خوش نما نعروں کے پیچھے

mujeeb-ul-rehman
ایک طرف جناب عمران خان نے وزیر اعظم اور سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ ''جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم‘‘ (جے آئی ٹی) پر دبائو بڑھانے کے لیے جلسہ ہائے عام کا آغاز کر دیا ہے، تو دوسری طرف سپریم کورٹ سے خبر آئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما جناب حنیف عباسی کی طرف سے اپنے حریفوں (عمران خان اور جہانگیر ترین) کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کی سماعت بدھ 3 مئی کو شروع ہو گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تین رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا ہے‘ جس میں ان کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل ہیں۔ حنیف عباسی نے آئین کی دفعہ (3)184 کے تحت ہی مبینہ طور پر آف شور کمپنیاں بنانے، ٹیکس چرانے اور بے نامی جائیدادیں خریدنے کا الزام لگا کر ہر دو حضرات کو قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ ہر دو مدعا علیہان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ درخواستوں میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بیرون مُلک سے غیر قانونی طور پر فنڈز اکٹھے کرکے پاکستان منگوانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
دستور کی دفعہ184 سپریم کورٹ کے ابتدائی اختیار سماعت (ORIGINAL JURISDICTION) کو واضح کرتی ہے، اس کی شق(1) کے تحت ''اسے بہ اخراج ہر دیگر عدالت کے، کسی دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازع کے سلسلے میں ابتدائی اختیار سماعت حاصل ہے‘‘۔ (تشریح کے مطابق حکومتوں سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مراد ہیں) اسی دفعہ کی شق(2) میں واضح کیا گیا ہے کہ شق(1) کی رو سے تفویض کردہ اختیار سماعت کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ صرف استقراری DECLARATORY فیصلے صادر کرے گی۔ اسی دفعہ کی شق(III) کہتی ہے: ''دفعہ 199 کے احکام پر اثر انداز ہوئے بغیر سپریم کورٹ کو، اگر وہ یہ سمجھے کہ (حصہ دوم باب1 کے ذریعے تفویض شدہ) بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے، تو مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار (اسے) حاصل ہو گا‘‘۔ دستور کے نفاذ کے ابتدائی برسوں میں تو اس دفعہ کے تحت دائر درخواستوں کی کوئی قابلِ ذکر تفصیل موجود نہیں ہے۔ حکومتوں کے درمیان تنازعات بھی شاید ہی کبھی یہاں تک پہنچے ہوں۔ عام شہریوں نے بھی اپنے حقوق کے حوالے سے دفعہ199 کے تحت ہائی کورٹس پر دستک دینے کا طریقہ ہی اپنائے رکھا۔ دفعہ199کے تحت ہائی کورٹ کو حق حاصل ہے کہ وہ حکومت (یا اس کے کسی اہلکار کو) ہر وہ کام کرنے کا حکم جاری کر سکتی، اور ہر وہ کام کرنے سے روک سکتی ہے، جو اس کی نظر میں قانونی یا غیر قانونی ہو۔ ہائی کورٹ کو یہ اختیار آزادی کے بعد تفویض کیا گیا۔ دورِ غلامی میں عدالت کو یہ حق نہیں تھا۔ غلامی بنیادی حقوق سلب کرنے ہی کا نام ہے۔ اگر اظہار رائے اور اظہار عمل کی آزادی حاصل ہو جائے تو غلامی آزادی میں بدل جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مجلس دستور ساز نے آزادی کے بعد اعلیٰ عدالتوں کو رِٹ جاری کرنے کا اختیار دیا، لیکن تاریخ عالم کا یہ ایک انوکھا واقعہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت (فیڈرل کورٹ) نے یہ حق وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا تو اس وقت نافذ عبوری آئین کے تحت انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے سپیکر مولوی تمیزالدین کی درخواست پر رٹ جاری کرکے دستوریہ بحال کر دی۔ گورنر جنرل کی حکومت اس حکم کے خلاف اپیل میں گئی تو (آج کی سپریم کورٹ کی پیش رو) فیڈرل کورٹ نے جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں یہ فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹ کو رِٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، چونکہ دستور ساز اسمبلی نے اس حوالے سے جو بل منظور کیا تھا، اُس پر گورنر جنرل کے توثیقی دستخط حاصل نہیں کئے گئے تھے۔ اس لئے دستوریہ بحال کرنے کا حکم ''غیر آئینی‘‘ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آفاقی طور پر دستور ساز اسمبلی خود مختار ہوتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے وقت سے یہ معمول تھا کہ دستور ساز اسمبلی کا کوئی دستوری حکم ان کے دستخطوں کے لیے ان کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تھا... یہ خود بخودکتابِ آئین کا حصہ بن جاتا تھا اور اس کے فیصلوں کو کسی شخص کی توثیق کی حاجت نہیں ہوتی تھی۔ جسٹس محمد منیر اور ان کے ہم نوائوں نے اختیارات کی وسعت کو آگ کا گولہ سمجھ کر دور پھینک دیا، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے سپریم کورٹ اپنے اختیارات میں اضافے کے سفر پر بگٹٹ ہے... دفعہ 184(3) کے حوالے سے اب ہر طرح کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے، کہ کسی بھی مسئلے کو انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر زنجیر عدل ہلائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے پہلا بڑا اجتہاد اُس وقت ہوا، جب 1993ء میں وزیر اعظم نواز شریف کی اسمبلی کو صدر غلام اسحاق خان نے تحلیل کر دیا۔ بے مثل قانون دان جناب خالد انور وزیر اعظم کی طرف سے اہلِ پاکستان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی دہائی دیتے ہوئے براہِ راست سپریم کورٹ پہنچے۔ فل کورٹ نے نہ صرف اسے سماعت کے لئے قبول کیا، بلکہ ان کے استدلال کو بھی پذیرائی بخش دی، اور یوں ہمارے پارلیمانی نظام کو صدارتی انگوٹھے سے نجات دِلا دی۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے 184(3) کا ہنگامہ برپا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے اسے نئی وسعتوں سے آشنا کیا اور پورا ملک اس کی دھمک سے گونجتا رہا... ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں اب ہمارے بعض سیاسی رہنمائوں نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں پر الزامات لگا کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، ان کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف ان کے الزامات کو درست مان کر اعلان کر دیا جائے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اس لیے ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت برقرار نہیں رہ سکتی۔ 184(3) کے تحت 1993ء میں جس وزیر اعظم کی بحالی ہوئی تھی، اب اُس کے تحت اسی وزیر اعظم کی برطرف کو یقینی بنانے کی تدبیریں ہو رہی تھیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، اور دو فاضل جج صاحبان درخواست گزاروں پر مائل بہ کرم ہو گئے لیکن تین نے یہ راستہ روک لیا۔ گویا وزیر اعظم کو ایک اور انگوٹھے سے نجات دلا دی، وگرنہ کسی بھی وزیر اعظم کو گھر بھجوانے کا ایک اور طریقہ ایجاد ہو جاتا۔ فیصلہ ہوا کہ الزامات کی مزید تحقیق ہونی چاہئے۔ اس کے لئے جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی۔ یہ خیال سپریم کورٹ کے اپنے بقول، بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے اخذ کیا گیا ہے کہ بعض بھارتیوں کے بیرون ملک پائے جانے والے اثاثوں کی چھان بین کے لئے بھارت میں بھی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی، اس فرق کے ساتھ کہ اس میں کسی فوجی ادارے کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اس کی سربراہی ایک سابق جج کو سونپی گئی تھی۔ تحریکِ انصاف اور اس کے حلیفوں نے سماعت کے دوران جس طرح دبائو بڑھائے رکھا، وہی تجربہ ایک بار پھر شروع ہے۔ ایک کے بعد دوسرا جلسہ ہو گا، اور وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ ہو گا۔ ان کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل بھی کر دی گئی ہے، حالانکہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خود ہی دوسروں کا سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ان سے ملاقات کا وقت حاصل کرکے اپنی شکایات ان تک پہنچانا ممکن نہیں رہا، اسی لیے وزیر صاحب کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔
خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ اُنہیں پانامہ کے معاملے سے دستبردار کرانے کے لئے حمزہ شہباز شریف کے ایک دوست نے دس ارب روپے کی پیشکش کی تھی، کہا جا رہا ہے کہ اس ''انکشاف‘‘ سے اعلیٰ عدلیہ اور جی آئی ٹی پر دبائو بڑھانا مقصود ہے۔ ایسی خبریں بھی اڑائی جا رہی ہیں کہ فوجی قیادت جے آئی ٹی میں اپنے نمائندے شامل کرنے پر تیار نہیں، اس کے لیے چیف جسٹس کو باقاعدہ درخواست پیش کی جائے گی۔ اگر ان خبروں میں صداقت کی کوئی رمق بھی موجود ہے تو پھر ہم سب کا اللہ حافظ ہے۔ یہ وقت تقسیم در تقسیم کی حوصلہ افزائی کا نہیں، ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے... ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا شوق پالنے والوں کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ وہ اداروں کو بھی اپنی زد میں لے لیں۔ جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کی خواہش انتہائی خطرناک ہے... امید کی جانی چاہئے عسکری اور عدالتی اداروں پر دھونس جمانے والوں کا راستہ روکا جائے گا کہ آپریشن ردّالفساد کا ایک تقاضا یہ بھی ہے۔ فساد صرف مسلح جتھے دار ہی نہیں پھیلاتے، خوش نما نعرے لگانے والوں سے بھی یہ گناہ سرزد ہوتا ہے، اور ہوتا رہا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *