چوہدری صاحب اور احسان اللہ احسان

kashif butt

بڑے چوہدری صاحب کافی دن سے پریشان تھے کہ گاؤں والوں کی اکثریت ان کا سامنا کرنے سے گریز کرنے لگی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چوہدری صاحب اور ان کی انتظامیہ نے بھرپور کوشش کر لی تھی لیکن گاؤں میں شیدے کی دہشت کم نہ کر پائے تھے۔ شیدے اور اس کے ساتھیوں کی شیطانیت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ ارد گرد کے گاؤں کے چوہدریوں نے بھی شیدے کے ساتھ تعاون شروع کر رکھا تھا سو اب وہ ایسا دردِ سر بن چکا تھا جس سے جان چھڑانا بڑے چوہدری کے لیے آسان نہ رہا تھا۔ گاؤں والے جانتے تھے کہ یہی شیدا کسی زمانے میں چوہدری کا خاص بندہ تھا لیکن وقت بھی کہاں ایک سا رہتا ہے۔ جب سے شیدے کو اپنی اہمیت کا احساس ہوا تھا وہ اپنا چوہدری خود ہی بن گیا تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ خود بڑے چوہدری کی ناک تلے کچھ چھوٹے چوہدری بھی شیدے سے رابطے میں تھے اور ایسا خود بڑے چوہدری کے مفاد میں تھا سو اس معاملے میں بڑا چوہدری خاموش ہی رہا کرتا تھا۔ کافی دن حویلی میں ہنگامہ خیزی رہی۔ گاؤں والوں کے رویے اور ممکنہ نتائج پہ غور کیا گیا۔ گامے نورے کی مدد سے ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی جن کی صحبت سے گاؤں والے ناحلف ہوئے جاتے تھے۔ ایسے لوگوں کا بندوبست کرنے کے لیے حویلی کے تہہ خانے خاصے کارآمد ثابت ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ شیدے کے حلقہ میں نقب زنی کا تھا اور ایسا ہی کیا گیا کیونکہ بڑے چوہدری کو بہر حال اپنی طاقت اور دہشت کو قائم رکھنا تھا۔ خیر یہ قصہ طویل ہے اس پہ پھر کبھی بات ہو گی۔ ذرا تازہ حالات کی جانب نگاہ کرتے ہیں۔
جب سے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی ہے۔ باشعور طبقہ الجھن میں مبتلا ہے کہ آخر اس ویڈیو کے جاری کرنے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ کیا ریاست اس ویڈیو کے تحت عوام کو یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت افغانستان اور دیگر طاقتیں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یا پھر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کی طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حملے ناجائز ہیں اور یہ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے! یا پھر یہ کہ طالبان کی قیادت منظم نہیں رہی یا ان کے بڑوں کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے کیا کیا ہوتا رہا یا ہوتا ہے۔ جاری کردہ ویڈیو بظاہر تو یہی معلومات فراہم کرتی ہے۔ جو کہ طالبان کا ہی ایک سابق ترجمان دے رہا ہے۔ آٹھ نو برس مختلف گروہوں کی ترجمانی کرنے کے بعد اب جبکہ احسان اللہ احسان کا ضمیر جاگا ہے (یا جگایا گیا ہے) تو اس نے راون بننا پسند کیا ہے۔ لیکن ٹھہریے! ذرا سوچیے کہ جو کچھ عوام کو دکھایا گیا اس میں نیا کیا تھا؟؟؟ بظاہر شاید کچھ بھی نہیں کہ یہ سب باتیں تو پہلے ہی زبانِ زدِ عام ہیں۔ بلکہ اتنی عام ہیں کہ اب تو یہ ہمارے ایمان کا جزوِ خاص بن چکی ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ طالبان کا سابق ترجمان اب کسی اور کی ترجمانی پہ مامور ہو گیا ہے۔ ایسا اگر ہو بھی تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ ایسا ہو جایا کرتا ہے۔ اب اگر کہیں کہیں نو سو کا عدد سننے کو مل رہا ہے یا کوئی گھر دامادی کے انعامات بیان کر رہا ہے تو سن لینے میں کیا حرج ہے۔ سو ہم نے بھی ایک کان سے سنا اور دوسرے کان پہ ہاتھ رکھ لیا کہ یہ سب دماغ کی راہ داریوں میں ہی بھٹکتے رہیں۔ باہر کا راستہ نہیں دینا۔ ویسے اگر کوئی تازہ گانا بھی اس ویڈیو کے ساتھ نشر کیا جاتا تو کیا ہے خوب ہوتا۔ ہم ایسوں کے دل کسی اور جانب نکل جاتے اور بآسانی دماغوں میں پنپنے والے سوالات اور خیالات زیر ہو جاتے۔ لیکن ہدایت کار بڑا سیانا ہے اسے علم ہے کہ سرمایے کا استعمال کب اور کہاں کرنا ہے۔ کہاں ’کنڈی کھڑکھانی‘ ہے اور کہاں ’کھڑاک‘ کرنا ہے۔
جس طرح احسان اللہ احسان نے بڑی معصومیت اور ہمدردی کے ساتھ اعتراف کیا ہے کہ طالبان قیادت اسلام کے نام پہ لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کر رہی ہے تو اس سے ظاہر تو یہی ہوتا ہے کہ سب الزام طالبان قیادت پہ دھرکے نچلے جنگجوؤں کو اچھے ایمانی کردار کی سند دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب اگر کوئی اس کے ساتھ یہ بھی سوچتا ہے کہ متبادل قیادت کے لیے بھرتی کا اعلان کیا جا رہا ہے تو ایسا سوچ سکتا ہے کیونکہ طالبانی قیادت کے قول و فعل میں تضاد کو نمایاں طور جگہ دی گئی ہے یعنی وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کے لیے تو قول و فعل کا ایک سا ہونا شرطِ اول ہے۔ یہ الگ بات کہ تاریخ اور کم از کم پاکستانی تاریخ ایسی امثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ویسے بندہ پوچھے کہ یہ طالبانی قیادت ایسا کیا کہتی ہے جس پہ عمل نہیں کرتی؟؟ معلوم حقائق کے مطابق ان کا پیشہ خونریزی ہے اور یقین کیجیے ہم نے تو انھیں ہمیشہ باہمت اور محنتی پیشہ ور ہی پایا ہے۔ اگر اس بات کی وضاحت بھی احسان اللہ احسان کے ذریعے ہو جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ طالبان کے گروہ ’یہ کہتے ہیں‘ اور ’یہ نہیں کرتے‘۔ کیونکہ جب آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ شامل ہونے والے لوگ بھی جذبۂ ایمانی کے تحت ہی ان کا حصہ بنتے ہیں تو یقیناًلوگ وہاں سہ روزہ لگانے تو نہیں جاتے ہوں گئے اور نہ ہی نماز روزہ حج وغیرہ کے لیے جاتے ہوں گئے۔ جہاد کے نام پہ جاتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں۔ قیادت تو جہاد کا ہی کہتی ہے اور جہاد ہی کرواتی ہے۔ اب اس ’جہاد‘ کو احسان اللہ کیسے بیان کرتے ہیں یا کریں گئے یہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ البتہ بھتہ خوری اور عوامی مقامات پہ حملے کو موضوع بنا کر بات کا رخ تبدیل کرنے کی معصومانہ کوشش ضرور کی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی احسان اللہ نے اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار بھی کیا ہے کہ ’اسلام تو ہمیں اس چیز کا درس نہیں دیتا‘۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بتا دیتے کہ ان کے نزدیک جو ’عوامی مقامات‘ پہ کرنا جائز نہیں کیا وہ کن مقامات پہ جائز تھا۔
اس ویڈیو میں ایک مضحکہ خیز بیان بھی جاری کیا گیا جس میں فضل اللہ کی بدکرداری کے لیے اس کا اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کرنا موضوع رہا۔ واللہ عالم یہ ’شادی‘ کا لفظ بیان کو شائستہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا یا ’زبردستی‘ کے پیچھے کچھ اور ہے۔ خیر معاملہ جو بھی ہو اس بات میں اپنے معاشرے سے ایک مانوسیت دیکھنے کو ملی۔ ایسے الزامات ہماری سیاست کا خاصہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ میں تو انھیں خاص اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ جانتے ہیں کہ عوام کی نبض پہ ہاتھ رکھنا ہو تو اس سے زیادہ مؤثر کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ یہاں کسی شخص کی جانب سے ہونے والی ایک کھرب کی کرپشن پہ اتنا شور شرابا سننے کو نہیں ملے گا جتنا اسی شخص کا کسی خاتون کی جانب غور سے دیکھ لینے پہ ہو گا خواہ اس کا دیکھنا کچھ خاص بھی نہ ہو۔ لیکن آفرین ہے ہم لوگوں پہ کہ ہمارا معاشرہ عام سی بات کو خاص بنا دینے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں صاحبانِ اختیار کی جیبوں میں جھانکنے کے باقاعدہ طریقہ کار ہیں جبکہ ہمارے ہاں جیبوں میں جھانکنے کی روایت تو نہ پنپ سکی لیکن شلواروں میں جھانکنا ہر شخص اپنا فرضِ خاص جانتا ہے۔ اسی وجہ سے تو یہاں مر جانے والوں کی شرم گاہوں کو بطور خاص دیکھا جاتا ہے بلکہ تصاویر لینے کا اہتمامِ خاص بھی کیا جاتا ہے۔ اور دیکھ لینے پہ مایوسی ہونے کی وجہ سے ناظرین کا پارہ کچھ اور بھی چڑھ جاتا ہے۔ ویسے ہم بھی کیسے لوگ ہیں ہمارے اہداف بھی کیا کیا ہوتے ہیں۔ معاشرتی اور تہذیبی رویے اتنی آسانی سے ارتقائی سفر طے نہیں کرتے۔ خیر اسی واقعے کی نسبت سے کچھ اشتراک تو ملا اپنے نظام اور طالبانی نظام کے بیچ یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اشتراک بنایا گیا ہو۔
احسان اللہ نے چونکہ رضاکارانہ طور اپنے آپ کو پاک فوج کے حوالے کیا ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ اب رضاکارانہ مہموں کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ویسے جس سفر کا آغاز تین دہائیاں قبل رضاکارانہ طور ہوا تھا اس سفر کا اختتام بھی رضاکارانہ طور ہو تو یہ نیک شگون ہے۔ لیکن یہ تازہ تازہ رضاکارانہ عمل کہیں کسی اور رضاکارانہ سفر کا پیش خیمہ تو نہیں! اگر ایسا ہے تو اہلِ وطن کو اس نئے سفر کے ثمرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ویسے بھی ہمارا کردار صرف تماش بینوں کا سا ہے۔ ہمارا دیکھنا، محسوس کرنا اور ردِ عمل ظاہر کرنا سب ہدایت کار کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے بسنتی کو نچوائے۔ بسنتی پہاڑوں میں بھی ناچے گی اور میدانوں میں بھی۔ اور بوقتِ ضرورت پانی کی لہروں پہ بھی رقص کرنے سے انکار نہ کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *