ضمیر مر جائے تو کھیل ختم ہوجاتا ہے

roqya ghazal

سپریم کورٹ آف پاکستان سے پاناما لیکس سے متعلق درمیانی فیصلہ آچکا ہے مذکورہ فیصلہ میں وزیراعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے بادی النظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم اور ان کے بیٹوں پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے مگر سزا اور جزا پر تحفظات ہیں کیونکہ مزید وافر ثبوت درکار ہیں کہنے والے تو کہہ گئے کہ ’’شہر کا شہر لٹ گیا اور قاضی کو گواہ چاہیے ‘‘درحقیقت پاناما کا قصہ ختم ہو کر ناموں اور نامہ کی حد تک ہی رہ چکا ہے تاہم اس گورکھ دھندہ قسم کے فیصلے کو سوشل میڈیا،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر جس قدر پھیلایا جا رہا ہے اس سے یقیناًاعلی عدلیہ بھی واقف ہوگی تاہم مسلم لیگ ن کے سربراہان پرعزم دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے ہمیشہ کی طرح عوام بڑے سے بڑا سانحہ بھلا دیتے ہیں تو اسے بھی بھو ل ہی جائیں گے کیونکہ عام آدمی کی دلچسپی اس وقت تک ہے جبتک کوئی نیا مسئلہ سر نہیں اٹھا لیتا اسی بے حسی کا ماتم شاید جناب افتخار عارف نے کیا ہے
کسی کے جورو ستم یاد بھی نہیں کرتا
عجیب شہر ہے فریاد بھی نہیں کرتا
سوال تو یہ ہے کہ فریاد کس سے اور کس امید پر کی جائے گی کہ ایک سال کی وکالت اوراعلیٰ عدلیہ کی انتھک محنت کے ساتھ تحقیقات کے بعد بھی مزید تفتیش کے عندیہ نے ایک عام آدمی کو الجھا دیاہے کیونکہ جو فیصلہ عدالت عظمیٰ نہ کر سکی اسے ماتحت ادارے کیسے کریں گے ایسے ادارے جو جناب وزیراعظم کے زیرِتسلط ہیں ۔ ایسے میں کون کس کی تفتیش کرے گا باالفرض اگر کوئی بولتا بھی ہے تو طاقت ، اختیار اور اکثریت غالب رہے گی جیسا کہ کراچی کے پانچ طلبا کو ’’گو نواز گو ‘‘ کے نعرے لگانے پر گرفتار اور زدوکوب کیا گیا جیسے یونیورسٹی سربراہوں کے خلاف آواز اٹھانے پر الزام لگا کر مشال خان کو سپر خاک کیا گیا ہم سب کے سامنے ہے ۔اورآپ کو کیا لگتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم ،عزیر بلوچ ،شرجیل میمن کی طرح میاں صاحب کا ٹرائل کیا جائے گا؟ جناب اعتزاز احسن نے تو واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ جج صاحبان نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ فیصلہ صدیوں یاد رکھا جائے گا یہ فیصلہ مولوی تمیزالدین کیس کی طرح بڑے عرصہ تک یاد رکھا جائے گا شریف خاندان کے لیے سپریم کورٹ نے ہمیشہ نرم گوشہ رکھا ہے لندن جائیدادوں کی مبینہ مرکزی کردار مریم نواز کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ اب بھی میاں صاحب اپنی مدت تقریباً پوری کریں گے تو حتمی فیصلہ آسکے گا ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف شریف خاندان ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی خاندانوں کے لیے عدلیہ کا رویہ ہمیشہ نرم ہی رہاہے اوراب سیاست اسی کا نام ہے مجھے سیاست پر ہمیشہ وہ بچہ یاد آجا تا ہے جس نے اپنے والد سے پوچھا کہ ابو یہ سیاست کسے کہتے ہیں ؟ باپ : دیکھو بیٹا تمہاری ماں گھر چلاتی ہے اسے حکومت مان لو ۔میں کماتا ہوں مجھے وزیر مان لو ۔کام والی کام کرتی ہے اسے مزدور مان لو ۔تم اپنے آپ کو ملک کی عوام مان لو اور اپنے چھوٹے بھائی کو ملک کا مستقبل جان لو ۔بیٹا: ابو مجھے سیاست سمجھ میں آگئی ہے ۔کل رات میں نے دیکھا کہ وزیر مزدور کے ساتھ کچن میں گلے مل رہا تھا،حکومت سو رہی تھی ،عوام کی کسی کو فکر نہیں تھی اور ملک کا مستقبل رو رہا تھا ۔ایسے ہی عوامی مسائل کی کسی کو بھی فکر نہیں ہے تو ملک کے مستقبل کی فکر کسے ہوگی؟
مقام حیرت تو یہ ہے کہ پانچ جج صاحبان میں سے ایک نے بھی نہیں کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین ہیں بلکہ دو نے واضح کہا کہ وزیراعظم کو نا اہل کر دیا جائے اور تین نے کہا کہ مزید تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنا دی جائے اور جے آئی ٹی تو سنگین مجرمان کے لیے بنائی جاتی ہے تو ایسے میں مٹھائیاں کھانے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے اور میڈیا پر لمبی لمبی تقاریر ، جوشیلے بیانات اور بھنگڑے سب کچھ مضحکہ خیز ہے ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ انگلش میں ہونے کیوجہ سے ہر کسی کو سمجھ نہیں آرہا ؟کیا سارا میڈیا کند ہے ؟ کیا تبصرہ نگار ،مبصر اور تجزیہ نگار سبھی ناسمجھ ہیں ؟ کیوں حکمران جماعت کو سمجھ نہیں آرہا کہ قطری خط مسترد ہو چکا ہے اور پاکستان کے منتخب وزیراعظم پر چارج شیٹ لگ چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ سے کلین چٹ نہیں ملی یعنی جناب وزیراعظم ابھی بری نہیں ہوئے بلکہ اعلیٰ عدلیہ نے انھیں جے آئی ٹی کے سامنے بچوں سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے جو کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی وزیراعظم پر ایسی چارج شیٹ لگی ہو جتنی بھی امثال موجو د ہیں ان میں صدور اور و زرائے اعظم کرپشن کے الزامات میں بطور ملزم نامزد ہوتے ہی مستعفی ہوگئے تھے وہ جانتے تھے کہ اخلاقی جواز ختم ہوگیا ہے مگر یہاں تو کوئے ملامت سے سر اٹھا کر گزرنے کی روایت ہے یہی وجہ ہے حکمران جماعت کے جارحانہ عزائم اور انداز تخاطب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے دوسری طرف تمام سیاسی جماعتوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ جناب وزیراعظم کو گھر بیج کر ہی دم لیں گے اور شریف خاندان اور ان کے رفقا کارکا کہنا ہے کہ ایسا ناممکن ہے اور کسی کی اتنی مجال نہیں ہے کہ میاں صاحب سے استعفی لے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسری تمام جماوتیں بھی ہمیشہ سے منافقت سے کام لیتی آرہی ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ !
سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسن
کیا میرے سوا ،اس شہر میں معصوم ہیں سارے
اس پر کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ بقول اقبال ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘‘ ہم پھر بھی پر امید ہیں کیونکہ انجانے میں سبھی یہ الفاظ بول چکے ہیں کہ یہ فیصلہ ہم خدا کی عدالت میں رکھیں گے اور وہاں سے سرخرو ہونگے اس لیے یقیناًوہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا تاہم ایک واقعہ یاد آگیا کہ ایک مر تبہ حضرت امام شافعیؒ خلیفہ کے پہلو میں تشریف فرما تھے کہ ایسے میں ایک مکھی خلیفہ کو پریشان کر رہی تھی ، اس پر خلیفہ نے تنگ آکر کہا : ’’نہ جانے اس مکھی کے پیدا کرنے میں خدائے بزرگ بالا و بر تر کی کیا حکمت تھی ‘‘۔امام شافعیؒ نے جواب دیا : ’’اس میں حکمت یہ ہے کہ طاقتوروں کو ان کی طاقت کی بے بسی دکھائے ‘‘۔تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وقت جب آنکھیں پھیر لیتا ہے تب شیر کو بلا بھی گھیر لیتا ہے ۔
بے شک ہم اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر کسی قسم کی تنقید کا حق نہیں رکھتے مگر اتنا توکہہ سکتے ہیں کہ عدلیہ شواہد اور گواہان کے بیان سن کر فیصلے کرتے ہیں حقیقت کچھ بھی ہو اگر گواہان ہی کمزور اور شواہد وافر موجود نہ ہوں تو کیا کیا جا سکتاہے اور جناب وزیراعظم کے وکلا ء نے ہمیشہ اسی بات پر زور دیا ہے کہ سب الزامات ہیں حالانکہ ان الزامات کی تفتیش مسلسل ایک سال سے ہورہی ہے اور اگر ایک سال سے عدالت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تو آئندہ دو ماہ میں کیا ہو جائے گا ماسوائے یہ کہ حکمران جماعت کو ریلیف اور ایک سپورٹ فورم کا چانس مل گیا ہے اور انتخابات کی تیاریاں زور پکڑ لیں گی اور کرسی کی لڑائی میں سبھی سب کچھ بھول جائیں گے ویسے ایک بات بہت عجیب لگتی ہے جو بار بار حکمران جماعت اور ان کے ہم خیال صحافیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ خان صاحب وزیراعظم بننے کے لیے پاگل ہو چکے ہیں اور خوابوں میں بھی خود کو وزیراعظم دیکھتے ہیں ایک سیاستدان خواب میں وزارت کی کرسی کے خواب نہیں دیکھے گا تو اورکیا دیکھے گا ؟ اہم تو یہ ہے کہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے راستہ کونسا استعمال کیا جاتا ہے بس اسی راستے کے چناؤ میں کوئی ولن ٹھہرتا ہے اوردوسرا ہیرو بنتا ہے ایک دلوں پر راج کرتا ہے اور دوسرا ذلت کے ہار پہنتا ہے اب راج کسی کا بھی ہو جیت اسی کی ہوگی جو دلوں پر راج کرے گا ۔
قارائین کرام ! مجھے کہنے دیجئے کہ ’’کرپشن ‘‘ ایسا ناسور ہے جو اکثریتی طور پر ہمارے رگ و پے میں پھیل چکا ہے اور نیچے سے اوپر تک تقریباً سبھی یہ دام میوہ کھا رہے ہیں ایسے میں کوئی کیسے کسی دوسرے کو اس کی سزا دے سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی بالاتر کو تقریباً کبھی کوئی سزا نہیں ملی جبکہ روز اول سے سنتے آرہے ہیں کہ سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے ،احتساب کا عمل اہم شخصیات کو جیل بجھوا سکتا ہے مگر ابھی تک وہ جیل نہیں بنی جو قومی مجرموں کو قید رکھ سکے ، سیاستدانوں کے لیے جیل یاترا کرنا اعزازی ڈگری لائق خوبی بن چکی ہے ، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر حکومتیں نہیں گرائی جا سکتیں
اب جب کہ خان صاحب پھر سڑکوں پر نکل رہے ہیں مگر یہ طے ہے کہ جب تک مخلص لوگ اور جماعتیں اکٹھے نہیں ہونگے یہ ہنگامے اور دھرنے کرسی کی جنگ ہی کہلائیں گے بریں سبب میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ایسا کون ہے جو عرق ریزی کر کے طا قتور ،منہ زوراور قومی مجرموں کے جرائم کو سامنے لائے اور ایسا کون ہے جو ان کے جرائم کا چشم دید گواہ ہو اگر کوئی گواہی دے بھی دے تو ایسا کون ہے جو بے لاگ ،بے خوف قرار واقعی سزائیں دے اور لوتٰ ہوئی قومی دولت واپس کرے یقیناًایسا کوئی نہیں کرتا مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ جب کسی طاقتور کو اس کے جرم کی سزا نہیں دی جاتی تو وہ سزا پورے سماج پر تقسیم ہوجاتی ہے اورکئی نسلیں اس کا خمیازہ بھگتی ہیں اسی لیے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے امت اسلامیہ سے اپنے پہلے خطبہ خلافت میں فرمایا تھا کہ اے لوگو ! ’’مجھے تمہار حاکم مقرر کیا گیا ہے ، مگر میں تم سے بہتر نہیں ہوں ،میری حثیت تمہارے ایک معمولی فرد سے بڑھ کر نہیں ہے ،اگر تم مجھے صراط مستقیم پر دیکھو تو میری پیروی اور مدد کرو اور اگر نہ دیکھو تو میری اصلاح کرو ۔‘‘یقیناًانسان کو با ضمیر اور خوف خدا رسے بھرے دل کا مالک ہونا چاہیئے یاد رکھیئے کہ اگر شطرنج میں وزیر اور زندگی میں ضمیر اگر مر جائے تو کھیل ختم ہوجاتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *