جاتے ہوئے انہیں کوئی خارش زدہ جانور مل جاتا تو وہ اسے اتنی رغبت سے اٹھا لیتیں جیسے اپنے بچے کو۔ انہیں اس کی بیماری سے ذرا بھی گھن نہیں آتی تھی۔ وہ اسے گھر لے آتیں اور اس کی خدمت میں جت جاتیں ۔ ڈاکٹر سے دوائی لیتیں اور اسے ٹھیک ہونے تک اسکی خدمت میں جتی رہتیں۔ کئی دفعہ وہ گھر واپس آتیں تو ان کا برقعہ کیچڑ سے لت پت ہوتا۔ معلوم پڑتا کہ راستے میں کوئی کتے کا پلا کسی نالی یا کیچڑ میں پھنسا ہوا چوں چوں کر رہا تھا۔ بیگم صاحبہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ کیچڑ میں دوزانو جھک کر پلے کو اٹھا لیا اور اسے سینے سے لگا کر خراماں خراماں گھر تشریف لے آئیں۔

آہستہ آہستہ رشتے دار انہیں پاگل سمجھنے لگے تھے ۔ وہ ہمارے گھر بھی آئیں اور ابھی صحیح طور پر کہیں بیٹھ بھی نہیں پائیں تھیں کہ شائد انکی چھٹی حس نے انہیں کسی مظلوم جانور کی نشاندہی کی وگرنہ ہم سب وہیں بیٹھے تھے ہمیں تو کسی پلے کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ وہ لہراتی سرسراتی ہوئی اٹھیں اور باہر نالی میں پھنسے ایک پلے کو اندر لے آئیں ۔ اسے پیار کرتی جیسے کوئی مشفق ماں ہو سیدھا غلسخانے میں لے گئیں ۔ اسے نہلایا ۔ شیمپو کیا ۔ دودھ پلایا ۔ دھوپ میں سکھایا اور پھر کہیں آکر ہمارے درمیان بیٹھیں ۔ اس پورے واقعے میں انہوں نے دنیا کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ انہیں یکسر اندازہ نہیں تھا کہ انکے کپڑے خراب ہوگئے ہیں یا کوئی انہیں پاگل سمجھ رہا ہے۔

ہمارے گھر سے وہ گئیں تو دو تین دن بعد ہی خبر آ گئی کہ ایک پلے کو بچانے کی کوشش میں جو سڑک کے بیچوں بیچ ادھر ادھر بھاگ رہا تھا ۔ خود ایک کار سے ٹکرائیں ۔ کمزور سی تھیں  زندگی کا بھرم رکھے ہوئے تھیں۔ فوراً اللہ کو پیاری ہو گئیں ان کے جنازے پر انکی میت کے قریب انکے کتے اور بلیاں یتیموں کی طرح حیران بیٹھے تھے کہ انکی ماں اٹھ کر انہیں کچھ کھانے کو کیوں نہیں دیتی ادھر بیگم نیلو کی روح جسد خاکی سے آزاد ہو کر جنت میں سرسراتی پھر رہی تھی۔

تو ناگہانی اموات کا شکار ہونے والے شہیدوں کی ارواح اسے ملنے آئیں ان کے پاس کئی کہانیاں تھیں۔ وہ خوش تھیں کہ ناگہانی اموات کے باعث ہی سہی لیکن وہ جنت میں تو ہیں نا۔ یہ ملاتی ہونے والی سب سے پہلی ارواح تھیں کیونکہ ان میں بیگم نیلو کے میاں کی روح بھی تھی۔ ان کے کئی دوست ایسے تھے جنہیں دنیا میں غلطی سے لوگوں نے سنگسار کرکے مار دیا تھا ۔ کئی قتل ہو کر آتے تھے ۔ کئی ٹھوکریں کھا کر اور کئی بھوکے مر  کر آئے تھے ۔ وہ شکر کر رہے تھے کہ کہیں انہیں زندگی میں بیگم نیلو جیسے کردار سے واسطہ نہیں پڑا۔ ورنہ ہو سکتا ہے وہ بیگم نیلو جو کسی کتے کے پلے کے زخمی ہونے پر تڑپتی تھی کسی انسان کو لوگوں کے ہاتھوں مرتے دیکھ کر خود مر جاتی اسے مرنے ہی نہ دیتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *