سلیم صافی کا جرگہ اور جذباتی قوم

hammad ahmed

شاعر نے عقل و دل پر کمنٹس دیتے ہوئے فرمایا

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسباں عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

قوم نے اس کو اتنا سیریس لیا کہ عقل کو دور ہی نکال پھینک دیا اب قوم ہر معاملے میں نازک سے دل سے عقل و دل دونوں کے کام لیتی رہتی ہے۔

بہرحال آمدم برسرمطلب

ہوتا یوں ہے کہ جب کوئی ریاست کسی ایسے دشمن سے لڑتی ہے جو ملک کی گلیوں میں، حجروں میں، سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ہمارے آس پاس ہوتے ہیں تو ان پر صرف بم ہی نہیں برسائے جاتے بلکہ ان کو ہر طرف سے تنہا کیا جاتا ہے
ان کو صرف جنگ کے میدان میں ہی نہیں نظریات کے میدان میں بھی شکست دئے جاتے ہیں ان دشمنوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ ریاست کے خلاف کارروائیوں سے باز آجائیں تو ریاست آپ کو ویسے ہی شہری ماننے پر تیار ہوگی جیسے آپ دشمنی سے پہلے کے شہری تھے

اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اندرونی دشمن ہر طرف سے کمزور ہوجاتا ہے
یاد رہے ایسے تمام دشمن ہمیشہ قیادت کے ہاتھوں اس لئے استعمال ہوتے ہیں کہ دہشتگرد قیادت ان کو یہ سمجھاتی ہے کہ ریاست آپ کی دشمن ہے وہ ہر صورت میں آپ کو ختم کرنا چاہتی ہے اور کسی بھی اندرونی دشمن تنظیم کا عام کارکن یہی بات ذہن نشین کر کے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے۔

ہوا یوں کہ سابق طالبان ترجمان اور جماعت الاحرار کے سینئر لیڈر احسان اللہ احسان نے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا
ان کا پہلا اعترافی بیان آئی ایس پی آر نے جاری کروایا جس میں احسان اللہ نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ وہ ان کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کارروائیوں سے نہ دین کا کوئی تعلق ہے نہ ہی انسانیت کا
لہذا تمام وہ کارکنان جو دہشتگرد تنظیموں کیلئے کام کرتے ہیں وہ یہ کام چھوڑ کر خود کو ریاست کے حوالے کریں

اب اسی کام کو دہشتگردوں کے خلاف مزید اچھے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش جیو اور جرگہ کے سلیم صافی نے کی جو اگر انجام پاتی تو یقینا اس کا بہت بڑا فائدہ ملتا لیکن اچانک اہل دل جذباتی جوشیلے قوم نے آرمی سکول کے بچوں کے تصاویر نکالے، بم دھماکوں کے شہدا کے لواحقین کے انٹرویوز لینے شروع کئے اور پیمرا میں شکایات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا تاکہ ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل کا انٹرویو نشر نہ کیا جا سکے-ہوا تو وہی جو قوم کی خواہش تھی لیکن ہم نے ایک دشمن کے خلاف ایک  بہترین موقع ہاتھ سے جانے دیا بلکہ یوں کہہ دیں کہ ہم نے آئی ایس پی آر کی کوشش ( کہ ان بیانات سے جماعت الاحرار میں اختلافات پیدا ہوں اور اگر ان میں کچھ سوچنے والے ہوں وہ الگ ہوجائیں ) پر پانی ہی پھیر دیا۔

جیو ایک بہت بڑا اور سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل ہے اگر اس کے ذریعے احسان اللہ احسان کا انٹرویو ہوتا اور یہ پیغام دیگر دہشتگردوں تک جاتا کہ ریاست آپ کو موقع فراہم کرتی ہے کہ آپ خود کو حوالے کریں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا ، یہ پیغام جاتا کہ جس کام کو تم لوگ دین کی خدمت سمجھتے ہو اس کا نہ صرف یہ کہ دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ دین دشمن قوتوں کی چالبازیاں ہیں تو عین ممکن تھا کہ کم ازکم دہشتگرد تنظیموں میں موجود احسان اللہ احسان کے فینز تو خود کو حوالے کر ہی دیتےلیکن نہیں قوم کا مطالبہ یہ ہے کہ ابھی اور اسی وقت احسان اللہ احسان کو پھانسی دی جائے وہ بھی اسلام آباد کے ڈی چوک پر اور نیشنل انٹرنیشل میڈیا کو بھی بلائیں تاکہ دنیا دیکھ لے کہ ہم نے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کر کے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کرلی اور تھوڑی بہت ٹھنڈ ہمیں بھی پڑ جائے۔

بھلے قوم کے اس مطالبے سے دہشتگردوں تک یہ پیغام چلا جائے کہ ہم ہر صورت میں آپ کو قتل کریں گے آپ کو جہاں پائیں گے پھانسی لگائیں گے لہذا خود کو ہمارے حوالے کرنے کی غلطی مت کریں کیونکہ ہم نے جنگ کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ہمارے جذباتی قوم کو جو ایک اور بڑا اعتراض ہے وہ یہ کہ احسان اللہ احسان صوفے پر کیوں بیٹھا ہے ، وہ ہنس کیوں رہا ہے ، دانت کیوں نکال رہا ہے
ایسا کیوں نہیں ہے کہ احسان اللہ کو کنویں میں ہو ، وہ رو رہا ہو چیخ رہا ہو کہ فوج نے ان کی مارا ہے ، ایسا کیوں نہیں ہے کہ ہم ان کے نکلے ہوئے دانتوں کی بجائے ٹوٹے ہوئے دانت دیکھتے۔۔بھئی اگر ایسا ہی کرنا تھا تو فوج نے ان کو گرفتار کیوں کروانا تھا سیدھا ادھر ہی مار دیتے ویڈیو بنا کر آپ کو دکھاتے کہ لو جی ایک ختم ہوگیا۔
لیکن اداروں نے اس کو گرفتار کیا اس کے ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کروائے کہ دیگر دہشتگردوں تک یہ پیغام جائے کہ خود کو حوالے کرو گے تو بچ جاو گے ورنہ جنگ کے میدان میں تمہیں موت ہر صورت ملنے والی ہے۔

کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہئے اور اندرونی نے دشمن کے خلاف ہر وہ حربہ استمعال کرنا چاہئے جس سے وہ لوگ کمزور ہوں ، ان میں اختلافات پیدا ہوں، وہ خود کو ریاست کے حوالے کریں جو تھوڑے بہت رہ جائیں گے وہ ریاست سنبھال لے گی۔

بہرحال قوم شعراء کرام سے دور رہیں اس وقت تک جب تک یقین نہ ہو کہ اس کے برے اثرات نہیں لے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *